بسم اللہ الرحمن الرحیم

ثبوت اور عدمِ ثبوت کی چکی

نذر حافی

nazarhaffi@gmail.com

سزا دینا بچوں کا کھیل نہیں، جرائم پیشہ افراد پر گرفت وہی ڈال سکتا ہے جس کے اپنے اعصاب مضبوط ہوں، قانونی جنگ در اصل اعصاب کی جنگ ہوتی ہے،کتنے مضبوط اعصاب کے مالک ہیں وہ لوگ جو جانتے ہیں کہ  انہیں کوئی سزا نہیں دے سکتا۔ حالیہ گیارہ مہینوں میں ٹرینوں کے ایسے  79 ہولناک حادثات ہوئے ہیں جن میں کئی خاندان اجڑ گئے ہیں۔اس کی زیادہ سے زیادہ سزا یہی سننے میں آرہی ہے کہ وزیر ریلوے کا محکمہ تبدیل کردیا جائے گا۔ان 79 حادثات کا خون کسی کے سر نہیں، اور کسی کو اس کا جواب نہیں دینا۔ کوئی ہے بھی نہیں جو اس کا جواب مانگے۔ جواب کس سے مانگا جائے!؟ کسی وزیر ،مشیر اور ریلوے کے آفیسر کا تو کوئی قصور ہی نہیں ہوتا،ہمارے ہاں ہمیشہ  قصور وار ٹرینوں کے ڈرائیور اور عملے کے وہی لوگ ہوتے ہیں جو حادثے کے شکار ہوجاتے ہیں۔کسی کے پاس کیا ثبوت ہے کہ مرنے والوں کے علاوہ بھی کوئی ان حادثات کا ذمہ دار ہے۔

ملک میں تیز رفتاری کے باعث آئے روز ٹریفک حادثات ہوتے ہیں، ہر حادثے کا ذمہ دار مر جانے والے ڈرائیور اور کنڈیکٹر کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے، لوگ ان حادثات کو اللہ کی مرضی کہہ کر چپ سادھ لیتے ہیں جبکہ گاڑیوں میں ایمرجنسی دروازوں کا نہ ہونا، حادثے کی صورت میں مسافروں کے حفاظتی سسٹم کا نہ ہونا، اور گاڑیوں کی مکینیکل  فٹنس کے نہ ہونے کو جرم ہی نہیں سمجھا جاتا۔ موٹر وے اور ہائی وے پر تو ڈرائیور حضرات کوپولیس کے  ٹائم ٹیبل کا بھی علم ہے  اور وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کن اوقات میں ان کی رفتار کو کیمرے سے چیک کرنے والی پولیس نہیں ہوتی۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ کسی بھی گاڑی کے مکینیکل فالٹ یا  تیز رفتاری کی صورت میں  لوگ فوری طور پر پولیس کو موبائل ٹیلی فون سے اطلاع دے سکیں اور  ہر گاڑی میں ایسے ٹیلی فون نمبرز کے اسٹیکرز لگے ہونے چاہیے۔  لیکن بیچاری عوام کے پاس کیا ثبوت ہے کہ گاڑی میں مکینیکل فالٹ ہے یا  ڈرائیور تیز رفتاری سے کام لے رہا ہے۔

کہاجاتا ہے کہ حکومت مجرم عناصر کے گرد شکنجہ کسے ہوئے ہے  جبکہ اب تک اس حکومت کو  چین تین ارب ،سعودی عرب چھ ارب ،یو اے ای تین ارب اور قطر چار ارب ڈالر دے چکا ہے،لمحہ فکریہ ہے کہ ایک سال میں ملنے والی اتنی بڑی رقم کا عوام کی زندگیوں پر کیا اثر پڑا ہے!؟ بہر حال عوام کے پاس کیا ثبوت ہے کہ یہ رقم آئی بھی ہے یا نہیں! ہمارے عوام تو نوازشریف اور رانا ثنا اللہ  کے خلاف ثبوتوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور یہاں ایک سال میں مہنگائی میں دوسوفیصد اضافہ ہوا ہے۔

اقتصادی اور تجارتی صورتحال یہ ہے کہ آل پاکستان انجمن تاجران نے 13جولائی کو پورے ملک میں شٹر ڈائون ہڑتال کا اعلان کیا ہے، لوگ ٹیکس دے بھی رہے ہیں اور مزید دینے کو تیار بھی ہیں لیکن حکومت اس پر تیار نہیں کہ وہ ٹیکس سسٹم کی ادائیگی میں موجود  خامیوں کو دور کرے۔ ٹیکس کی ایک بڑی رقم حکومتی خزانے کے بجائے ٹیکس وصول کرنے والوں کی جیب میں چلی جاتی ہے۔البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ  عوام اور تاجروں کے پاس اس کا  کیا ثبوت  ہے کہ ان کا دیا ہوا ٹیکس کوئی اور ہڑپ کرجاتا ہے۔

آپ کو یہ جان کر بھی خوشی ہوگی کہ قومی مفاد کی خاطر آٹے کی 80 کلو والی بوری کی قیمت میں 550 روپے اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد 2 من آٹے کی بوری 2800 سے بڑھ کر 3350 روپے کی ہو گئی ہے جبکہ فائن میدے کی بوری پر 700 روپے کا اضافہ کیا گیا۔عوام کو اس سلسلے میں اف کہنے کی بھی اجازت نہیں چونکہ عوام کے پاس کیاثبوت ہے کہ یہ اضافہ قومی مفاد میں نہیں کیا گیا!

ہمارے ہاں ثبوت ملنے اور نہ ملنے کی بنیاد پر بڑے بڑے  عجیب فیصلے ہوتے ہیں، 2013 میں اسلام آباد میں ایک خود کش حملہ ناکام ہوا تھا البتہ اس حملے میں حملہ آور کی فائرنگ سے مسجد کا ایک سیکورٹی گارڈ شہید اور کچھ افراد زخمی ہوئے تھے۔حملہ آور کو  بروقت گولی مار کر ہلاک کردیا گیاتھا، یہ اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ تھا کہ جس میں حملہ آور  کی مکمل شناخت ہوئی تھی اور اس کے سہولتکار بھی پولیس نے گرفتار کئے تھے، گزشتہ ہفتے عدالت نے ان سارے سہولتکاروں کو یہ کہہ کر بری کردیا ہے کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں۔ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم  کہاں کھڑے ہیں! ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ہم ثبوت اور عدمِ ثبوت کی چکی میں  پسنے والی قوم ہیں، ہمارے ہاں اگر ثبوت ملنے پر آجائیں تو ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف بھی مل جاتے ہیں اور نہ ملنے پر آئیں تو دہشت گردوں کے سہولتکاروں کے خلاف بھی نہیں ملتے۔