بائیس سال اور دائرے کاسفر۔۔۔

محبوب اسلم

 کون کہہ سکتا تھا کہ آج سے بائیس سال پہلےشروع ھونے والا تبدیلی کاسفر آج یو ٹرن لیکر وھیں آ کھڑا ھوگا جہاں ملک میں قانون صرف کمزور کیلئے ھوگا۔۔۔جمہوریت کو ملٹری اور عدلیہ ملک کر پامال کرے گی اور کرپٹ وذلیل عزت پائینگے؟؟؟

 کیا ھوا آپ کویقین نہیں آتا؟؟؟

 تو چلیئے اس دائرے کے سفر پر چلتے ھیں۔ مادرملت محترمہ فاطمہ جناح کا نام توسناھی ھوگا آپ نے۔ اسوقت بھی ایک ملٹری آمر نے کرپٹ اور ذلیل سیاستدانوں کوساتھ ملاکر اس ملک میں جمہوریت اور عوام دوستی کا گلہ گھونٹا تھا۔ پھر کچھ سالوں بعد یہی عمل بھٹو کیساتھ دھرایا گیا۔ لیکن اسدفعہ عدلیہ بھی ملٹری کیساتھ حصہ دارتھی۔۔۔اسوقت بھی بھٹو کی کرپشن اور مطلق العنانیت کا ڈھنڈورا پیٹا گیا تھا۔۔۔اور ھم نے دیکھاکہ کسطرح ملک کی اعلی عدالت نے ایک قتل میں اپنا حصہ ڈالا۔

 آج بھی نواز شریف کی کرپشن کی آڑ میں عدلیہ اور ملٹری کرپٹ سیاستدانوں کیساتھ ملکر اس ملک کوترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے درپے ھیں۔ نواز شریف مانا کہ کرپٹ ھےتو چوھدری پرویز الہی، علیم خان، پرویز خٹک اور جہانگیرترین کون سےدودھ کے دھلے ھیں؟؟؟ ایک بار پھر ملٹری اورعدلیہ قانون اور انصاف کااطلاق تاک تاک کر من چاھے لوگوں پر کر رھے ھیں۔  

 عوام کے پچاس پچاس سالوں کے کاروبار غیر قانونی تجاویزات کی آڑ میں زمین بوس کر دئیے گئے اور ڈونکی کنگ کے اپنے گھر کی غیر قانونی تعمیر پر ریگولائیزیشن کا حکم آگیا۔۔۔نواز شریف کی غیر ملکی جائیداد پر احتساب اور علیمہ خان کی غیر ملکی جائیداد پر ایمنسٹی کا قانون نافذ۔۔۔کوئی یہ تو پوچھےاربوں روپے علیمہ خان صاحبہ نے آخر چھاپے کہاں سے؟؟؟ ظاھر ھے کہ چندا کھانے والی عورت ھے۔ ادھر بھائی چار سالوں سے فارن فنڈنگ کیس سے بھاگ رھا ھے۔۔۔لیکن ھم سابقہ پارٹی ورکرزکو ان فنڈز کی چوری کی ساری حقیقت بخوبی معلوم ھے!

دوری طرف اس ملک کا صدر پارٹی کا وہ جنرل سیکریٹری ھے جس کی ناک کے نیچے پارٹی فنڈز کا غبن ھوا اور پارٹی الیکشن میں دھاندھلی کی گئی۔ سندھ کا گورنر پارٹی کے سمندر پار پاکستانیوں کے پیسے دبئی میں پراپرٹی بزنس کے نام پر کھا گیا!!!

 دوسری طرف ملک کا چیف جسٹس اپنی پوری فیملی سمیت کھلےعام پارٹی کے فنانسیر کی مہمان نوازی سے لندن میں لطف اندوز ھوتا ھے۔ یعنی اس کام میں اب شرم و حیا کا کوئی کام باقی نہیں رھا۔ مغرب جس کی مثالیں دیتے یہ نہیں تھکتے میں شاید ھی کانفلیکٹ آف انٹرسٹ کی کبھی اسطرح ایسی تیسی پھیری گئی ھو؟؟؟

 تو یہ حال ھے پاکستان کا بائیس سال کی جدوجہد کے بعد۔۔۔پبجابی میں کہتےھیں جتھو دی کھوتی اتھے آن کھلوتی۔۔۔یعنی آسان لفظوں میں اسٹیبلیشمنٹ کو ایک ڈونکی راجا مل چکا ھے۔  

لیکن ھمارا سوال اھل وطن سے یہ ھے کہ یہ وہ نیا پاکستان نہیں ھے جس کیلئے ھم نے اس ڈونکی راجا کاساتھ دیاتھا۔ معاشیات میں ایک کانسپٹ ھوتا ھے سنک کاسٹ کا یعنی کسی چیز کی وہ قیمت جو ماضی میں ادا کردی گئی ھواسکا مستقبل سے کوئی لینا دینا نہیں ھوتا۔۔۔مستقبل کے فیصلوں میں اس سنک کاسٹ کو شامل نہیں کیاجاتا۔۔۔پی ٹی آئی اور عمران خان پاکستان کے مستقبل کے حوالے سےایک سنک کاسٹ ھیں اور ایک بہتر پاکستان کی تعمیر کیلئے ھمیں ان سے آگے دیکھنا پڑیگا۔۔۔ بقول فیض:

 ابھی چراغ سر رہ کو کچھ خبر ہی نہیں

ابھی گرانی شب میں کمی نہیں آئی

نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی

چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں‌ آئی​۔۔۔

 قوم کو فیصلہ کرناھے کہ ایک چور اور ٹھگ کے بعد جیب کتروں اور رسہ گیروں کی اسی حکومت پراکتفا کرتے ھیں جس کے پیچھے ملٹری اور عدلیہ صرف من چاھے طاقتور کو سہارہ دینے کیلئے کھڑی ھیں اور یوں دائرے کا سفر جاری رکھنا ھے یا پھر آگے بڑھتے ھوۓ حقیقی منزل کیطرف رواں دواں رھنا ھے اور ایک نئی جدوجہد کا آغاز کرنا ھے؟؟؟


افکار و نظریات: بائیس سال اور دائرے کاسفر۔۔۔