تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

ظلم سے نفرت انسان کی فطرت ہے، 5 فروری کو جہاں پورے پاکستان میں یومِ یکجہتی کشمیر منایا گیا، وہیں ایران میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے بھی اس دن کو ایک باوقار کانفرنس کا انعقاد کیا۔

یہ کانفرنس بنیادی طور پر مجلس وحدت مسلمین قم، تحریک اتحاد امت جموں و کشمیر اور انٹرنیشنل ولایت مشن کے تعاون سے منعقد کی گئی۔ کانفرنس سے جامعہ روحانیت بلتستان کے دبیر حجۃ الاسلام محسن عباس، صوبہ سندھ کے طلباء کے نمائندے حجۃ الاسلام محمد حیات مفکری اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری امور خارجہ  حجۃ الاسلام ڈاکٹر شفقت شیرازی نے خطاب کیا۔

یہ ایام اسلامی انقلاب کی سالگرہ کے ایّام ہیں، یعنی ظالم کو سرنگوں کرنے اور شکست دینے کے ایام ہیں، یہی وہ دن ہیں کہ جب ملتِ ایران نے لا الہ الاللہ کی حاکمیت کے لئے اپنے وطن سے ظالمانہ بادشاہت کا خاتمہ کیا تھا، یہ ایام اہلیانِ کشمیر کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ اگر  کلمہ لا الہ الاللہ پر جمع ہو کر اڑھائی ہزار سالہ شہنشاہیت کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے، اگر کلمہ لا الہ الاللہ پر جمع ہوکر برصغیر کے مسلمان الگ وطن حاصل کرسکتے ہیں تو ان شاء اللہ کلمہ لا الہ الاللہ پر جمع ہوکر کشمیری بھی غلامی کی زنجیروں سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔

مقررین نے اپنے خطبات میں کہا کہ ہمیں دین اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ ظالم کے خلاف ہو جاو، خواہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو اور مظلوم کے حامی بن جاو، خواہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔ مقررین نے کہا کہ کسی پر ظلم کرنے والا، ظلم کرنے میں مدد کرنے والا اور ظلم کو دیکھ کر خاموش ہو جانے والا یا ظلم پر راضی ہو جانے والا بھی ظالم ہے، لہذا ہم کشمیر میں ہونے والے ظلم کے خلاف احتجاج کرکے اپنا دینی فریضہ انجام دے رہے ہیں اور اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ ہم مظلوم کشمیریوں کے حامی ہیں اور ظالم ہندوستان کے خلاف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح ہم یمن کی مظلوم عوام کی حمایت کرتے ہیں اور سعودی عرب کے مظالم کی مذمت کرتے ہیں۔

مقررین نے عالمی برادری سے یہ اپیل کی کہ کشمیر اور یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکا جائے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں اور یمنیوں کو ان کا حق خود ارادیت دیا جائے۔

ہم یہاں پر قارئین کی اطلاع کے لئے یہ بھی عرض کئے دیتے ہیں کہ  کشمیر کو ایرانِ صغیر بھی کہا جاتا ہے اور ایران میں اسلامی انقلاب کے بانی حضرت امام خمینیؒ  کا تعلق بھی کشمیر سے تھا،[1]

اس کے علاوہ ایران میں آیت اللہ سید عبدالکریم رضوی کشمیری کے نام سے شاید ہی کوئی واقف نہ ہو۔ یہ اپنے زمانے کے معروف عالم باعمل اور عارف باللہ تھے، ان کی قبر حضرت معصومہ کے حرم مبارک میں واقع ہے، ان کی تالیفات میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں:

شرح کفایة الاصول آخوند خراسانی، مجموعه اشعار عربی، مجموعه درس‌ های اخلاق عارف خدا جوی، شیخ مرتضیٰ طالقانی، جزوه‌ ای در مورد اذکار و اوراد عرفانی، رساله در مبحث قطع، رساله در طلب و اراده، تقریرات درس اصول آیت الله خویی۔[2]

ان کے علاوہ آیت الله سید مرتضیٰ کشمیری بھی ایران کی ایک معروف شخصیت ہیں، جو متعدد علوم میں صاحبِ نظر ہونے کے علاوہ مشہور عارف بھی تھے۔ ان کی بھی چند ایک تالیفات بطور نمونہ پیشِ خدمت ہیں:

