کیا نگران وزیراعظم کا محاکمہ ہوگا؟
محمد علی شریفی

مجلس وحدت مسلمین شعبہ قم کا دفتر ہماری علمی بیٹھک بھی ہے۔یہاں پر ہمیشہ علمی و تحقیقی شخصیات سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ اس مرتبہ تو مجلسِ مذاکرہ کا موضوع بھی انتہائی اہم تھا۔ مجلسِ مذاکرہ میں پیش کئے گئے مطالعات و تحقیقات کا محتوی اتنا اہم تھا کہ اب تک اس پر متعدد احباب قلم فرسائی فرما چکے ہیں۔ راقم الحروف کو بھی اس مجلسِ مذاکرہ میں اظہارِ خیال کا موقع ملا۔ راقم گرمی محفل کا جہاں عینی شاہد ہے وہیں شریکِ محفل بھی تھا۔ پاکستان کے نگران وزیرِ اعظم نے قائداعظم محمد علی جناح کے بارے میں جو کچھ کہا اس حوالے سے میرے مطالعات کا خلاصہ کچھ یوں ہے:
۱۔ کوئی رائے دینے یا قائم کرنے سے پہلے متاثرہ فریق کی رائے معلوم کی جانی چاہیے۔ متاثرین کے موقف کو سامنے رکھ کر بیان دینے کی ضرورت ہے حال ہی میں لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حماس کے ترجمان ڈاکٹر خالد قدومی نے کہا تھا کہ اگر پاکستان حمایت نہیں کرسکتا تو دوریاستی حل پیش کرنے سے بہتر ہے کہ خاموشی اختیار کرلے۔
۲۔انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوتا ہے۔ موجودہ نگراں وزیر اعظم کا یہ بیان اُن کی حُب الوطنی کو مشکوک اور قائد سے عقیدت کے بجائے نفرت کو عیاں کرتا ہے۔ ہمارے ہاں باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت ایسے ہی افراد برسرِ اقتدار لائے جاتے ہیں چونکہ بیرونی طاقتیں قومی غیرت اور نظریاتی حمیت سے عاری افراد سے اپنے من پسند کام لیتی ہیں ۔
۳۔ اس پر عرصے سے کام ہورہاہے جب کسی بھی کسی غلط چیز کو رائج کرنا ہو تو اس کو ایک دم نہیں لایا جاتا آہستہ آہستہ مانوس کراکر اس کی کراہت کو کم کرکے عادی بناکر لایا جاتا ہے۔ حکمرانوں کےاس طرح کے بیانات وقتاً فوقتا آتے رہے تو اسرائیل کو قبول کرنے والی بات سے وہ قباحت آہستہ آہستہ ختم ہوجائے گی تب اگلے مرحلے کےلئے راستہ صاف ہوگا۔
۴۔ بانی پاکستان کی ذات و نظریات پر حملہ، اسرائیل کو سبز جھنڈی دکھانا اور ملت پاکستان کو گمراہ کرنا ، یہ سب قائد کے نام پر بنی ہوئی ایک بلڈنگ پر کچھ جذبانی جوانوں کی طرف سے سے حملہ کرنے سے بڑا جرم ہے۔ یہ حملہ کرنے والا کوئی عام شخص نہیں بلکہ ملک کا وزیراعظم ہے لیکن اس کے باوجود مقتدر اداروں نے اس پر کوئی ایکشن یا از خود نوٹس نہیں لیا جوکہ ملت ِ پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔
جمع بندی:
مجلس وحدت مسلمین شعبہ قم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے ہمیشہ پاکستانی علما اور دانشوروں کیلئے علمی و نظریاتی محافل کے مواقع فراہم کئے ہیں۔ پاکستان سے باہر رہنے والے پاکستانی بھی اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں۔ نگران وزیراعظم نے متاثرہ فریق کی رائے معلوم کئے بغیر ، حُب الوطنی، قائد سے عقیدت ، اور سیاسی شعور کے منافی بیان دیا ہے۔ اُن کا یہ بیان قومی غیرت اور نظریاتی حمیت سے عاری ہے۔ایسے بیانات اسرائیل کی قباحت و کراہت کو کم کرنے کا ایک سلسلہ ہیں۔ مقتدر اداروں نے اس پر کوئی ایکشن یا از خود نوٹس نہیں لیا جوکہ ملت ِ پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ بانی پاکستان کی ذات و نظریات پر حملہ ایک بہت بڑی گستاخی اور جرائت ہے۔ ملکی حالات ایک مرتبہ پھر سانحہ بنگلہ دیش کی طرح ہو چکے ہیں۔ ایسے میں نگران وزیراعظم کا قانونی محاکمہ ضروری ہے۔ تاہم سوال یہی ہے کہ کیا نگران وزیراعظم کا محاکمہ ہوگا؟
خداوندِ عالم ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے۔


افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly