اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات آئی ایس او ایک روایت شکن تنظیم (۲۲ مئی یوم تاسیس کے حوالے سے خصوصی تحریر) سید امتیاز علی رضوی آئی ایس او کی بنیاد شیعہ طلبہ کے مسائل کے حل اور عظیم تر بھائی چارے کے فروغ پررکھی گئی جس میں ملت کے روایتی دینی و فکری جمود کو توڑنے اور قوم میں حقیقی اور عملی دینی اقدار کو زندہ کرنے کا عنصر غالب تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آئی ایس او کے نصب العین (ویژن) میں یہ شامل کیا گیا کہ اس تنظیم نے تعلیمات قرآن حکیم اور سیرت محمد و آل محمد علیہم السلام سے قوم کو روشناس کرانا ہے اور ان میں دینی، علمی، اخلاقی اور روحانی اقدار کو فروغ دینا ہےاور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ترویج کرنا ہے۔ ملت کے اس وقت کے گھمبیر حالات کو دیکھتے ہوئے اس قُسم کے نصب العین کا تعین کرنا کوئی معمولی بات نہیں تھی، اسی لئے میں آئی ایس او کو ایک روایت شکن تنظیم کہتا ہوں۔ آئی ایس او کی تشکیل کے بعد گذشتہ 47 سال میں ملت میں ایک انقلابی بدلاؤ آیا ہے نئے رجحانات نے جنم لیا ہے، دین کے حقیقی پہلو نمایاں ہوئے ہیں مساجد و مدارس کی تعداد بڑھی ہے، علماء کی اہمیت سمجھ میں آنا لگی ہے اور قومی مشترکہ جدوجہد کا احساس بڑھا ہے آئی ایس او نے اس دوران نہ صرف دینی کام میں مصروف علماء و غیر علماء کا ساتھ دیا ہے بلکہ تنظیم سے نکلنے اور تربیت حاصل کرنے والے افراد اب بھی بیرون اور اندرون ملک کئی اداروں اور تنظیموں میں متحرک ہیں اور مثبت پیش رفت کر رہے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ آئی ایس او کی وجہ سے ملت نظریاتی اور مکتبی شعور و آگہی کی راہ پر گامزن ہوچکی ہے۔ بقول شاعر (اختر پیامی) میرے نغمے تو روایات کے پابند نہیں میں روایات کی تخلیق کیا کرتا ہوں گذشتہ 47 سال میں قومی حالات میں جو بنیادی تبدیلیاں آئیں ان میں روایتی مفاد پرست محدود لیڈرشپ کے بجائے قومی سطح پر متفقہ باتقویٰ دین سے آشناء قیادت کا ظہور ہے جس کو کامیاب کرنے میں آئی ایس او کا بنیادی کردار ہے۔ ۱۹۸۰ میں ملت جعفریہ کے قائد کے طور پر مفتی جعفر حسین مرحوم کا منظر عام پر آنا اور پھر ان کی قیادت میں مبینہ زکٰوة آرڈیننس کے زبردستی نفاذ کے خلاف جدوجہد کا کامیاب ہونا ملت جعفر یہ کے ملکی و قومی معاملات میں اپنے نکتۂ نظر کو پیش کرنے کے اظہار کا آغاز تھا یعنی جو ملت چند روایتی مذہبی رسومات کی ادائیگی تک محدود تھی اس نے اپنے علمی و فکری وجود کا اظہار کیا تھا جو آئی ایس او کی پشت پناہی ہی سے ممکن ہوا۔ جو افراد ۱۹۸۰ کے اس کنونشن میں موجود تھے وہ گواہ ہیں کہ کس انداز سے آئی ایس او اس کنونشن میں نمایاں تھی اور ملت کی نئی عوامی اور دینی قیادت کی پشت پناہ بنی ہوئی تھی۔اسی روایت شکنی کے نتیجے میں ملت جعفر یہ کو شہید عارف حسین حسینی جیسی مخلص اور آگاہ قیادت ملی جس نے ملت میں ایک نئی روح پھونکی اور اسے ایک قدم اور آگے لے گئی البتہ یہ ایک الگ بات ہے کہ دشمنوں کی سازشوں اور داخلی کمزوریوں کی وجہ سے آج قیادت ایک بحران کا شکار ہے۔ آئی ایس اونے اپنے روایت شکنی کے اصول پر قائم رہتے ہوئے ملت کو روایتی قیادت کے بجائے اصولی قیادت سے نہ صرف متعارف کروایا بلکہ اس کے ہاتھ بھی مضبوط کئے اور علماء اور سول سوسائٹی کے ایک بڑے طبقے کو قومی دھارے میں لے کر آئی اور قومی امور اس کے سپرد کر دئے جسے وہ سنبھال نہ سکے جس کا نتیجہ آج کا قومی انتشار و بگاڑ ہے۔ جن قومی فرسودہ روایات کو آئی ایس او نے توڑا ان میں سے ایک یہ عمومی تاثر تھا کہ اس قوم کا الہی عبادات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سمجھا جاتا تھا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز، روزہ ، حج و دیگر عبادات کو انجام نہیں دیتے۔ اس منفی تاثر سے دوست و دشمن سب متاثر تھے حتی کہ خود شیعہ عوام بھی اپنی سادگی میں یہی سمجھتی تھی کہ نماز روزہ ہمارا کام نہیں ہے بلکہ ہم عزاداری کے لئے خلق ہوئے ہیں۔ اس منفی موقف کی تقویت اس وجہ سے بھی ہوئی کہ قومی سطح پر ان عبادات کے اجتماعات منعقد کرنے کا رجحان نہ تھا اور کہیں سے بھی یہ اظہار نہیں ہوتا تھا کہ یہ ملت ان مسلمہ عبادات کو اہمیت دیتی ہے جب کہ روایتی انداز کی رسوماتی اور خانقاہی عزاداری کے کئی حلقے دکھائی دیتے تھے بلکہ ملی عوامی اجتماعات میں تو یہی چھائے ہوئے تھے جس کا اظہار پوسٹرز ، بینرز اور عوامی اجتماعات سے ہوتا تھا۔ اگرچہ یہ سلسلے اب بھی اسی طرح یا اس سے بھی شدید تر انداز سے قائم ہیں لیکن آئی ایس او کی روایت شکنی کے عمل کی وجہ سے اس کے ایک بڑے حصہ میں مقصد یت و معنویت بھی شامل ہو گئی ہے اور عبادت الہی کے مناظر بھی نظر آنے لگے ہیں خصوصا جلوس ھائے عزا داری کے دوران نماز کا قیام آئی ایس او کا ایسا کارنامہ ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ اس عمل نے روایتی جلوسوں کو معنویت اور مقصدیت کی طرف لانے میں مدد دی۔ آج منبر حسینی سے تبلیغ دین معمول کی بات سمجھی جاتی ہے جبکہ پہلے ایسا ہونا شاذ و نادر ہی ہوا کرتا تھا۔ پاکستان کی ملت جعفر یہ کو بین الاقوامی سطح پر اس مکتب کے ماننے والوں کے ساتھ متصل و منسلک کرنے میں آئی ایس او کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہی آئی ایس او تھی جس نے تشیع کی عالمی مرجعیت خصوصا امام خمینی رضوان اللہ علیہ کو پاکستان میں متعارف کرانے کا نہ صرف چیلنج قبول کیا بلکہ امام خمینی رضوان اللہ علیہ کے پیغامات کو حقیقی روح کے ساتھ نوجوانوں میں عملاً متعارف کرایا۔ میں اس اہم عمل کو دو زاویوں سے روایت شکنی کے باب میں شامل کر رہا ہوں ۔ ایک اس جہت سے کہ آئی ایس او کی اس تحریک سے پہلے پاکستان کی ملت تشیع عوامی سطح پر مسئلہ تقلید اور توضیح المسائل سے ناواقف تھی اور کسی بھی گھر میں توضیح المسائل موجود نہ تھی بلکہ تحفۃ العوام کے ابتدائی ابواب میں درج چند بنیادی مسائل ہی سے کام چلایا جا رہا تھا، تحفۃ العوام کو شیعہ گھروں میں دینی مسائل کی کتاب سے زیادہ علم نجوم کے مسائل کی کتاب سمجھا جاتا تھا جس سے مکتب کی علمی حیثیت ماند پڑ گئی تھی۔ دوسری اس جہت سے کہ اس عمل سے پاکستان کی ملت جعفر یہ نے بین الاقوامی سیاسی معاملات میں شعور ی طور پر اپنا حصہ ڈالنے کا عمل شروع کیا۔ بین الاقوامی سطح پر ہونے والے ظلم پر آواز بلند کرنا اور مظلوموں کا ساتھ دینا پاکستان کے شیعوں میں آئی ایس او نے ہی شروع کیا۔ اس دعوے کی صداقت تاریخ سے ثابت ہوتی ہے کیونکہ آئی ایس او سے پہلے ملت جعفر یہ میں اس قسم کی آواز بلند کرنے کا کوئی ریکارڈ نہیں ملتا۔ اگرچہ آئی ایس او کی روایت شکنی کی متعدد اور مثالیں بھی ہیں لیکن شاید اس مضمون میں ان سب کا احاطہ کیا جانا مشکل ہو لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آئی ایس او کی تشکیل جن حالات میں ہوئی وہ بڑے مشکل اور پیچییدہ تھے۔ اس وقت پاکستان کی ملت تشیع نہ صرف ایک روایتی انداز اپنائے ہوئے تھی مزید برآں اس روایتی حیثیت کو توڑنے کے لئے کوئی مضبوط اور موثر آواز بھی نہیں تھی یعنی ملت صرف رسمی عزاداری اور ظاہری مجلس و ماتم کی حد تک اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے تھی۔ دینی تعلیمات کی گہرائی تک جانا تو کجا ملت دینی فرائض و عبادات سے ہی کوسوں دور تھی، کوئی دینی تبلیغی نظام نہ تھا، دینی کتب مذہبی مناظروں یا جنتر یوں تک محدود تھیں۔ جب ملت کا یہ حال ہو تو نوجوان طالب علموں کا سیکولر سوشلسٹ یا نیشنلسٹ ہو جانا باعث حیرت نہیں ہونا چاہئیے۔ اس زمانے میں شیعہ طلبہ کسی بھی محدود اور تنگ نظر متشددانہ اسلامی سوچ رکھنے والی تنظیم کے قریب بھی نہیں بھٹکتے تھے لہذا حق کی آواز نہ ہونے کی وجہ سے وہ یا تو اجتماعی جدوجہد سے الگ تھلگ رہ کر انفرادی زندگی گذارتے یا کسی غیر حقیقی،غیر فطری عقیدہ و نظریہ کی تنظیموں کا شکار ہوتے اور اسی کے رنگ میں ڈھل جاتے۔ معاشروں میں مختلف مقاصد کے لئے گروہوں کا تشکیل پانا کوئی نئی بات نہیں لیکن ان گروہوں اور تنظیموں کو اپنے بنیادی مقاصد پر باقی رکھنا بہت ہی کٹھن کام ہے۔ ہر تنظیم ابتداء میں خالص ہوتی ہے لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں پائے جانے والی آلودگیاں ان تنظیموں کا گہراؤ کر لیتی ہیں اور ان پر اپنے اثرات چھوڑنا شروع کر دیتی ہیں جس وجہ سے تنظیموں میں مقاصد کے حصول کے لئے پائے جانے والا جوش و جذبہ بھی ماند پڑ جاتا ہے اور تنظیمی کام روزمرہ کے روایتی کاموں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ روایت شکنی ایک ایسا عمل ہے جو معاشروں کو زندہ رکھتا ہے اور انہیں ایک متحرک اور فعال معاشرہ بناتا ہے۔ اگر کوئی تنظیم معاشرے میں روایت شکنی کے لئے تشکیل دی گئی ہو تو اسے اسی اصول اور طرزعمل پر باقی رکھنا اور ضروری ہو جاتا ہے۔ روایت شکن تنظیم کا روایتی بن جانا ایک عجب کہانی دکھائی دیتی ہے لیکن اگر شعوری طور پر محنت و جدوجہد نہ کی جائے تو ایسا ممکن بھی ہو سکتا ہے۔ بقول شاعر (اختر پیامی) تجھ کو ڈر ہے تری تہذیب نہ جل جائے کہیں مجھ کو ڈر ہے یہ روایات نہ جل جائیں کہیں پھر اک دن اسی خاکستر سے اک نئے عہد کی تعمیر تو ہو جائے گی اب آئی ایس او اپنی تشکیل کی نصف صدی مکمل کرنے والی ہے تو اس بات کا جائزہ لیا جانا چاہئیے کہ کیا اب بھی تنظیم اپنے ماضی کے طریق کار، حکمت اور ٹیکنیک پر باقی ہے یا اس نے صرف کچھ نئی روایات کو جنم دیا ہے اور اب ایک روائتی انداز میں انہیں باقی رکھنے کے لئے سرگرم عمل ہے؟ کیا ماضی کے چیلنجز کی طرح تنظیم اب بھی اس قابل ہے کہ معاشرتی دباؤ کو برداشت کرکے اس کا مقابلہ کرے اور روایت شکن اقدامات کو اب بھی شعوری طور پر انجام دے؟ کیا آج بھی تنظیم کے ارکان کے سامنے یہ بات ہے کہ وہ کن روایات کے خلاف سینہ سپر ہیں اور قومی سطح پر اصلاح کے لئے ان کا کیا پلان ہے اور انہوں نے یہ اہداف حاصل کرنے کے لئے زمانے اور حالات کے تقاضوں کے مطابق کیا طریقہ کار اور حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے؟ آئی ایس او کو اپنے ابتدائی دور میں عقیدتی،عملی اور سیاسی طور پر غیر پختہ قوم کا سامنا تھا اور اس قوم کی تربیت کی ذمہ داری اس تنظیم نے ایک چیلنج کے طور پر لی تھی اور تقریباً نصف صدی کی جدوجہد کے بعد اسے واضح کامیابی بھی نصیب ہوئی ہے۔ لیکن کیا آج بھی ایسا ہی ہے ؟ آج کا چیلنج مختلف ہے کیونکہ آج اسے اجتماعی طور پر ایک منتشر قوم کا سامنا ہے آج کا چیلنج اس قوم کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا ہے جس کے لئے ابھی تک تو کوئی راستہ تلاش کرنے کی سبیل ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دیتی۔ آج عام عوام کے علاوہ بظاہر نظریاتی و انقلابی افراد بھی جو اپنے آپ کو ولائی کہتے ہیں تقسیم در تقسیم ہیں جس سے قومی ترقی کا عمل نہ صرف رک گیا ہے بلکہ اس نے ریورس گیئر بھی لگا لیا ہے حالانکہ ہر گروہ کی قیادت اور راہنمائی علمائے کرام کے ہاتھوں میں ہے۔آئی ایس او نے غیر مذہبی قیادت کی روایت کو توڑ کر مذہبی اور با تقوی قیادت کا جو انقلابی تصور عملی کیا گیا تھا وہ آج خود ایک روایت بن چکا ہے۔ کیا آئی ایس او اپنی ہی قائم کردہ اس نئی روایت کی فرسودگی کو دور کرنے کے لئے کوئی اقدام کر رہی ہے ؟ کیا اپنی ہی قائم کردہ اس روایت کی اصلی روح کو آلودگیوں سے پاک کرنے کے لئے کچھ سوچا جارہا ہے؟ کیا آج کے نظریاتی اور انقلابی ورکرز کو انتشار اور تذبذب سے نکالنے کے لئے کچھ کیا جا رہا ہے۔ شاید آج کی آئی ایس او یہ سمجھ رہی ہے کہ یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔ اگر ایسا ہے تو یاد رکھئیے کہ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جب روایت شکن تنظیمیں، روایتی تنظیموں کا روپ دھار لیتی ہیں اور اپنی ذمہ داری کو دوسروں کے کندھوں پر ڈال کر فرار کا راستہ اختیار کر تی ہیں تاکہ اپنی قائم کردہ روایات کے جال میں پھنسی رہیں ۔اس سے کوئی انکار نہیں ہے کہ قومی اتحاد و اتفاق ایک پیچیدہ چیلنج ہے لیکن اس چیلنج کا سامنا کرکے اگر آئی ایس او قوم کو اتحاد و یگانگت کا تحفہ دے سکے تو خود یہ تنظیم اپنے زندگی کو نصف صدی سے ایک صدی تک لے جا سکتی ہے۔ آئی ایس او کو اپنی بقا اور حیثیت اور وجود کا چیلنج بھی ہے کیونکہ آئی ایس او جو ایک آگے بڑھ کر فعال کردار ادا کیا کرتی تھی آج یا تو وہ اپنے پرانے کاموں کی تکرار میں لگی ہے یا پھر اپنے بڑوں سے ملنے والی کسی ٹاسک اور اسائنمنٹ کے انتظار میں رہتی ہے۔ آئی ایس او کو اب بھی آگے بڑھ کر ہی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اور پاکستان کی ملت جعفریہ میں اتحاد و اعتماد کی فضا کو بحال کرنے کے لئے اقدام کرنا ہوگا تاکہ روایت شکن تنظیم ہونے کا تشخص برقرار رہ سکے کیونکہ یہی زندگی کی علامت ہے۔ بظاہر یوں لگتا ہے کہ آئی ایس او جو ملت جعفریہ کے قومی دھارے میں نظریاتی اور انقلابی گروہوں کا ہراول دستہ تھی، جو دینی نوجوانوں کے جذبات اور امنگوں کی عکاس تھی، جو قومی درد اور خلوص کا مظہر تھی اور جس کی شناخت خود مختاری، خود انحصاری، اور استقلال تھی آج وہ آئی ایس او اپنی خود مختاری اور خود انحصاری کے لیے سرگرداں نظر آتی ہے۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے محدود دائرے میں خوش ہے اور مطیعِ محض کے غیر فطری نظریہ کو اپنا کر صرف دئے گئے ٹاسک اور ذمہ داری کو نبھانے کی کوشش کرتی ہے اور اس طرح اپنی ہی بنائی ہوئی روایات کو زندہ رکھنے کو ایک بڑا کارنامہ قرار دے کر دیگر روایتی تنظیموں کی طرح مطمئن ہے۔ 26/4/2019
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
افکار و نظریات: I S O
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں