دور کے ڈھول سہانے۔۔۔

مجبوب اسلم

 اللہ گواہ ھے کہ اس ڈونکی کنگ کو لیکر جو باتیں میں عرصۂ دراز سے لکھتا آیا ھوں، آج وہ باتیں قوم کے سامنے پوری طرح عیاں ھو چکیں ھیں۔۔۔لیکن اس بیچ وقت بہت ضایع ھو گیا! لیکن پھر سوچتا ھوں کی قوموں کی زندگی میں چار پانچ سال کا عرصہ کوئی زیادہ عرصہ نہیں ھوتا۔ چلیئے اسی بہانے اس قوم کو اور اس ڈونکی کنگ کو چلانے والوں کو بخوبی اندازہ ھوگیا کہ صرف ھوائی باتیں کرنے سے مسائل حل نہیں ھوتے اور انسان کی اصول پسندی کا کوئی نعم البدل نہیں ھوتا۔ 

پاکستان میں حقیقی تبدیلی اسٹیبلیشمنٹ اور انکے چنے ھوۓ کھوتے کبھی نہیں لا سکتے۔ لیکن یہ بات بظاھر اسٹیبلیشمنٹ کو بھی اچھی طرح معلوم ھے لیکن معاملہ نیت کا ھے۔۔۔کیا اسٹیبلیشمنٹ اس ملک کے حالات درست کرنے میں واقعی سنجیدہ ھے؟؟؟

میرے خیال میں یہ عقل کل کا زعم رکھنے والے جان بوجھ کروہ کھوتا کنگ کھڑا کرتے ھیں جو انکےسامنے سپر ڈالے رکھے۔۔۔یوں ملک میں حقیقی تبدیلی انکا مقصود نہیں ھے۔ ملک میں زرداری اور نواز شریف کی کرپشن اگر مسئلہ ھوتی تو پھر پرویز مشرف کی لوٹی ھوئی دولت کا بھی حساب ھوتا اور جہانگیر ترین جیسے قرضہ مافیا کا بھی احتساب ھوتا۔ اگر حقیقی تبدیلی پیش نظر ھوتی تو علیمہ بی بی کی روز بروز دریافت ھوتی بیرون ملک جائیدادوں اور ڈونکی کنگ کے پارٹی فنڈز کی چوری پر انصاف ھو چکا ھوتا؟؟؟

یوں مسئلہ کرپشن کا نہیں لگتا۔۔۔یہ ضرور اختیارات اور حصے باٹنے کی جنگ ھے۔ باقی رھے عوام تو وہ جیسے تیسے گذارا کر ھی لیتے ھیں وگرنہ خود کشی کا دروازہ تو کھلا ھی ھے۔ لیکن میں سمجھتاھوں کہ خود کو مارنے سے بہتر ھے حالات کا مردانہ وار مقابلہ کیا جاۓ۔ عوام کو اگر مرنا ھی ھے تو پھر بہتری کی کوشش کرتے ھوۓ جان کیوں نہ دی جاۓ؟

ھر ذی شعور پاکستانی جانتا ھے کہ غلط کیا ھے اور درست کیا۔ مثلاً جہاں نواز شریف کی بیرون ملک جائیدادوں کی ذرائع آمدن کا سامنے آنا ضروری ھے بلکل اسی طرح یہ جاننا بھی ضروری ھے کہ علیمہ خان کی بیرونی جائیداد کیلئے پیسے کا منبع کہاں ھے؟ جس طرح اسحاق ڈار کے ملکی قرضہ جات کا ناجائز استعمال غلط ھے بین اسی طرح جہانگیر ترین کے اربوں روپے کے قرضوں کی معافی قومی جرائم میں شامل ھے۔ جہاں زرداری کےبینک اکاؤنٹز کی تفصیلات سامنے آنا چاھئیے بلکل اسی طرح پی ٹی آئی کے پارٹی فنڈز کے اکاؤنٹز کی تفصیلات سامنے آنی چاھئیے کہ کس کس نے اس بہتی گنگا میں اشنان کیا؟

