سرکس کے رنگ ماسٹر

محبوب اسلم


سرکس کے رنگ ماسٹر سے مراد ھے وہ اسٹیلیشمنٹ کی قوتیں ھیں جنھوں نے اس ڈونکی راجہ کو وزیر اعظم بنایا۔۔۔لیکن اس سے پہلے کہ میں کچھ مزید عرض کرو۔ میرے بہت سے پی ٹی آئی کے کرم فرما اس ڈونکی راجہ کی اصطلاح پر چیں بچیں ھوتے ھیں۔ میں لاکھ سمجھاؤں کہ یہ ایک سیاسی طنز ھے اور یہ ایک سیاسی استعارہ ھے جس کا مطلب وھی ”سیلیکٹڈ وزیراعظم“ والا ھی ھے۔لیکن یہ یار لوگ مان کر ھی نہیں دیتے۔۔۔حالانکہ عمران خان خود ایمپائیر کی انگلی بھرے مجمع میں مانگ چکا ھے اور کم وبیش یہی بیان بابا رحمتے کے بارے میں دے چکا ھے کہ مجھ سے کہا گیا آپ سپریم کورٹ تشریف لائیں۔۔۔”ھم“ آپ کو انصاف دئینگے۔ 

یوں بابا رحمتے اور بابا ایمپائیر نے عمران کو ڈونکی راجہ بنا ڈالا۔۔۔لیکن غصہ ھےتو مجھ غریب پر کہ ڈونکی راجہ کو ڈونکی راجہ کیوں لکھتے ھو؟ تو اور کیا لکھوں بھائی؟؟؟۔۔۔کیا منظور نظر لکھوں، لاڈلا لکھوں، یا سیلیکٹڈ لکھوں...جو بھی لکھوں وہ حقیقت کو تو نہیں بدلے گا۔۔۔تو فی الحال ڈونکی راجہ سے ھی کام چلاتے ھیں۔

تو جناب ڈونکی راجہ نے عوام کو مرغی انڈے اور کٹے کی معاشیات سکھاتے سکھاتے وھی گھسا پٹا آئی ایم ایف کا کشکول آگے کر دیا اور وہ بھی صرف چھ ارب ڈالر کی خاطر؟ اور اسدفعہ کام بھی پکا کیا کہ آئی ایم ایف ھی کے ملازم کو اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا گورنر بھی لگا دیا یعنی مذکرات میں ایک طرف آئی ایم ایف کی ٹیم ھوگی تو دوسری طرف پاکستان کی نمائندگی بھی آئی ایم ایف ھی کرے گی۔۔۔کیا دماغ پایا ھے میرے ڈونکی راجہ نے؟؟؟

اب کچھ یار لوگ بھاؤ کھاتے ھیں کہ تم ملک کی معیشت کا حشر نہیں دیکھتے کہ پچھلی حکومت نے قرضہ لے لے کر کیا حال کر دیا اب قرضہ واپس کرنا ھے، ملکی اثاثے گروی رکھے ھوۓ ھیں۔ لیکن میرا اس سارے ماتم پر یہ سوال ھے کہ کیا بائیس سال تک ملک میں اپوزیشن کرنے والے کی یہ تیاری تھی کہ اسمیں سے پہلے مرغی اور انڈہ معاشیات نکلی اور پھر کٹامعاشیات اوراب بعد میں نیوے نیوے ھوتے یہ آئی ایم ایف کے سامنے کشکول لئے کھڑے ھیں؟؟؟ 

دوسری طرف اگر نواز شریف انھیں قرضوں میں سے 30 ارب ڈار کی ادائیگی بھی کرتا ھے اور اور روپے کی قدر کو بھی سہارہ دئیے ھوۓ تھا تو ظالموں اس سے ھی سیکھ لیتے معاشیات؟؟؟ یوں غریب عوام کی چیخیں تو نا نکلتیں؟؟؟ لیکن یہاں پھر وھی سوال اھم ھے کہ کرپشن اور اھلیت کا امتزاج بہتر ھے یا کرشن اور نااھلیت کا؟؟؟ جواب ظاھر ھے ک دو دھاری تلوار کے وار سے بہتر ھے کہ تو بندہ ایک دھاری تلوار سے زخم کھاۓ!!!

اب جوں جوں اپوزیشن عید کے بعد احتجاج کی بات کرتی ھے اور افطاریوں پر جمع ھو رھی ھے۔ سوشل میڈیا پر نواز چوری اور زرداری کی کرپشن کے رنگ برنگے پوسٹر اور گرافکز نمودار ھونا شروع ھوگئے۔ لیکن یہاں بنیادی کمی اس بات کی رہ گئی کہ آج پی ٹی آئی بھی کرپشن کےتعلق سے صاحب اولاد ھو چکی ھے۔ یہ پارٹی فنڈز کی چوری ھو یا پارٹی الیکشن میں علیم خان، پرویز خٹک اور جہانگیر ترین کی دھاندھلی ھو یا کے پی کے میں پرویز خٹک اور جہانگیر ترین کی کرپشن کی تحقیق کرنے والے احتساب کمیشن کے جنرل حامد خان کےاختیارات پر راتوں و رات شبخون مارنے کی پرانی بے شرمی کی داستانیں ھو۔۔۔یا جہانگیر ترین کی سپریم کورٹ سے نا اھلیت، علیم خان کی آف شور کمپنیاں،اعظم سواتی کی غریب خاندان سے بدمعاشی، فیصل واڈا کی ناجائز دولت، عامر کیانی کی وزارت صحت میں کروڑوں کی کرپش، نعیم الحق کے بھتیجے کی ناجائز تقرری، سانحہ ساھیوال، ڈی پی او پاکپتن کی معزولی، پشاور میٹرو کی کرپشن، ایک ارب درختوں کی سونامی کی بد نامی، کے پی کے وزیر صحت کی دن دھاڑے غنڈہ گردی اور میو ھسپتال سے بھتہ خوری جیسے تازہ جرائم کی فہرست۔۔۔الغرض”منی“ اب بدنام ھوچکی ھے۔ اور پی پی پی اور نون لیگ کے رنگ میں رنگ چکی ھے۔ 

