کون حسینؑ!

تحریر  گلزار حسین فکشن رائٹر

چشم اومن باشم او دست و دلش

تا ربد از مدبر یہا مقبلش,

حق تعالی نے فرمایا میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں اور اس کا دل تاکہ اس کا با اقبال نصیب بدبختیوں سے چھوٹ جاۓ,

یہ الفاظ معلوم نہیں کس کے لیۓ کہے گۓ,  یقیناً ہر باہوش اور عقلمند ضرور کہے گا کہ یہ وعدہ خدا تعالی کا اپنے دوستوں کے ساتھ کیا جا چکا ہے, 

اچھا یہ بات بھی اکثر و بیشتر سامنے آئ ہے کہ جب وہ انسان جس پر کسی دوسرے عظیم انسان کا احسان ہو تو وہ اس احسان کا احساس کیۓ بغیر احسان کرنے والے کا احسان بھول جانا تو الگ اس کی ضد اور مخالفت پہ اتر آۓ, آپ ہی بتایۓ جس نے احسان کیا تھا اس نے اس پاگل کی طرف دیکھا تھا یا کسی اور کی طرف..؟

جی ہاں

احسان کرنے والے نے تو اس لیۓ احسان کیا کہ یہ اس کا فرض تھا اور اس فرض کے نبھانے پہ اس نے انسانیت کے پیدا کرنے والے کی خوشنودی حاصل کی,  جو کہ اس کا اہم مقصد تھا.

پیارے مسلمانو  !

جناب امام حسین وہ پاک ہستی ہیں جنہوں نے ہم پر اس لیۓ احسان کیا تاکہ خدا تعالی کی منشا حاصل ہو,  اس میں کوئ شک نہیں کہ خدا تو ان پہ ہمیشہ سے راضی تھا اور ہے,  اس لیۓ کہ عشق کی انتہا ہوگئ,  جب معشوق سامنے ہو تو عاشق کو صرف دیدار عزیز تر ہوتا ہوتا ہے پھر اس دیدار کی قیمت اپنا سر ہو یا خاندان کے لاشے اسے کوئ فرق نہیں پڑتا. عاشق معشوق کے رنگ میں رنگ جاتا ہے جیسے دیدار یار ہوتا جاتا ہے ادھر کرب و بلا میں لاشے پہ لاشے گرتے جاتے ہیں,  دیدار کا مزہ تو دیکھ اے عقلمند  !

جب معشوق سامنے ہو تو کعبہ قدموں میں معلوم نظر آتا ہے, جب کعبہ والا اور مدینہ والا دونوں کرب و بلا کے مناظر دیکھتے ہیں تو آنسو نکل آتے ہیں,  لوگ کہتے ہیں رخصت تو پاک رسول کی ذات طیبہ بھی ہوئ,  دنیا سے جس دن نبی پاک رخصت ہوۓ اس دن کو بھی غم میں گزارا جاۓ,  اس کے علاوہ کونسا دن ہے یا مہینہ جس میں کسی مومن کی شہادت نہ ہوئ ہو,

میں ایسے لوگوں کو جواب دیتا ہوں کہ اس دن خود خدا کے آنسو نکل پڑے , کرب و بلا کے مناظر دیکھ کر ملائک دنگ رہ گۓ اور خدا تعالی سے کہنے لگے اے پاک پروردگار اسماعیل کی قربانی ہوگئ,  ابراہیم نے خواب سچ کر دکھایا, اے رب ایسے ہوتے ہیں انسان ہمیں معلوم نہیں تھا ہم کم علم ہیں تو سب رازوں سے واقف ہے تو سب جانتا ہے, 

ایسے ہیں جناب حسین جن کے نانا کی اطاعت ہر مسلمان مردوعورت اور اچھے انسانوں پہ فرض ہے,

کوئ بھی مومن, مومن نہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت نہ کرے, وہ پاک نبی جن امام حسین پاک کے لبوں کے بوسے لیتے تھے انہی کا سر قلم ہو اور وہ بھی توحید کی خاطر تو کیوں نہ رویا جاۓ, کیوں نہ غم کروں کہ اسلام کربلا کے بعد زندہ ہوا تھا, کیوں نہ رویا کروں معصوم سے بچے نے ایسی قربانی پیش کی جسکی مثال نہیں دی جاسکے گی,

شرم آنی چاہیۓ ان لوگوں کو جن پہ امام حسین کا احسان ہے,  میں شیعہ, سنی, دیوبندی یا بریلوی نہیں میں مسلمان ہوں,اہلبیت و اطہار و صحابہ کرام کا غلام,,,,,,,

مجھے کوئ متعصب نہ سمجھے,

کھلے دل سے نبی کے نواسے کی شہادت پہ رویا جاۓ اور غم کیا جاۓ کیونکہ ایسا ظلم ہوا ہے وہاں جو کسی دوسرے پر نہیں,

دوستو  !

