ساہیوال۔۔۔پولیس نے قتل کے بعد لوٹا بھی

نوائے وقت اداریہ

ہفتہ 19 جنوری کو سی ٹی ڈی کی جانب سے دن دہاڑے بربریت اور سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جس انداز میں ساہیوال کے قریب ایک آلٹو گاڑی کو روک کر اس پر بے دریغ فائر کھولے گئے جسکے نتیجہ میں گاڑی میں موجود لاہور کا خلیل‘ اسکی اہلیہ‘ تیرہ سالہ بیٹی اور گاڑی کا ڈرائیور ذیشان جاں بحق ہوا‘ اسکی سوشل میڈیا پر ویڈیو اور تصاویر دیکھ کر پوری قوم پر عملاً سکتے کی کیفیت طاری ہوگئی۔ اگر جائے وقوعہ پر سی ٹی ڈی کی گاڑی کے پیچھے موجود مسافر بس کے ایک سوار کی جانب سے اس وقوعہ کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر نہ ڈالی گئی ہوتی تو اول تو یہ اندھے قتل کی واردات قرار پاتی یا اس پر سی ٹی ڈی کا گھڑا گھڑایا موقف ہی تسلیم کرکے ’’سفاک دہشت گردوں‘‘ کو کامیاب اپریشن میں مارنے پر سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کیلئے قومی اعزازات بھی تجویز کئے جاچکے ہوتے جن کی اس واردات کو سی ٹی ڈی کی جانب سے دہشت گردوں کیخلاف کامیاب اپریشن قرار دیا جا چکا تھا اور میڈیا کو جاری کی گئی اسکی رپورٹ میں ڈرائیور ذیشان ہی نہیں‘ خلیل‘ اسکی اہلیہ نبیلہ اور معصوم بچی اریبہ کو بھی دہشت گرد قرار دیا جاچکا تھا۔ جب خلیل کے معصوم بیٹے نے میڈیا سے بات چیت کے دوران بتایا کہ اسکے امی ابو کو پولیس والوں نے گولیاں ماردی ہیں اور مجھے اور میری بہنوں کو پٹرول پمپ پر اتار دیا ہے تو سی ٹی ڈی کی اس سانحہ کے بارے میں گھڑی گئی کہانی کا بھانڈہ پھوٹا۔

اس سے زیادہ افسوسناک یہ صورتحال ہے کہ وقوعہ کے چند ہی لمحوں بعدوفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری اور وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے میڈیا کے روبرو اس سانحہ کے حوالے سے سی ٹی ڈی کے اپریشن کی حمایت شروع کردی اور مقتولین کو دہشت گرد بنانے والی سی ٹی ڈی کی رپورٹ پر ہی صاد کرلیا۔ اگرچہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے اس سانحہ پر گہرے صدمے کا اظہار کیا اور انصاف کے تقاضے بروئے کار لانے کا یقین دلایا مگر اس سانحہ کے اگلے روز چار صوبائی وزراء نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کا انعقاد کرکے اس سانحہ کے حوالے سے سی ٹی ڈی کے موقف کی نہ صرف تائید کی بلکہ ڈرائیور ذیشان کے داعش کا رکن ہونے اور اس حیثیت میں دہشت گردی کی مختلف وارداتوں میں شریک ہونے کی بھی اپنے تئیں تصدیق کردی اور اس موقف کو تقویت پہنچانے کیلئے گوجرانوالہ میں اسکے دو مبینہ ساتھیوں کے خود کو دھماکے سے اڑانے کا معاملہ بھی اسی کے ساتھ زیب داستان بنا دیا۔ یہ طرفہ تماشا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے تو اس سانحہ کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا اور اس سے 72 گھنٹے میں رپورٹ طلب کی مگر پنجاب حکومت کے چار وزراء اور بعض دوسرے حکومتی حلقے جے آئی ٹی کی رپورٹ سے پہلے ہی مرنے والوں کو دہشت گرد ثابت کرنے میں مصروف رہے جس سے یقیناً عوامی غم و غصہ میں اضافہ ہوا اور لاہور‘ ساہیوال اور بورے والا میں لوگوں نے سڑکوں پر آکر اس حکومتی موقف کیخلاف زبردست احتجاج کا سلسلہ شروع کردیا جس سے یقیناً حکومت کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا اور میڈیا کے علاوہ دوسرے مختلف حلقوں میں بھی بجاطور پر یہ سوالات اٹھنا شروع ہوگئے کہ سی ٹی ڈی کو کسی دہشت گرد کو زندہ پکڑنے کے بجائے اسکی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت نہ ہونے کے باوجود اسے مارنے کا اختیار کیسے مل گیا۔ اس حوالے سے مقتول خلیل کے بھائی جلیل نے مختلف ٹی وی چینلوں پر گفتگو کے دوران وقوعہ کے بارے میں جو المناک داستان سنائی ہے‘ اس سے انسانیت ہی شرمسار نہیں ہوئی‘ وردی کا تقدس بھی مجروح ہوا ہے۔ اسکے مطابق سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے اسکی مقتول فیملی کے ساتھ ڈکیتی کی واردات کی ہے جنہیں بے دردی سے قتل کرنے کے بعد انہوں نے اریبہ اور نبیلہ کے طلائی زیورات بھی پوری سفاکی کا مظاہرہ کرکے اتار لئے جس کا ثبوت انکے پھٹے ہوئے کان ہیں۔ اسی طرح انہوں نے گاڑی میں موجود بیگ پر بھی ہاتھ صاف کیا جس میں پارچات اور زیورات کے علاوہ نقدی بھی موجود تھی۔ اس واردات میں زخمی ہونیوالے بچے نے مزید بھانڈہ پھوڑا کہ اس نے اپنے ابو کا موبائل فون اٹھایا تو ایک اہلکار نے اسکے پائوں کو اپنے بوٹوں سے مسلتے ہوئے اس سے وہ موبائل بھی چھین لیا۔

https://www.nawaiwaqt.com.pk/23-Jan-2019/973678


افکار و نظریات: ساہیوال۔۔۔پولیس نے قتل کے بعد لوٹا بھی