🌹ہم درندے جو نا ہوتے 🌹

افسانہ نگار,,,,,,,,, گلزار حسین

مالکن جی کیا میں بھی ماں بن سکتی ہوں ؟
تارا کا یہ معصومانہ سوال اس کی روح تک اتر گیا اور اترتے ہی کلیجے کو اپنی گرفت میں لیا پھر بدن کو چیر کر باہر نکالنے لگا.وہ نہ خاموش ہونے والی بےسدھ ہوگئ اور تارا کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے ہوۓ کسی گہری کھائ میں گر چکی تھی مالکن ایسی عورت تھی جو بڑے بڑے ہوشمندوں کے ہوش خطا کردیتی تھی. رنگ ڈھنگ اور قد کاٹھ میں گوری اونٹنی کی طرح تھی وہ اس کوٹھے کو روزی روٹی کا اڈہ کہتی تھی اور قسم دیتے وقت یہی کہتی " مجھے اس روزی کے اڈے کی قسم "
"مالکن آپ ناراض تو نہیں ہوئیں نا میرے سوال کرنے پہ " تارا نے مالکن کے پاؤں دباتے ہوۓ پوچھا
مالکن یکا یک جیسے نیند سے جاگی ہو اس کی سرد آہ نکلی بدن ہل سا گیا چہرہ سرخ ہوگیا لب خشک ریت کی طرح بارش کے منتظر تھے جیسے اور ادھر بادل چھانے لگے ایک گرج ہوئ اور برسات شروع ہوگئ ایسی برسات کہ مالکن کے چہرے پہ مینہ کے قطروں کا سیلاب تھا جو آنکھوں سے امڈ پڑا تھا یہ سیلاب اس کے خشک ریت جیسے ہونٹوں کی جانب رواں تھا مگر جتنی دیر بادل گرجتے رہے بارش ہوتی رہی مالکن کے لب جیسے خشک تھے ویسے ہی سوکھے تھے اس کے گال بھی خشک ٹیلوں کی مانند تھے اس نے تارا کو گلے لگایا اور کہا " پگلی تم ماں نہیں بن سکتی "
یہ بات کرنے کے بعد پھر یکدم بادل چھاگۓ مگر اب کی بار بادل گرجے نہیں, بجلی بھی نہ چمکی اور پھر بارش ہونے لگی اب کی بار یہ رم جھم جیسی لگتی تھی رم جھم رم جھم بارش کے قطرے قطاروں میں مالکن کے اشکوں سے نکل کر رخساروں سے ہوتے خشک لبوں تک پہنچتے اور پھر تارا کے سر میں جاگرتے جب تارا کا سر بھیگ گیا تارا نے مالکن کی جانب چہرہ کیا تو انہی تم جھم قطروں نے تارا کے نرم و نازک گالوں کو آ چھوا اور پھر گالوں سے آگے لبوں تک. مگر بدقسمتی یہ تھی کہ وہ بارش یہ نہیں جانتی تھی کہ تارا کے لب و رخسار کم عمری کے باوجود مالکن سے زیادہ پیاسے اور خشک تھے...... 
مالکن نے تارا سے کہا " پانی لے آؤ میری چندو" مالکن تارا کو چندو کہتی تھی 
تارا پانی لے آئ مالکن نے غٹ غٹ پیالہ ختم کیا, ہا ہا ہا ہا وہ اندر ہی اندر ہنسی کہنے لگی جو پیاس برسات نے ختم نہیں کی وہ ایک پیالے نے کردی, 
دروازہ پہ دستک ہوئ, ٹھک ٹھک, ٹھک, 
"شاید باہر کوئ ہے "
تارا نے کہا, ہمارے گھروں پہ دستکیں ہونے لگیں, کون آگیا اتنا مہذب اور بندے کا پتر !
ماسی میں ہوں ؟ کسی لڑکے کی آواز تھی 
میں کون ؟ تجھے پردہ لگا ہے یا عینک لگی ہوئ ہے اندھے کدھر آیا ہے تجھے معلوم نہیں یہاں دستک نہیں دیتے سیدھے اندر آجاتے ہیں مال پسند کرو اور بس ,,,,,,,,,,,,,
ماسی میں شدا ہوں ؟
لڑکے نے اندر جاتے ہوۓ جواب دیا. 
