انقلاب پاکستان کی پہلی کرن

 ڈاکٹر حفیظ ارحمان

دنیا کی تہذیبوں میں اشرافیہ کا وجود ھمیشہ سے رہا ھے اور رہے گا ،اشرافیہ ھی دراصل معاشروں کو متحرک رکھنے کا ایک ذریعہ  ھے ،ممتاز ھونا اور منفرد ھونا بنیادی انسانی فطرت کا ایک اھم جز ھے اور اس کے ساتھ ھی سہولتوں اور آسائشوں میں برتری بھی محنت سے حاصل کرنا ھر فرد کا بنیادی حق ھے ،یہ کیونکر ممکن ھے کے ایک فرد اپنی محنت سے قیمتی آسائشیں حاصل کرے اور ان آسائشوں سے وہ بھی مستفید ھوں جو محنت سے جی چراتے ہوں ۔

ھمارا اعتراض اشرافیہ کے اس کردار پہ ھے جو سراسر نا انصافی اور ظلم و ستم پہ محیط ھے اور جو سب سے بڑھ غیر اشرافیہ کی عزت نفس کو مجروح کرنے سے متعلق ھے ۔

یہ حقیقت ھے کے معاشروں میں انسان مادی سہولتوں کے لحاظ سے برابر نہیں ھو سکتے لیکن جہاں بنیادی سہولتوں کا تعلق ،پینے کا صاف پانی ،حفظان صحت کے تقاضے ،روٹی کپڑا اور مکان ،سب سے بڑھ کر علم کی روشنی ھر انسان کا بنیادی حق اور ریاست کی ذمہ داری ھے ،جب اشرافیہ ریاست کی اس بنیادی زمہ داری کے راستے میں رکاوٹ بنتی ھے تب انقلاب آتا ھے۔

انقلاب روس اور انقلاب فرانس اسی رکاوٹ کا ھی شاخسانہ تھا لیکن جن ممالک میں اور خصوصی طور پہ جمھوری ممالک میں اشرافیہ نے اپنے کردار کو مثبت کیا ،غیر اشرافیہ کی بنیادی سہولتوں کا احساس کیا ،انکی عزت نفس کو بحال کیا ،انھیں اظہار رائے کی ازادی دی اور انکے چناؤ کو احترام دیا وہاں غیر اشرافیہ نے اشرافیہ کو بھی سر آنکھوں پہ بٹھایا ،ملکہ انگلستان اور انکا خاندان اس کی واضع مثال ھے ۔

ھندوستان میں جمھوری اقدار کو مستحکم کرنے سے غیر اشرافیہ کے نمائندوں کو اقتدار میں آنے کا موقع ملا اور ریاست کو استحکام ملا ۔

عمران خان کو ھم اشرافیہ کا ایک ایسا نمائیندہ کہیں گئے جو ھمیں اپنے طبقے سے بغاوت کرتا دکھائی دیتا ھے ۔ایچ ای سن کالج سے فارغ التحصیل ،آکسفورڈ کا گریجیوٹ اور انگلینڈ کے لارڈز کے کھیل کرکٹ  کا شہزادہ ،لندن کی خوبصورت فضاوں میں انگلستان کی ایلییٹ کلاس میں گھومتا ھوا ایک نوجوان کو قدرت ایک ایسے حادثے سے متاثر کرتی ھے ،جو اس کی زندگی اور اس کی سوچ کو یکسر تبدیل کر دیتی ھے اور اسے احساس ھوتا ھے کے اشرافیہ کا سلوک غیر  اشرافیہ کے ساتھ کس طرح کا ھے اور کتنا بہیما نہ ھے ،وہ جان جاتا ھے کے اشرافیہ نے کس طرح ریاست کو یر غمال  بنایا ھوا ھے اور پانچ فی صد کیونکر پچانوے فی صد کا استحصال  کرتی ھے اور یہ صرف اس لیے ھے کے انصاف نہیں اور پھر تحریک انصاف جنم لیتی ھے ۔

تحریک انصاف دراصل غیر اشرافیہ کی پاکستانی اشرافیہ کے خلاف اعلان جنگ کا نام ھے اور انقلاب پاکستان کی پہلی کرن ۔


افکار و نظریات: انقلاب پاکستان کی پہلی کرن