" میں خدا ہوں "
مقام انسان تک پہنچنے کی چھوٹی سی سعی,,,,,
@
تحریر...... محمد گلزار حسین فکشن رائٹر

انسان کا مقام پہچاننے اور بیان کرنے سے قاصر ہوں پھر بھی آپ کی دعا اور حق تعالی کے نام سے آغاز کرتا ہوں,
حق تعالی نے جب فرشتوں سے کہا کہ میں زمین پہ اپنا وائس یعنی نائب بنانے والا ہوں تو فرشتوں نے چند اعتراضات سامنے رکھے چونکہ جن کا علم اس پاک پروردگار کو پہلے سے تھا کیونکہ رب تعالی ہر ظاہر اور باطن سے باخبر ذات پاک ہے,
آپ ایجوکیٹڈ لوگ ہیں اللہ نے آپ کو بھی اپنے خزانہ سے علم عطاء کیا ہے جس سے آپ انسان کے نائب بننے کی خوشی مناسکتے ہیں,
نائب کیا ہے ؟ یقیناً نائب اسے کہتے ہیں جو کسی ادارے یا شعبہ کے سربراہ کے بعد فرائض سنبھالتا ہے, صرف یہی نہیں بلکہ سربراہ اس نائب سے بہت سے کام بھی لیتا ہے اور یہ کہ اگر سربراہ مصروف ہو تو اپنے نائب کو عارضی وقت کے لیۓ سربراہ بنا کر مختلف میٹنگز میں بھی بھیج سکتا ہے, مجھے یہاں پہنچ کر قلم رکتا محسوس ہورہا ہے کہ اتنے بڑے موضوع پہ زورآزمائ کررہا ہوں,
نائب...... ؟
خدا کا نائب..... ؟
اس کائنات کے ذرے ذرے کا نائب........ ؟
جنوں کا نائب.... ؟
درختوں, پہاڑوں, پھولوں, ریت کے ٹیلوں, سمندروں, ہواؤں, آسمانوں اور زمینوں کا نائب.... ؟

میں مقام انسان بیان کرنے سے قاصر ہوں.....................
پس بصورت عالم صغری توئ
پس بمعنی عالم کبری توئ
یاد رہے جس انسان کا یہ عظیم مقام متعین کیا گیا ہے وہ کون ہے اس سوال کا جواب ڈھونڈے بغیر آگے بڑھنا بے وقوفی سمجھتا ہوں,
انسان کی بھی عقل و شعور کے لحاظ سے تین اقسام ہیں,
1 مکمل عقل و شعور والے
یعنی انبیاء کرام. ع.
2 آدھے عقلمند اور مکمل انسان یعنی وہ جو خود کو پہلے والے یعنی انبیاء کرام علیہ السلام کے پیروکار بن جائیں اور خود کو اندھا سمجھ کر انہی سے روشنی لیتے رہیں , وہ خود کو انبیاء کے بغیر اندھا سمجھتے رہیں,
متصل نبود سفال دو چراغ
نور شاں ممزوج باشد در مساغ