مالکن نے کہا ہاں ہاتھ لگاؤ کون پسند ہے تمہیں ؟
مالکن نے پاس بیٹھی لڑکیوں کی طرف اشارہ کرکے کہا " یہ ہرنیاں ہیں میری جو سرد بازاری کی وجہ سے پانچ سو روپے میں ہیں, 
وہ لڑکا کچھ دیر چپ کرکے کھڑا رہا اور لڑکیوں کو دیکھتا رہا , لڑکیاں ایک قطار میں بیٹھی تھیں جیسے قربانی سے پہلے جانوروں کی منڈی لگتی ہے اور جانوروں کو سجا سنوار کر قطاروں میں باندھا جاتا ہے اور ان میں سے کچھ کی گردنیں بالکل ویسے ہی جھکی جھکی سی تھیں جیسے جانور رب کی رضا مان جاتے ہیں اور قربانی کے لیۓ سرجھکا دیتے ہیں تاکہ چھری چلنے چلانے میں آسانی ہو اور جلدی قربانی ہوسکے,
اور کچھ ایسی تھیں جن کو پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ کہاں ہیں بس انہیں شوق بھی تھا اور پیسے مطلب بھی, 
شدا ایک کسان کا بیٹا تھا جو جانور چراتا تھا وہ انہیں اپنی ان بکریوں کی مانند دیکھ رہا تھا شدا سوچنے لگا کہ جب بکریاں ادھر ادھر کہیں جاتیں تو وہ ان کو ایک خاص آواز سے پکارتا تھا جیسے رچھنی آ, ہٹ پیلی آ, ہرنی آ, کالی آ ان ناموں کے علاوہ بھی اور یہاں اس کوٹھے پہ ان لڑکیوں کے نام بھی ایسے ہی تھے ان کے والدین نے جو نام رکھے تھے وہ کیسے تھے کسی کو معلوم نہ تھا یہاں پہ ان کے نام مالکن نے رکھے تھے یا جو اپنی مرضی سے کہہ دیتا وہی ان کا نام بن جاتا جس نام کی مشہوری زیادہ ہوجاتی وہ اچھا ہوتا بھاگوں والا ہوتا, ایسے ہی تارا کا نام مشہور ہورہا تھا, مالکن نے لڑکے کی سوچ پہ دستک دی, 
" ہاں بولو کون سی پسند ہے ؟ تم پہلی بار آۓ ہو تو چار سوروپے بس, اس سے کم ایک روپیہ بھی نہیں, تمہیں کیا معلوم ان کی روٹی کپڑا کیسے پورا کرتی ہوں, شکر ہے یہ کوٹھا نہ ہوتا تو ہم بے سہارا عورتیں تو کب کی صفحہ ہستی سے مٹ جاتیں, اس کوٹھے نے ہمیں عزت بخشی اور آج ہمارے قدموں میں چھوٹے سے لے کر بڑے عہدوں والے آگرتے ہیں "
شدے نے ٹھٹہ کرتے ہوۓ کہا " وہ تو میرے پاس بھی آتے ہیں لوگ بکریاں لے کر بڑے بڑے لوگ " 
اچھا تو مذاق بھی کرلیتے ہیں شدے صاحب میں نے سمجھا معصوم سا بچہ ہے اب فضول کی باتیں سننے کا میرے پاس وقت نہیں تم ان میں سے ایک چن لو اور لے جاؤ " مالکن نے لڑکے سے کہا 
لڑکے نے مالکن کی گود کی طرف اشارہ کیا جہاں تارا کسی انجانے خواب میں تھی ,
مالکن نے اس سے کہا - نہیں یہ ابھی کم عمر ہے اور کچھ نہیں جانتی, مالکن نے آسمان کی طرف انگلی کا اشارہ کرتے ہوۓ کہا جیسے ہی یہ بڑی ہوگی اس کا بسیرا آسمان پہ ان ستاروں میں ہوگا میری تارا وہاں چاند کے پاس چمکے گی, 
تارا ایک ایسی بچی تھی جسے مالکن نے ویران سی جگہ سے اٹھاکر گود لیا تھا, اسے کسی ایسے مرد نے وہاں پھینکا تھا جو بیٹیوں کو باعث ننگ وعار سمجھتا تھا مالکن نے اس کی پرورش بڑے نازوں سے کی تھی زبان کا چھالہ بنا کر رکھا تھا. اس لیۓ وہ باقی لڑکیوں پہ تارا کو ترجیح دیتی تھی اور اسے اپنی بیٹی سمجھتی تھی, اس نے شدے کو کھری کھری سنادی جس سے شدا مایوس واپس لوٹ گیا, ایک عرصہ گزرا موسم گرما پھر سرما, پت جھڑ اور بہار پھر بہار کے بعد بہار اورتارا کو پہنچی اور جنگل جیسے شہر میں مشہور ہوگئ تارا تارا ہونے لگی تارا واقعی آسمان پہ بسیرا کر چکی تھی مالکن پریشان تھی کہ کوئ بڑا شکاری اس معصوم کلی کو مسل نہ ڈالے, کیا ہوا بڑے بڑے مناصب پہ فائز لوگ تارا کی طلب کرتے کوٹھے پہ موجود باقی لڑکیوں کے ریٹس کم ہوگۓ, 
