,, سب ایک جیسے ہیں,,

تحریر....... گلزار حسین فکشن رائٹر 🤔
میں نے عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے چند لمحوں بعد ایک کالم لکھا تھا کہ عوام کو نیا حاکم وقت مبارک ہو,
میرا کام ہے لکھنا اور سچ لکھنا, میں نے لکھا تھا کہ یہ سوال عمران خان کے پانچ سالہ دور حکومت میں بار بار سر چڑھ کربولتا رہے گا کہ اگر نواز شریف صاحب جیل میں نہ ہوتے تو کیا عمران خان وزیر اعظم بن جاتے ؟
ابھی بھی یہ سوال اپنی پرانی جگہ پہ موجود کسی جواب کا منتظر ہے, عمران خان کو مظلوم عوام نے نہیں بلکہ مظلوم اداروں نے بھی وزیر اعظم بنوایا ہے,
جناب عالی!
ابھی تو ڈیل باقی ہے, یہ تو کوئ بڑی ڈیل نہیں جس سے عوام کو دھچکا لگنا چاہیۓ, یہ ایک متوقع خبر ہے اور یہ پہلے ہی معزز عدالت کے معزز جج صاحب نے کہا تھا کہ وقت آنے پہ مناسب فیصلہ, پیارا سا حکم نامہ جاری کیا جاۓ گا,
میری راۓ کے مطابق نواز شریف رہا نہیں ہوے وہ ابھی بھی جیل میں ہیں, اگر مناسب فیصلہ دینا تھا تو الیکشن سے پہلے کیوں نہیں دیا گیا ؟
ہر فکرمند بندہ اس حقیقت سے منہ نہیں موڑے گا کہ نواز شریف صاحب کو ایک بہترین منصوبہ بندی کے تحت قید کیا گیا اور بڑے ہی بھونڈے انداز سے رہا کیا گیا,
میرے کچھ دوست مجھے منفی سوچ والا کہتے ہیں, آج میں ان سے پوچھتا ہوں کہ ایسی ہوتی ہیں عدالتیں جو باپ مرنے کے بعد بیٹے کو جنم دلواتی ہیں,
کہا جاتا ہے باپ مرے توں پچھے پتر جمن کوئ فائدہ نہیں, یہ ساری مک مکا پہلے سے ہوچکی تھی, آج یہ ثابت ہوا کہ سیاستدان جھوٹے ہوتے ہیں, آج ان کے چہروں سے نقاب اتر گیا,
عوام آج پھر مبارک باد کی مستحق ہے کہ اللہ پاک نے نیازی صاحب کے چہرے سے نقاب اتار کے عوام کو ان صاحب کا اصل چہرہ دکھا دیا,
عوام بھی تو کچھ ہوش کے ناخن لے کر ایک دوسرے سے جھگڑا نہ کرے, عوام بھی بے حس ہوچکی ہے بالکل سیاستدانوں کی طرح,
کہا گیا ہے کہ جیسی عوام ویسے حکمران......
واقعی یہ عوام کے لیۓ خوشی کی بات ہونی چاہئے کہ چند دن تبدیلی کو نہیں گزرے اور رخ سے نقاب اتر گیا, جو ابھی بھی کسی وہم میں مبتلا ہیں وہ خود کو ہوش میں لے آئیں, یہ سب کرپشن, لوٹ مار, قتل و غارت اور بدچلنی کے بازار میں ایک ساتھ ہیں, نواز شریف, زرداری, عمران خان یہ سارے ایک ساتھ ہیں, لیکن افسوس .
لیکن افسوس کہ ان سب کے کالے کرتوتوں میں پاکستان کے معزز لوگ بھی شامل ہیں جن کا نام لکھوں تو توہین عزت کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے,
آج میاں محمد نواز شریف صاحب کا باعزت رہائ پانا صرف عمران خان اور اس کی ٹیم کے چہروں پہ زوردار تھپڑ ہے بلکہ معزز اداروں کی کھوکھلی پالیسیوں کے بے نقاب ہونے کا ذریعہ بھی.............................!
السعود, سعودی عرب, مکہ کے متولیوں نے پاکستانی قوم کو نشے میں دھت کردیا اور قوم ہاۓ ہاۓ اور واہ واہ کا کھیل کھیل رہی ہے,,
نواز شریف صاحب اگر سچے تھے تو انہیں اتنی بڑی سزا کیوں دی گئ, مجھے تو آج جناب شوکت صدیقی کی باتیں یاد آرہی ہیں,
افسوس کہ پاکستان کے اہم ادارے بھی اس کھیل میں پیش پیش ہیں,
شرمناک معاملہ یہ ہے کہ نامعلوم افراد کا ابھی تک کچھ معلوم نہیں, اگر ہمارے ادارے نامعلوم افراد کا سراغ لگانے سے قاصر ہیں تو کیا توقعات رکھی جائیں ؟
بحرحال عوام نے ابھی بہت کچھ برداشت کرنا ہے, ابھی بہتوں کے نقاب اترنا باقی ہیں,
اس کے ساتھ ہی عوام واقعی مبارک کی مستحق ہے, ثناء اللہ صاحب حج کر لیں اور عوام دیکھ لیں,
عمران خان صاحب نے ابھی تو سعودیہ کا دورہ کیا ہے, امریکہ اور چین باقی ہیں,
ہماری اگلی بات چیت کبھی ہوئ تو اسی موضوع پہ پوگی کہ عمران خان تین روزہ دورے پر دو افراد کے ہمراہ سادگی اپنا کر امریکہ پہنچ گۓ ہیں,
پہلے چین جاتے ہیں یا امریکہ رخ سے نقاب اتر جاۓ گا اور چائنہ کی دوستی کا بعد میں ذکر ہوتا رہے گا, چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب, نیب کے چیئرمین صاحب اور فلاں صاحب اس وقت قوم کا تماشا دیکھ کر قہقے لگا رہے ہوں گے,
مگر یاد رکھیں سب جو ایک بازار میں ہیں,
پاکستان کا مطلب ہے لاالہ الااللہ
اسے کوئ نہیں مٹا سکتا,
سیاستدانوں کے گیت گانے والے اور نیب کے چمچے گریبان میں ضرور جھانکتے ہوں گے,,,,
شکر گزار ہوں آپ کا کہ آپ نے اپنا وقت دیا,
اللہ آپ کو اور ہم سب کو ہدایت عطاء کرے, خوشیاں عطا کرے آمین,,
دعا اس لیۓ دی کہ گالیوں سے بچ سکوں جو کہ ناممکن ہوگا, ,


افکار و نظریات: سب ایک جیسے ہیں