اعلام الاعلام فی علم الرجال، حاشیه علی القوانین، حاشیه علی ریاض المسائل سید علی طباطبایی، تعلیقه علی شرح الهدای للقاضی میبدی، حاشیه علی شرح اللمعه، تعلیقه علی تقویم المحسنین، رساله فی اعمال الهندسه، شرح علی التحریر سلطان الحکماء، شرح علی صفحه الاسطرلاب للبهایی، رساله فی البعد بین البلاد، تعلیقه علی الحاشیه للمولی غلام یحیی، تعلیقه علی الحواشی میر زاهد علی شرح التهذیب، تعلیقه علی شرح التلخیص الچغمینی، بحث فی الاسطرلاب، تعلیقه علی شرح لسلطان الحکماء، ملحق الرساله فی البعد بین البلاد، شرح عباره المنهاج للمولی الکرباسی حول القبله، تعلیقه علی رساله ابن فهد حلی، تعلیقه علی أمل الآمل للحر العاملی، شرح مبحث الزوال، رساله فی شرح روایه عبدالله بن سنان من اصحاب الصادق علیه السلام۔ تعلیقه علی رساله خلاصه الحساب للشیخ البهائی، تعلیقه علی منتخب الاتحاف للسیوطی، تعلیقه علی شرح درایه الحدیث للشهید الثانی، تسلیک النفس الی جانب القدس[3]۔

آپ کے جد بزرگوار کی قبر مبارک چهل اختران قم میں مقبره موسای مبرقع کے نام سے معروف ہے۔[4]

یہاں پر شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ان کا بھی آبائی وطن کشمیر تھا اور یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ اہلِ دل اور صاحبانِ نظر کشمیر کو اولیائے کرام کی سرزمین بھی کہتے ہیں۔

مقامِ افسوس ہے کہ گذشتہ بہتر سال سے اولیائے کرام، مجتھدین عظام، عرفاء اور دانشوروں کی یہ سرزمین غلامی کی چکی میں پس رہی ہے۔ اس سلسلے میں دنیا کی تمام مہذب اور غیور اقوام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تحریک آزادی کشمیر کی حمایت کریں اور ظالم ہندوستانی افواج کو کشمیر خالی کرنے پر مجبور کریں۔

اسی طرح یمنی عوام پر ہونے والے  سعودی مظالم کو رکوانا بھی پورے عالم بشریت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

5 فروری کو ایران کے شہر قم میں میں یوم یکجہتی کشمیر و یمن کے عنوان سے منعقدہ سیمینار اس لحاظ سے بھی منفرد تھا کہ قم  کو علم و اجتہاد اور مرکز عمل و انقلاب ہونے کا بھی شرف حاصل ہے۔

ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستانی کمیونٹی اس شہر علم و اجتہاد اور مرکز عمل و انقلاب میں مظلومین کی حمایت کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] http://www.imam-khomeini.ir/fa/c76_15296/%D9%BE%D8%B1%D8%B3%D8%B4_%D9%88_%D9%BE%D8%A7%D8%B3%D8%AE/%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85/%D8%A2%DB%8C%D8%A7_%D8%AF%D8%B1%D8%B3%D8%AA_%D8%A7%D8%B3%D8%AA_%DA%A9%D9%87_%D8%A7%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D8%AF_%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%AE%D9%85%DB%8C%D9%86%DB%8C_%D8%AF%D8%B1_%DA%A9%D8%B4%D9%85%DB%8C%D8%B1_%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C_%D9%85%DB%8C_%DA%A9%D8%B1%D8%AF%D9%86%D8%AF_%D9%88_%D8%A8%D8%B9%D8%AF_%D8%A7%D8%B2_%D8%A2%D9%86%D8%AC%D8%A7_%D9%85%D9%87%D8%A7%D8%AC%D8%B1%D8%AA_%DA%A9%D8%B1%D8%AF%D9%87_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%9F_%D9%84%D8%B7%D9%81%D8%A7_%D9%BE%D8%A7%D8%B3%D8%AE_%D9%85%D8%B3%D8%AA%D8%AF%D9%84_%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D9%87_%D8%AF%D9%87%DB%8C%D8%AF%D8%9F
[2] http://fa.wikishia.net/view/%D8%B3%DB%8C%D8%AF_%D8%B9%D8%A8%D8%AF%D8%A7%D9%84%DA%A9%D8%B1%DB%8C%D9%85_%D8%B1%D8%B6%D9%88%DB%8C_%DA%A9%D8%B4%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C
[3] http://fa.wikishia.net/view/%D8%B3%DB%8C%D8%AF_%D8%B9%D8%A8%D8%AF%D8%A7%D9%84%DA%A9%D8%B1%DB%8C%D9%85_%D8%B1%D8%B6%D9%88%DB%8C_%DA%A9%D8%B4%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C
[4] تربت پاکان، ج۲، ص ۱۸


افکار و نظریات: ایران میں یوم یکجہتی کشمیر