ایک دن پھر تارا نے مالکن سے گلے لگ کر کہا " مالکن کیا میں بھی ماں بن سکتی ہوں "
مالکن نے اس کو تھپکی دی اس کے بالوں میں انگلیاں پھیریں اور پیشانی چوم کر کہا " تم ماں کیوں بننا چاہتی ہو, فرض کرو تیرے نصیب میں ہوا بھی اور اگر تجھے بیٹا ہوا تو کیسے برداشت کرے گی ؟ وہ پھر تیرے جیسی کتنی کلیوں سے کھلواڑ کرے گا, کوٹھے گھومے گا, مجرے کراۓ گا شرابیں پی کر تیرے جیسیوں کو نچاکر مرد مشہور ہوگا اور جتنا زیادہ عورت کی تذلیل کرے گا اتنا ہی بڑا مرد ہوگا "
تارا بولی "نہیں اماں میرا بیٹا ایسا نہیں ہوگا کیونکہ یہ کام تو گھروں میں عزت سے بیٹھنے والی عورتوں کے بیٹے کرتے ہیں"
چپ کر کمینی ایسی بات نہ کر کسی شریف نے سن لیا تو ہماری روزی بند اور رسوائ کے دن شروع ہوجائیں گے, مالکن نے قہقہ لگاتے ہوۓ تارا کے منہ پہ ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا, 
کئ گاہگ آتے اور تارا کانام پوچھتے, مالکن نے اپنے کسی پرانے گاہگ کی سفارش لگوا کر ہسپتال میں جھوٹی بیماری کا بہانہ کرکے داخل کروا دیا کہ تارا بیمار ہوگئ ہے ٹھیک ہوگی تو کام پہ آۓ گی کتنی دستکیں اس کوٹھے پہ دی جاتیں مگر تارا تو جیسے آسمان پہ ٹمٹما رہی تھی مالکن نے تھک ہار کر تارا سے کہا بیٹی شکست تسلیم کرلے اور کام پہ لگ جا تیری زندگی میں یہی لکھا ہے عزت ہمارے حصے میں ہی نہیں, تارا نے اونچی آواز سے کہا, " اماں ! تمہیں پتہ ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے زلت دے وہ سب کچھ کرسکتا ہے, کتنی ہیں جو کوٹھوں پہ نہیں مگر ذلت کی زندگیاں بسر کررہی ہیں, 
مالکن نے کہا آواز آہستہ رکھو پتہ نہیں تم کس مٹی کی بنی ہو کوٹھے پہ تربیت پاکر تم کیا ثابت کرنا چاہتی ہو کہ تم عزت دار ہو اور گھروں میں بیٹھی نہیں ہیں, 
نہیں اماں ! اس نے سخت لہجے میں کہا, میرا ہرگز یہ مقصد نہیں, میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ عزت اور ذلت تو خدا کی طرف سے ہے ہمیں کوشش کرنی چاہئے ناکہ مایوس ہوکر ہاتھ پہ ہاتھ دھرے قسمت کا انتظار, 
مالکن نے ہنستے ہوۓ کہا, ٹھیک ہے تم بضد ہو تو میں بھی تمہارے ساتھ ہوں اور میرا پرانا دوست بھی, وہ بھی مرد ہے, ہا ہا ہا مگر وہ واقعی مرد ہے, 
ہسپتال میں بھی کافی دن ہوچکے تھے لوگوں نے کوٹھا چھوڑ کر ہسپتال کے چکر لگانے شروع کر دیۓ, کوئ پھول لاتا تو کوئ کھانے کے لیۓ شاپر بھر کے لے آتا, کچھ نقدی بھی دے جاتے کہ خیرات کردینا وہ یہ بات سن کر مسکرانے لگتی اور اندر ہی اندر ان کو گالیاں بھی,