کون ذی شعور پاکستانی دو طرح کے پاکستان کو سپورٹ کر سکتا ھے۔ ایک وہ جو عام آدمی کی ناجائز تجاوزات پر لاگو ھو اور دوسرا وہ جو بنی گالا اور حیات ھوٹل کی ریگولرائزیشن پر لاگو ھو۔۔۔یہ وہ تضادات ھیں جن کے بارے میں میرے جیسے سابقہ پارٹی کے نظریاتی ورکرز نے بارھا مطلع کیا اور اپنی بساط بھر جدوجہد جاری رکھی۔ لیکن اسوقت عمران خان کا طوطی بول رھاتھا۔ پی ٹی آئی کی اندرونی کرپشن کا ڈھول بہت دور تھا۔۔۔لیکن آج یہ ڈھول کانوں کے بہت قریب آچکا اور کان پھاڑے دے رھا ھے۔ آج میرے حسن نثار جیسے دوست سر پیٹ رھے ھیں کہ یہ کیا ھو رھا ھے لیکن کل تک یہ میری بات پر یقین کرنے کو تیار نہ تھے۔۔۔کہ جو کھوتا پہلوان پریکٹس کے دوران ایک من وزن اٹھانے پر چیں بول دے وہ مقابلے میں چار من وزن بھلا کیونکر اٹھا سکتا ھے؟شاید یہ سب لوگ تبدیلی کی شدید تر خواھش میں حقیقت سے آنکھیں چرا رھے تھے۔

لیکن زندہ قومیں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتیں ھیں۔ بجاۓ اپنے حال پر نوح خوانی کرنے کے، زندہ قومیں ایک نئے ولولے سے اوپر اٹھتی ھیں۔ میرا ایمان ھے کہ ھماری قوم میں اللہ نے بلا کا پوٹینشل بھر رکھا ھے۔ بقول اقبال۔۔۔ذرا نم ھو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ھے ساقی۔۔۔والا معاملہ ھے۔

ھمیں حالات سے گھبرا کر پھر انھیں چلے ھوۓ کارتوسوں  پر تکیہ نہیں کرنا اور نہ ھی اس ڈونکی کنگ کو مزید گاجریں کھلانا ھیں۔۔۔ھمیں ایک نئی جدوجد کا آغاز کرنا ھے جہاں ھم کسی ایک فردواحد پر تکیہ نہ کریں۔ جہاں اجتماعی سوچ فرد واحد کی سوچ پر حاوی ھو۔۔۔جہاں فیصلے میرٹ پر ھو۔۔۔جہاں لیڈر عوام سے اوپر آۓ اور عوام کے مسائل کو اپنے تن پر بیتے ھوۓ تجربات سے جانے۔ جہاں سیاسی پارٹی ایک ادارہ ھو اور جہاں ایک لیڈر کے آنے اور جانے سے کوئی فرق نہ پڑے بلکہ پارٹی کا عوام دوست نظریہ قائم ودائم رھے۔ جہاں سیاسی پارٹی اقتدار میں آنے کے بعد عوام کے مسائل حل کرنے کا دعوہ نہ کرے بلکہ اپنی مدد آپ کے تحت سیاسی پارٹی کے ورکرز پہلے دن سے عوام کے مسائل حل کریں۔ جہاں خوداحتسابی صرف ایک نعرہ نہ ھو بلکہ روزمرہ کی معاملات پر لاگو ھو۔ جہاں ملکی اور بین الاقوامی معاملات اور خصوصاً معاشیات پر تھنک ٹینکز پہلے دن سے کام کر رھے ھو۔ جہاں سیاسی پارٹی شیڈو گورنمنٹ قائم کرے اور تنقید براۓ تنقید کے بجاۓ مسائل کا حل پیش کرے۔۔۔

کیا ایسا ممکن ھے؟؟؟ جی بالکل ممکن ھے۔۔۔دنیا کی دوسری اقوام یہ کر کے دکھا چکی ھیں۔ شرط صرف اخلاص نیت اور محنت ھے۔۔۔ان شا اللہ۔۔۔کچھ دوستوں کی مدد سے ایسےھی ایک پلیٹ فارم پر کام ھورھا ھے۔ بہت جلد آپ کے سامنے پیش کرؤنگا اور مدد کی درخواست ھوگی۔۔۔یاد رکھیں۔۔۔اللہ صرف اس قوم کی قسمت بدلتاھے جو اپنی قسمت بدلنے کی خود سعی کرتی ھے!!!


افکار و نظریات: دور کے ڈھول سہانے