امام حسین نے رسول اللہ کے کندھوں پہ بیٹھ کر ذلفیں تھامی تھیں, رسول اللہ جب خود روۓ تو خدا رویا حقیقت میں.

ہم کیوں نہ روئیں,

اپنے باپ, ماں, بیٹے, بیٹیوں اور خاص رشتہ داروں کی میتوں پہ رونے والو, اب بھی رو لو,  کھل کے رو لو,

صرف رو کر ماتم کرکے سو نہ جاؤ امام حسین پاک کے فلسفہ توحید و قربانی کو سمجھو اور امام کی پیروی کرو تاکہ توحید سمجھی جاسکے,

کربلا کے بغیر توحید سمجھ میں آجاۓ تو اسے وہم سمجھا جاۓ توحید نہیں,

بڑی بڑی رقوم, گاڑی اور بنگلہ کی چابی لے کر مجلس میں ذاکر بننے والے توحید نہ سمجھا سکیں گے, 

خدا کی قسم دین اسلام بڑی قربانیوں سے مشروط ملا ہے, 

حق تعالی نے فرمایا تم رسول اللہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرو تو میں خود خدا تمہارا دوست ہوں, تمہارے ہاتھ, آنکھیں اور دل بن جاؤں گا,

تو کیا خیال ہے امام حسین جو ہر لمحہ خدا کی خوشنودی کے لیۓ کوشاں تھے اللہ پاک ان کے ہاتھ ان کے کان اور ان کے دل نہ بنا ہوگا,,

اگر اللہ پاک آج کے عام سے انسان کے ہاتھ, آنکھیں اور دل بن سکتا ہے تو جناب حسین کا کیوں نہیں,

ضد اور مخالفت کرنے والے بس اتنا کریں کہ ایسی قربانی پیش کریں, ایسے معیار پہ آئیں اور پھر بات کریں,

اہل بیت و اصحاب پہ مخالفت خود خدا سے ٹکر لینے کے مترادف ہے,  براہ کرم اپنے علم, اپنے قلم اور اپنے ہر ہر لفظ کو مثبت سمت جانے دیں,

یہ سچ ہے کہ کرب و بلا میں اسماعیل کو شہید کیا گیا,

ہاں یہ حقیقت ہے جس نے حسین کے گلے پہ تلوار چلائ اس نے دراصل نبی پاک کے گلے کو کاٹا,

اور جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گلہ کاٹا اس نے حقیقت میں خدا کا قتل کیا,

کرب و بلا میں دراصل خدا تعالی یعنی حق ہی اللہ ہے اور حق کو مٹانا خدا کو مٹانے کے برابر ہے لیکن آپ جانتے ہیں کہ خدا کو قتل نہیں کیا جاسکتا, اسی طرح رسول اللہ کے دین اسلام کو نہیں مٹایا جاسکتا اور اسی طرح حسین پاک کو مارا نہیں جاسکتا,

حق تو حق ہے حق حق ہے حسین اور حق ہے اسماعیل کی قربانی,

میرا مشورہ ہے کہ امت مسلمہ کو متحد ہوکر امام حسین اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں اور کھل کے کریں,

اگر اچھا نہیں لگتا تو نہ روئیں, نہ ماتم کریں ,

مگر کسی کا مذاق نہ اڑائیں, محبت عام کریں, پیار سے بات کریں,  نکتہ توحید کربلا کو سمجھ کر موجودہ سنگین حالات کو درست کرلیں, اور اگر واقعی کرب و بلا میں ظلم ہوتا نظر آ جاۓ تو فلسطین, کشمیر اور روہنگیا کے شہدا پہ بھی رو لیں, قندوز کے حفاظ کرام پہ بھی رولیں,

آرمی پبلک سکول کے شہدا پہ بھی رو لیں, لیکن خدارا,  براہ کرم  کسی رونے والے کا مذاق نہ اڑائیں کیونکہ کرب و بلا کے ظلم کو دیکھ کر خدا کے بھی آنسو نکلے تھے, 

معاف کیجے, فتوی بھی لگادیجے کیونکہ میں نے کہا کہ شہادت امام حسین پہ, شہادت علی اصغر اور شہداۓ کربلا پہ خود خدا کے آنسو بہے تھے,  چادریں بانٹنے والوں کی عزتوں پہ جب درندوں نے مذاق اڑایا تھا تم ایسا نہ کرنا,

دوستو صبر کرو اور اسی صبر کا دامن ہاتھ سے کبھی نہ جانے دو,,,,, 🙏


افکار و نظریات: کون حسینؑ