قسمت میں یہ ہوا کہ ہسپتال کا ایم ایس بھی تارا کا گاہک نکلا اس نے ڈاکٹرز سے پوچھا اس لڑکی کو کیا بیماری ہے ؟ انہوں نے بھی واضح بتادیا کہ یہ لڑکی اس شہر کے مشہور کوٹھے کی ہے اور یہاں بہانہ بنایا ہوا ہے اسے عزت کمانے کی بیماری لگ گئ ہے, ایم ایس بھی ہنسا اور میٹنگ ختم کی, آج رات کو تارا کی رسوائ ہونا تھی -
مالکن نے شدے کو بلوایا اور اس سے کہا کہ وہ اس بدنصیب, ضدی لڑکی کو لے کر دور بھاگ جاۓ اور شادی کر لے, شدے نے کہا مالکن " میری بکریاں " وہ ہنسی بھی اور غصہ سے کہا گدھے تجھے ایک لڑکی مل رہی ہے جو تارا ہے آسمان کا اور توبکریوں کے پیچھے پڑا ہے, شدا تارا سے محبت کرتا تھا کئ بار وہ کوٹھے کے چکر لگا چکا تھا مگر تارا اسے نصیب نہ ہوئ تھی یہ تو قسمت کے فیصلوں میں سے ایک فیصلہ تھا جس نے تارا کا ہاتھ ایک بکریاں چرانے والے کے ساتھ باندھ دیا, وہ اس رات وہاں سے دور نکل گۓ, ایک ناکے پہ پولیس والوں نے روکا تلاشی لی اور اپنے افسر کو بتایا کہ خالی ہاتھ ہیں 
افسر نے سگریٹ کا کش لگاتے ہوۓ کہا " خالی ہیں تو بچی ادھر لے آؤ " 
شدے کو غصہ آیا اس نے اس پولیس والے کے ہاتھ کو پکڑ کر سختی سے کھینچا, افسر نے کہا اسے گرفتار کرو پولیس کی وردی پہ ہاتھ ڈالتا ہے, 
اسے گرفتار کرلیا گیا ,تارا کو ایک طرف لے گۓ, چند نوجوان پولیس والوں کو اپنے افسر کی حرکت اچھی نہ لگی جس پہ ان کی ڈیوٹی تبدیل کردی,پولیس والوں کی افسر کے ساتھ لڑائ مہنگی پڑگئ اس افسر نے دو نوجوانون کو مروا دیا, ساتھ شدے کو بھی گولی مار دی کہ پولیس مقابلہ ہوا ہے, تارا دوران لڑائ وہاں سے بھاگ گئ راستے میں کئ کتوں نے اسے چیرا پھاڑا وہ زخمی ہرنی کی طرح درندوں سے بچتی ہوئ اس کوٹھے کے دروازہ پہ آگری, خون میں لت پت تھی زمین پہ لیٹے ہوۓ دستک دی,مالکن نے دروازہ کھولا تو تارا کو آسمان سے زمین پہ گرا دیکھا اور کہا " تارا تو ماں کیوں بننا چاہتی تھی " تارا زمین پہ پڑی مالکن سے لپٹی ہوئ کہہ رہی تھی " میری عزت بچ گئ, میں باعزت مررہی ہوں, 
اسی لمحہ آسمان پہ گھٹائیں چھاگئیں, کالے بادل آۓ, بجلی چمکی جس میں تارا کا حسین بدن سسکتا ہوا محسوس ہورہا تھا, تارا سماج کے ان گنت تماچے کھانے کے بعد بھی مسکرارہی تھی اس کی روح نکل رہی تھی ,رہبروں اور محافظوں نے میرے شدے کو مار ڈالا وہ حقیقی مرد تھا عورت کو اپنے سینے میں راز کی طرح چھپانے والا,,,, اور تارا مرگئ بلکہ تارا آزاد ہوگئ پہلے وہ گھٹن میں تھی آج بارش بہت ہوئ جس نے تارا کی روح کو دور سمندر تک بہادیا, وہ سمندر میں جاگری ادھر 
مالکن کوٹھے پہ بیٹھی ہر کسی سے کہتی رہتی "مرد کی ہوس نے مارا ہے " لیکن جب شدے کی موت جو تارا کی وجہ سے ہوئ تھی کا خیال آتا تو کہتی مرد چادر بھی ہے "
روز سہتی ہیں جو کوٹھوں پر ہوس کے نشتر 
ہم درندے جو نا ہوتے تو وہ مائیں ہوتیں,,, 🧕
لیکن تارا کی عزت بھی تو مرد نے بچائ تھی موت کا کیا ہے, وہ پاگلوں کی طرح خود سے کچھ کہتی رہتی,,,,,,

 


افکار و نظریات: ہم درندے جو نا ہوتے