ڈونکی کنگ اور احتساب۔۔۔دائرے کا سفر تبدیلی کی نوید نہیں بن سکتا!!!

محبوب اسلم

آج سے کچھ چالیس سال کا پرانا قصہ ھے کہ ایک دن جس نیول کالونی میں ھمارا گھر تھا وھاں موجود سنٹرل آفیسر میس میں اسوقت کے نام نہاد نجات دھندہ آرمی چیف اور صدر پاکستان ضیاالحق کی آمد متوقع تھی۔ میں غالباً چھٹی جماعت میں پڑھتا تھا۔ اپنے محلے میں آرمی چیف اور صدر پاکستان کی آمد ذھن پر نقش سی ھو کر رہ گئی۔ ایک آرمی چیف بھلا کیونکر ملک کا صدر ھوسکتا ھے؟میرا ذھن یہ باریکیاں سمجھنے کے قابل نہ تھا۔ پھر اسی آرمی چیف نے نواز شریف کو گود لیکر اقتدار کی اگلی پیچیدہ منزلیں طے کیں۔ عمر کیساتھ ساتھ ملک کے ایک اور سپوت فیلڈ مارشل ایوب خان کے ذوالفقار علی بھٹو کو گود لینے کی کہانی بھی آشکار ھوئی۔ اور ساتھ ھی ساتھ محترمہ فاطمہ جناح کیساتھ ھونے والی زیادتی کا بھی عقدہ کھلا۔

دوسری طرف اسی ذوالفقار علی بھٹو کی عدلیہ اور آرمی کی ملی بھگت سے پھانسی کی کہانی بھی سمجھ میں آئی۔ اور پھر بینظیر بھٹو اور نواز شریف کےبیچ میوزیکل چئیر کا ڈرامہ بھی دیکھنے کو ملا۔ پھر کمانڈو جنرل کا ڈنڈا اور بینظیر کی موت تو ابھی کل کی بات لگتی ھے۔ کمانڈو کے ڈنڈے کے بعد مسٹر ٹین پرسنٹ اور پھر پانامہ اوراقامہ کی حقیقت بھی کھلی۔لیکن ساتھ ساتھ کمانڈو جنرل کے چک شہزاد سے لیکر دبئی اور لندن تک پراپرٹیز عیاں ھوگئیں۔ نیز جنرل کیانی کے بھائیوں کے کاروبار کی بھی خبریں نکل آئیں۔

اب آپ کو کچھ کچھ سمجھ آگیا ھوگا کہ آج ستر سال بعد آرمی اس کھیل میں بہت کچھ سیکھ چکی اور ڈونکی کنگ بننے والے امیدوار بھی تجربہ کار ھوچکے۔ ستر سال بعد اب براہ راست مارشل لا کی ضرورت نہیں رھی بلکہ کسی بھی ڈونکی کنگ کو کھڑا کر کے یہ مقاصد پورے کئے جاسکتےھیں۔ دوسری طرف سیاستدانوں نے کرپشن کے جو ریکارڈ قائم کئے اس نے آرمی کی راہ مزید ھموار کی۔ یوں احتساب کے نام پر عدلیہ اور آرمی کا گٹھ جوڑ عوام کےحلق میں ٹھونسا جا رھا ھے۔ لیکن مسئلہ اگر کرپشن کی حد تک ھی ھوتا تو پھر کرپشن تو پی ٹی آئی اور اسکے حلیفوں نے بھی رَج کر کی ھے۔۔۔لیکن احتساب کا ڈنڈا ادھر نہیں چلتا؟مسئلہ شاید کرپشن کا نہیں بلکہ کرپشن کے مال کی بندر بانٹ کا ھے؟آرمی اب اپنا حصہ بقدر جثہ مانگتی ھے!!!

پاکستان میں آج عملاً مارشل لا نافذ ھے۔۔۔اور عدلیہ آرمی کے ھاتھوں کھلے بندوں استعمال ھورھی ھے اور خوش فہمی یہ ھے کہ احتساب ھورھا ھے جبکہ کھلےعام ملک کی عدلیہ جیسےاھم اور عزت دار ادارے کو ربڑ اسٹمپ کیطرح استعمال کرکے اسکو تہس نہس کیا جا رھا ھے۔آج پھر آرمی نے ایک سیاسی گماشتے کو گود لیا ھے۔۔۔ماضی سے اگر سبق سیکھا جاۓ تو اس ڈونکی کنگ کا انجام اظہرمن الشمس ھے۔۔۔اور پاکستان کے دائرے کا سفر رواں دواں ھے۔

لیکن اصل سوال یہ ھے کہ عوام کب تک ان کرپٹ سیاسی اور فوجی قوتوں کے ھاتھوں ماموں بنتے رھینگے؟؟؟ عوام جس دن اس سوال کا جواب ڈھونڈھ لینگے اس دن انکےحالات بدلنا شروع ھو جائینگے۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد لیاقت علیخان کےقتل سے لیکر محترمہ فاطمہ جناح کیساتھ عوامی اور قومی مفادات کیخلاف کرپٹ سیاسی اور فوجی طاقت کا شرمناک گٹھ جوڑ آج تک کسی نہ کسی شکل میں جاری ھے۔

اس شیطانی چکر سے نجات حاصل کرنا مشکل ضرور ھے لیکن ناممکن نہیں۔ عوام کو ان استحصالی طاقتوں کیخلاف جدوجہد کرنا ھوگی۔ لیکن کوئی شخصی بت، کوئی ڈونکی کنگ ٹائپ لیڈر اس جدوجہد کا سرخیل نہ کبھی بنا اور نہ اب بن سکتا ھے۔ یہ صلیب عوام کو اپنےکندھوں پر خود ھی اٹھانا ھوگی۔ ایک ایسی عوامی سیاسی تحریک جو اجتماعی فیصلہ سازی اور رول آف لا پر یقین رکھتی ھو اور جو خوداحتسابی پر کامل ایمان رکھتی ھو۔۔۔وھی اس شیطانی چکر کا توڑ ھو سکتی ھے۔ وگرنہ آرمی اور ڈونکی کنگز کا یہ کھیل لیاقت علیخان کی شہادت سے جو چلا ھےتو ھمارے سروں پر آمروں اور سیاسی گماشتوں کو ھی ”لیڈر“ بنا کر ھی مسلط کیاگیا!!!

اس ضمن میں اپنے دوستوں کیساتھ مقدور بھر کوششیں جاری ھیں۔اور بہت جلد آپ احباب کے سامنے اس عوامی پلیٹ فارم کے خدو خال پیش کرئینگے۔ ان شا اللہ!




افکار و نظریات: دائرے کا سفر