ہماری سیاسی نرسری

ڈاکٹر حفیظ ارحمان 

بلوچستان کے احساس محرومی کو دور کرنے کے لیے اسحاق سنجانی پہ حاصل بزنجو کو کیوں ترجیح نہیں دی گئی کیوں کے اسحق سنجانی فوج کا آدمی ھے اور حاصل بزنجوکسی کا  پھٹو نہیں بن سکتا ۔

فوج نے سیاست دانوں کو یہ پیغام دیا ھے کے ھماری چھڑی کے رحم و کرم پہ رہو گے تو تب اقتدار تک پہنچ سکتے ھو ۔میاں صاحب کے حرام کے تین ھزار کروڑ کس دن کام آیں گے ،کم از کم ایک ادھ ھزار کروڑ سینٹ کے انتخاب پہ خرچ کر دیتے ،اگر پی پی پی کے پی کے کی اسمبلی سے سینیٹر نکال سکتی ھے اور پی ٹی آئی پنجاب سے ،تو میاں کو  ان سینیٹر وں کو خریدنے میں کیا امر مانع تھا اور یا پھر ان سینیٹر وں کو بھی چھڑی سے اتنا ڈر لگتا ھے کے بکنے کو بھی تیار نہیں ۔

پاکستان کے ھر سیاست دان کی نرسری فوج رہی ھے ،بھٹو نے ایوب خان کی گود میں سیاست کے گر سیکھے  تو نواز شریف نے ضیالحق کے سائے تلے سیاست سیکھی ۔چونکے مندجہ بالا سیاست دان کمپیوٹر کے دور کی پیداوار نہیں تھے تو براہ راست نر سری میں حاضری دینا پڑتی تھی ،خان صاحب نے اس نرسری کا آن لائن کورس جائن کر لیا ھے ۔

ڈگری دونوں میں ایک جیسی ھی ملتی ھے ،چاہے آن کیمپس ھو یا ان لائن ھو لیکن مسلہ یہ ھے کے پہلی باری کون لے گا ،زرداری پہلے بھی باریاں لے چکے ہیں اور خان صاحب کے آگےبچے  بھی نہیں تو پہلا حق خان صاحب کا بنتا ھے لیکن انکی فوج سے بنے گی نہیں ،البتہ بیرونی دوروں میں مصروف رہے اور زیادہ اچھل کود نہ کی ،خصوصا بییوروکریسی کی ٹرانسفر اور پوسٹنگ  اور خارجہ پالیسی کے اھم فیصلوں میں ھاتھ نہ مارے اور اب تو سی پیک بھی آ گیا ھے ۔

جس کے کنٹرول میں آرمی دلچسپی رکھتی ھے ،اب حفاظت اور کنٹرول میں فرق ھوا کرتا ھے ،فوج بھی ٹھیک ھی کہتی ھے کے جب حفاظت کرنی ھے تو کنٹرول بھی وہ کریں یہ کام وہ ملک کے ساتھ بھی کر رہے ہیں تو سی پیک کے ساتھ کیوں نہ کریں ،تو تب گزارا ھو جائے گا ۔

فوج آئین کا احترام کیوں کرے ،جب سیاسی رہنما اپنی جماعتوں میں اہین کی پاسداری کا اجترام نہیں کرتے اور اپنی جماعتوں کو ڈیکٹیٹر کی طرح چلاتے پیں تو کیا فوج اس ڈرامے کو نہیں سمجھتی  ،کے  سارا ڈرامہ ھمارے لیے ھے ۔

ھم جانتے ہیں کے تم یہ آئین آئین کا کھیل کیوں کھیلتے ھو اور تم کتنے جمھوریت پسند ھو اور اداروں کی مظبوط کی بات کرتے ھو اور اپنی جماعت کو گھر کی لونڈی سمجھتے ھو ۔چپ رہو اور اپنی اوقات میں رہو ۔


افکار و نظریات: ہماری سیاسی نرسری