تو عوام یہ سوچنے میں حق بجانب ھے کہ آخر پی ٹی آئی کے پاس نیا کیا ھے؟ اور ھم مہنگائی کے عفریت کا مقابلہ کس امید پر کریں؟؟؟ اگر اس نام نہاد ریاست مدینہ کے والی خود تو وھی گلچھرےاڑا رھے ھیں توھمیں کیوں آئی ایم ایف کےتوپ کے دھانے سے باندھ دیاگیا ھے؟؟؟

اب اگر ھم  ڈونکی راجہ پر لعنت بھیج کر ان بگڑتے حالات میں صرف پاکستان کا سوچیں تو کرنے والے پہلے دس کام کچھ یوں ھیں:

١۔ پاکستان اسٹیٹ بنک کو فوراً آئی ایم یف کے تسلط سے آزاد کر وائیں۔
٢۔آئی ایم ایف کے بجاۓ چین سے چھ اب ڈار کے قرضہ کیلئے مذاکرات کریں اور چین کے سی۔پیک کے حوالے سے مفادات کو ایسپلائیڈ کرتے ھوۓ اپنے مفادات حاصل کریں اور دونوں کیلئے ون۔ ون حل تلاش کریں۔
٣۔فسکل پالیسی کے تحت قومی سرمایہ کاروں اور شہریوں کو ٹیکس میں چھوٹ دے کر معیشت میں منی سپلائی بڑ ھائیں۔ اور حکومت قرضہ لیکر معیشت پر لگاۓ۔ جسے عرف عام میں ڈیفیسٹ سپینڈنگ کہتے ھیں۔  اس سے ملک میں نوکریاں اور منی سپلائی بڑھے گی۔
٤۔ مالیاتی پالیسی کے حوالے سے افراط زر کو ختم کرنے کیلئے حکومت کو شرح سود میں اضافہ کرنا ھوگا۔ اس سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں میں روپے کی طلب میں اضافہ ھوگا اور روپیہ اپنی ویلیو بحال کر سکے گا۔ 
٥۔ عوام ڈالر کا استعمال ترک کریں اور روپیہ کی طلب میں اضافہ کریں۔
٦۔عوام ملکی برآمدات کااستعمال کم کریں تانکہ زیادہ سے زیادہ مقدار برآمد ھو سکے۔ اسی طرح عوام درآمدات کی ھوئی غیر ملکی اشیا کا استعمال ھنگامی بنیادوں پر کم کر یں تانکہ تجارتی خسارہ کم کیا جا سکے۔ 
٧۔حکومت اپنے تمام اداروں اور محکموں میں 50% بجٹ کی کٹوتی کرے۔
٨۔ حکومت کرپشن پر قابو پاۓ اور لوٹی ھوئی رقم کی بحالی کیساتھ ساتھ بھاری جرمانہ وصول کرے۔ اس سلسلے میں نیب کے تمام کیسوں کو ھنگامی بنیادوں پر شفاف طور ر ڈیل کرے۔اور ملک میں پاناما لیکسز کے تمام ملزمان کی فوراً تحقیقات شروع کرواۓ۔ 
٩۔ملکی قرضہ معاف کروانے والوں سے قرضہ بمعہ سود تین ماہ کے عرصہ میں وصول کرے۔ 
١٠۔ملکی ٹیکس چوروں کا فوراً احتساب کرے اور چوری کیاھوا ٹیکس وصول کرے۔ 

یہ وہ دس نکاتی پروگرام ھے جو ملکی معیشت کو سہارہ دےسکتا ھے۔ لیکن اس کیلئے پہلے حکومت کو عوام میں اپنا اعتماد بحال کرنا ھوگا اور گڈ گورنس کی بنیاد ڈالنا ھوگی۔۔۔کیا ڈونکی راجہ یہ کام اپنی پارٹی کے کرپٹ ٹولے سے شروع کر سکے گا؟؟؟

اگر کر سکتا ھےتو شروعات جہانگیر ترین اور پرویز خٹک سے کرے۔۔۔وگرنہ عید کے بعد وھی کرپٹ ٹولہ واپس آیا چاھتا ھے جو کرپٹ تو ھے لیکن عوام کو ریلیف دیئے ھوئے تھا۔ 

آخر میں سرکس کے رنگ ماسٹر سے التماس ھے اگلی دفعہ کھوتا دیکھ بحال کر چنیں۔۔۔یا ھمت کریں اور خود آگے آئیں۔۔۔صف چھپتے بھی نہیں۔۔۔سامنے آتے بھی نہیں؟؟؟

 

سرکس کے رنگ ماسٹر

 


افکار و نظریات: سرکس