3. تیسرے وہ جو انسان نظر تو آتے کہ وہ انسان ہیں مگر حقیقت میں وہ گدھے ہوتے ہیں اور آگے اسی تیسری قسم میں مزید جو لولہے, لنگڑے, اندھے ,بہرے اور بغیر عقل کے ہوتے ہیں مثال کے طور پر یزیدی لوگ .......
میں بار بار کہہ چکا کہ مقام انسان بیان کرنا بہت ہی مشکل کام ہے, کیونکہ انسان نائب حق تعالی ہے,
حضرت بایزید بسطامی رح, سے ایک اہم قصہ منسوب ہے کہ مستی کے عالم میں انہوں نے سب لوگوں کے سامنے کہا
" میں خدا ہوں "
...خبردار صرف میری عبادت کرو,
جب وہ حالت گزر گئ تو صبح کے وقت لوگوں نے کہا آپ نے ایسا کیا جو درست نہیں ہے, آپ نے فرمایا : اگر اب میں یہ کام کروں میرے اندر چھریاں گھونپ دینا کیونکہ رب تعالی تو جسم سے پاک ہے اور میں مجسم ہوں اگر اب ایسا کہوں تو مجھے کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کردینا, مریدوں نے چھریاں تیار کرلیں.
پھر جب بھاری استغراق سے مست ہوگۓ تو وہ وصیت دل سے نکل گئ, عشق آیا تو عقل بھاگ گئ, یعنی عقل بمنزلہ شمع کے ہے اور عشق سورج جیسا, سورج نکلنے سے شمع بے کار ہوگئ, عقل کا بقا, اللہ کے حجاب نور کے سبب ہے, اگر وہ نور کا پردہ ہٹ جاۓ تو مخلوق اور عقل تاب نہیں لاسکتے اور فنا ہوجاتے ہیں,
گفتہ او گفتہ اللہ بود
گرچہ از حلقوم عبداللہ بود
اسی طرح حضرت بایزید رح, پر جب وہی مستی طاری ہوئ تو اس بار انہوں نے پہلے سے بھی سخت جملہ کہا کہنے لگے " میرے جبہ میں اللہ کے سوا کوئ نہیں ہے اس کو اس جبہ میں تلاش کرلو, زمین و آسمان میں کیوں تلاش کرتے پھرتے ہو "
اس جملہ پر تمام مرید چھریاں لے کر دیوانہ وار ٹوٹ پڑے اور ان کے جسم پہ چھریاں چلادیں, لیکن جو شخص شیخ رح کے جسم میں تلوار گھساتا اس کو تلوار اپنے اندر گھستی محسوس ہوتی, جو گلہ کاٹنے لگتا اس کا اپنا گلہ کٹ جاتا یعنی جس کسی نے بھی جتنا وار کیا اتنا زخمی ہوا جس کسی نے شیخ رح کو سمجھ لیا وہ کم زخمی ہوا یہ واقعہ رات کے وقت پیش آیا تھا.
صبح جب نیم مردہ مریدوں پر یہ حقیقت کھلی تو سینکڑوں لوگ شیخ کی خدمت میں حاضر ہوۓ اور کہنے لگے کہ آپ کے لباس میں کسی ایک شخص کا جسم نہیں بلکہ دونوں جہان ہیں, اگر اس میں انسانی جسم ہوتا تو چھلنی چھلنی ہوگیا ہوتا,
اس سے معلوم ہوا جب کوئ دنیا دار کسی بزرگ سے بھڑتا ہے تو خود کو ہی نقصان پہنچاتا ہے,
.............. اگر یزید انسان ہوتا عقل و شعور والا تو حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور دیگر معصومین کے ساتھ ایسا نہ کرتا وہ تمام لوگ جنہوں نے اہلبیت کو تکلیف پہنچائ حقیقت میں انہوں نے خدا کو تکلیف پہنچائ اور خدا کو تکلیف نہیں ہوتی اس لیۓ انہوں نے خود کو گھاٹے میں ڈال دیا,
حضرت امام حسین خدا تعالی کے سچے عشق میں ایسے گہرائ میں چلے گۓ کہ یزید, یزیدی لشکر اور اب تک کے یزیدیوں کو بے نقاب کرتے گۓ,
اے عقلمند حسین ختم نہیں ہوۓ,
اۓ عقلمند !
حسین تو رحمت اللعلمین نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے ہیں جن کو نائب حق تعالی کہا جاۓ گا اور کائنات کے ذرہ ذرہ کا نائب,,,,,,,,
دراصل یزید نرے کا نرا گدھا تھا اور جو اس وقت اسکی فوج یا حکومت میں موجود اہلبیت و اطہار کے دشمن تھے اور جو آج تک اس یزیدیت کا دفاع کریں وہ بھی درحقیقت نرے گدھے ہیں بلکہ گدھے سے بھی بدتر...
گدھے سے بدتر کے متعلق پھر کبھی بتاؤں گا,
بحرحال یہ ثابت ہوا کہ انسان کا مقام عظیم ہے بس انسان خدا نہیں خدا کا نائب ہے,
کرب و بلا ہمیں توحید کی طرف توجہ دلاتا ہے,
آج بھی جو رشوت ستانی, قتل و غارت, بدچلنی اور ظلم کے پہاڑ گرانے میں پیش پیش ہیں وہ حسین کا نعرہ نہ لگائیں, بلکہ اپنے ساتھی یزید کا نعرہ لگائیں,
آج کا ہر ظالم بھی نبی کا دشمن ہے اور آج کا ہر مظلوم اور راہ حق پہ چلنے والا نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دوست,
اور جو نبی کا دوست وہ خدا کا دوست,,,,,,,,,,
آپ خود بتائیں,
آنسو نہ نکالیں,
نہ نہ غم نہ,
ذرا محسوس تو کیجے جب ظالم نے نبی پاک کے نواسے کی گردن پہ خنجر چلایا ہوگا,
تکلیف کس کو ہوئ ہوگی اپنے دل سے پوچھ لیجے,
جناب علی اصغر کے ساتھ بھی جس نے دشمنی نبھائ کون تھا وہ ؟
ہاں شہید زندہ ہے, بات زندہ کی نہیں, جن پہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احسان کیۓ انہوں نے یہ کیسا بدلہ دیا,
خدا کی قسم یہ ظلم ہوا,
حالانکہ یہ عاشقوں کی ملاقات تھی خود خدا سے, کیسے جلوے دکھاۓ ہونگے رب نے,
دیکھیۓ تو نبی پاک کا گھرانا توحید کا دفاع کررہا ہے,
نعرہ تکبیر کہنے والوں کی گردنیں کٹ رہی تھیں, نہ کریں غم مگر انصاف تو کیجے,
اگر اپنے جسموں, روحوں, ملکوں اور دنیا میں امن چاہتے ہو تو کرب و بلا کی مٹی پہ جاکر وہ سجدہ تلاش کرو,,,,,,,
ورنہ آوازیں آئیں گی کہ
جب کبھی میں سربسجدہ ہوا تو زمین سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں,
اللہ تعالی ہمیں سیدھی راہ پہ چلاۓ, حسین اوراس کے نانا کی راہ پہ آمین


افکار و نظریات: میں خدا ہوں