گلیاں ھو جان سنجھاں تے وچ ڈونکی یار پھرے

محبوب اسلم

ملک میں پھر احتساب کا موسم ھے۔۔۔لیکن لگتا یہی ھے کہ انصاف کی دیوی نے آنکھوں پر بندھی بلا امتیاز انصاف کی پٹی اتار پھینکی ھے اور احتساب کی تلوار خوب سوچ سمجھ کر تاک تاک کر نشانے پر لگارھی ھے۔ مجال ھے جو جہانگیر ترین، پرویز خٹک، علیم خان، فیصل واڈا، اعظم سواتی، سیف اللہ نیازی، عامر کیانی، عمران اسمعیل اور ان جیسے کتنے ھی دوسروں پر یہ دیوی غلطی سے بھی مہربان ھو جاۓ؟؟؟

اور اگر ھم نیب کے چئیرمین کی جھپیوں اور بوسوں کی بوچھاڑ سے آگے دیکھ سکیں تو محسوس ھوگا کہ نیب ڈونکی راجہ(عمران خان جس کو ایمپائیر نے انگلی تو انگلی پورے بوٹ اورکالے کوٹ کا بھی سہارہ دیا ھوا ھے)   اور اسکے ساتھ چوروں کی بارات کا احتساب اسلئیے نہیں کر سکتی کہ یوں تو یہ پورا ڈونکی ڈرامہ اور نوٹنکی دھڑام سے زمن بوس ھو جائیگی۔۔۔نوٹ فرمائیگا یہ میرے الفاظ نہیں ھیں بلکہ نیب کے چئیرمین کا بیان تھا بھی کچھ روز پہلے؟؟؟

تو پھر بات وھی ھے کہ سیاست کی گلیاں ”رقیبوں“ سے پاک کر دی جائیں اور پھر ڈونکی راجہ کو کھلا چھوڑ دیا جاۓ کہ جا بچہ جمہورا کیا یاد کرئیگا۔۔۔جا عیش کر۔۔اوہ معاف کیجیئگا جا جا کر حکومت کر۔۔۔ بس ریاست مدینہ کا تڑکا ذرا لگائی رکھ؟؟؟  

اب عوام شش و پنج میں ھے کہ خدا خدا کر کے یہ زرداری جیسی بڑی مچھلی ھاتھ آئی تو اب بلا امتیاز احتساب کی بات یاد آ رھی ھے؟؟؟ میرے خیال میں بات عوام کی درست ھے کہ چلو انتقاماً ھی سہی احتساب شروع تو ھوا۔۔۔لیکن ھائے رے عوام کی سادہ لوحی۔۔۔جناب اگر احتساب کا استعمال کسی ڈیل کو پایہ تکمیل تک پہچانے کیلئے کیا جا رھا ھے تو پھر یہ صرف رنگ بازی ھے۔ اور احتساب کے نام پر اگر مخصوص افراد کو سیاست سے باھر رکھنا مقصود ھے اور لوٹی ھوئی دولت کی بازیابی بھی مملکن نہیں تو بھی یہ ایک سیاسی ڈھکوسلہ ھے؟؟؟

اگر اس احتساب کو حقیقی معنوں میں پایہ تکمیل تک پہچانا ھے تو لوٹے ھوۓ پیسے کی بازیابی کیلئے ان چوروں کی جائیدادیں ضبط کریں اور ان پر کیس صرف اقاموں کا نہ ڈالیں اور کام پکا کریں۔ سب سے بڑھکر ڈونکی راجہ کے گرد جو لوٹوں اور چوروں کی بارات موجود ھے اسکیطرف بھی نظر کرم جلد از جلد ھو وگرنہ یہ ٹوپی ڈرامہ فیل ھے۔ 

اور اگر واقعی ھی احتساب احتساب کھیلنا ھے تو لگے ھاتھوں فوج کے جنرلوں کا آئین پاکستان کی پامالی کا بھی احتساب لے لیں۔۔۔زیادہ دور مت جائیں۔۔۔جنرل اسد درانی، جنرل اسلم بیگ، اور جنرل مشرف کیساتھ ساتھ جنرل فیضی کا ھی مزاج پوچھ لیں؟؟؟ اور گر یہ سب کچھ نہیں ھو سکتا تو عوام کو احتساب کے نام پر چونا لگانا بند کر دیں۔۔۔اور جسٹس فائز عیسی پر ریفرنس دائر کریں اور اس بیچارے کو اسکی کاپی عنایت کر دیں۔۔۔یوں سوشل میڈیا اور سیلیکٹڈ میڈیا پر یکطرفہ رونا دھونا بند کریں۔۔۔کہ عوام ساری ھی پیٹ کے چکر میں آدھ موئی نہیں ھے اور اوپر والا خانہ خالی نہیں رکھتی جناب بوٹ والے بھائی؟؟؟

اب آئیے بجٹ کیطرف۔۔۔غریب بیچارہ تو جھولیاں اٹھا اٹھا کر دھائیاں دے ھی رھا ھے کہ اوئے ڈونکی راجہ اور تیرے لانے والوں کا ککھ نہ رھے۔۔۔لیکن ھم جیسے سابقہ پی ٹی آئی ورکرز یہ سوچ رھے ھیں کہ آیا کچھ شرم عمران خان میں باقی رھی بھی ھے کہ بس اب فاتحہ پڑھ لی جاۓ؟؟؟ غضب خدا کا صحت اورتعلیم کے شعبے میں %20 کی کٹوتی کونسے تبدیلی کے نظریے پر پوری اترتی ھے۔۔۔کچھ تو بولو نامرادوں؟؟؟

اور وزیراعظم ھاؤس کا بجٹ %19 بڑھا دیا گیا؟؟؟ یہ تو تبدیلی کو ریورس گئیر لگ گیا۔ اب بھی اگر ھمارے اندھے تقلیدی بھائی اور بہن تبدیلی کے ڈرامے کو نہیں سمجھ سکتے تو پھر ذرا وہ عمران خان کی قمیض میں موری والی تصویر جھاڑ پونچھ کر ذرا دوبارہ سینڈ تو کرو۔۔۔چلو اچھے بچوں کام سے لگ جاؤ۔۔۔لیکن مجھے ذرا لسٹ بھیجنا کتنے یہ کام اندھی تقلید میں کر رھے ھیں، کتنوں کا پارٹی عہدیداروں کیساتھ روزگار فٹ ھے، کتنے عقل سے پیدل ھیں، اور کتنوں کو بس ٹرک دی بتی پچھے دوڑ لگان دا شونق اے؟؟؟

 

اور جاتے جاتے عمران خان سے گذارش ھے کہ تجھے کیا پڑی ھے تاریخ اسلام کی مثالیں دینے کی۔۔۔تو اپنا کام کر بھائی۔۔۔ڈٹ کر کھا اور کسرت کر۔۔۔باقی کے کام آپ ریحام بھابھی سے پوچھ لیں۔۔۔لیکن اب بوٹ والے ائمپائیر بھائی نے کہا کہ مدینہ کی ریاست والی بات میں دم ھے تو پھر تو بھی چوڑ ھوگیا اور اب غزوہ بدر پر طبع آزمائی کر ڈالی۔۔۔ بھائی تو بس ایک کام کر توکوئی پرچی ھی پکڑ کر پڑھ لے بھائی نہیں تو۔۔۔ تو پٹوائے گا ھمیں کسی دن؟؟؟

 

گلیاں ھو جان سنجھاں تے وچ ڈونکی یار پھرے

 


افکار و نظریات: ڈونکی Donkey