بسم اللہ الرحمن الرحیم

موت کی آغوش میں مسکراتی ہوئی  زندگی

نذر حافی

nazarhaffi@gmail.com

 موت کے سیلاب میں ہر خشک و تر بہہ جاتا ہے، موت صرف جاندار اجسام کو نہیں آتی بلکہ  کبھی کبھی افکار و خیالات، اداروں، تنظیموں اور نظریات کی بھی موت واقع ہوجاتی ہے،موت جتنی خاموش، اچانک اور تیزی سے واقع ہوتی ہے ، اتنی ہی دلخراش، بھیانک اور خوفناک ہوتی ہے۔ میں ایک ایسی ملت سے تعلق رکھتا ہوں اور ایک ایسے ملک میں رہتا ہوں جہاں بدقسمتی سے ناگہانی اموات کی بہتات ہے، یہ ناگہانی اموات صرف ٹریفک حادثات اور ہسپتالوں میں واقع نہیں ہوتیں بلکہ معاشرتی جبر کے ہاتھوں ہر روز یہاں  انسانوں کے دل و دماغ میں بھی  یہ ناگہانی  اموات واقع ہوتی رہتی ہیں، یہاں   ہمارے اخلاقی انحطاط کی وجہ سے بھی لوگوں کی  امیدیں مرتی اور خواہشات دم توڑ تی رہتی ہیں۔

انسانی اخلاق، دینی اقدار اور معاشرتی بھلائی کی موت کے اس دور میں مجھے نیم مردہ ہوئے ایک عرصہ ہو چکا ہے۔ آج میرے جیسے کروڑوں پاکستانیوں کو  دینی، اخلاقی، نظریاتی اور اجتماعی فرسٹ ایڈ اور ایمرجنسی آکسیجن کی ضرورت ہے۔ میں گزشتہ دنوں اسلام آباد میں  ایک جگہ کچھ عزیزو اقارب کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک سب لوگ کھڑے ہوگئے، آنے والی شخصیت کے احترام میں سب بچھے جا رہے تھے۔ استفسار پر معلوم ہوا کہ یہ معززو محترم  شخصیت مولانا تصور حسین جوادی ہیں، جی ہاں یہ وہی تصور حسین جوادی ہیں جنہیں چند سال پہلے آزادکشمیر میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔آزاد کشمیر کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا منفرد اور پہلا واقعہ ہے۔ اس طرح کے واقعات کی اس سے پہلے اور اس کے بعد کوئی نظیر نہیں ملتی۔ البتہ حملہ آوروں کی گرفتاری کے حوالے سے ہمارے ریاستی اداروں کی کارکردگی ویسی ہی ہے جیسی عمومی طور پر ہوتی ہے اور اس پر مزید روشنی ڈالنے کی گنجائش نہیں۔

مولانا جوادی صاحب سے یہ میری پہلی ملاقات تھی، مجھے معلوم تھا کہ حملے میں ان  کی شہ رگ کٹ گئی تھی اور خدا نے انہیں دوبارہ زندگی عطا کی ہے۔ ان سے ملنے اور ان کی باتیں سننے کے بعد خصوصا اتحاد امت، ملت میں سیاسی و اجتماعی شعور اور وحدتِ اسلامی کے حوالے سے ان کی جدوجہد سے آگاہی اور ان کے پختہ عزم و ارادے کو دیکھ کر  مجھے احساس ہوا کہ در حقیقت  مولانا جوادی کو نئی زندگی نہیں ملی بلکہ ان کے ذریعے مجھ جیسے بے عمل ، کم ہمت اور نظریاتی طور پر تھک جانے والے لوگوں کو  ان کی ہمنشینی سے حیاتِ نو مل رہی ہے، ان سے ملاقات کے بعد  مجھ جیسے لوگوں کی  ٹوٹی ہوئی امیدیں پھر سے بندھ جاتی ہیں،اس وقت مولانا جوادی کی شخصیت چلتی پھرتی شمع حیات ہے اور لمحہ بہ لمحہ اس چراغ سے کئی چراغ جل رہے ہیں۔ خصوصاً میں ان کا یہ جملہ کبھی بھی  نہیں فراموش کر سکتا کہ شہ رگ کٹنے کے بعد ملکی سلامتی، ملی بیداری اور وحدتِ اسلامی کے ایجنڈے سے میں بالکل پیچھے نہیں ہٹا اور گھر میں نہیں بیٹھا۔ان کا یہ جملہ بتا رہا ہے کہ بلاشبہ قاتل جسے موت کی ضرب سے مارنا چاہتا تھا اب  وہ ملت کے افق پر  زندگی کا استعارہ بن کر جگمگا رہا ہے۔

اس واقعے کو ابھی کچھ دن ہی گزرے تھے کہ اطلاع ملی کہ گجرات سے قبلہ مولانا جعفر خوارزمی  اسلام آباد آئے ہوئے ہیں، مجھے یہ خبر تھی کہ انہیں بلڈ کینسر ہو چکا ہے، ان کے ساتھ دیرینہ قربت کے باعث مجھ میں ہمت نہیں تھی کہ میں انہیں بستر بیماری پر دیکھوں، البتہ کچھ بزرگان ان کی عیادت کو جا رہے تھے تو میں بھی ان کے ہمراہ ہو لیا، ان سے ملاقات کے بعد مجھے پتہ چلا کہ بیمار وہ نہیں ہیں بلکہ درحقیقت  مجھ جیسے وہ  لوگ  بیمارہیں، جو  تصویر کا صرف ایک رُخ دیکھتے ہیں۔ قبلہ جعفر خوارزمی  تو اپنی بیماری پر بار بار شکرِ خدا انجام دے رہے تھے، ان کا کہنا تھا کہ یہ بیماری ان کے لئے بہت سی برکات لے کرآئی ہے، ان میں سے ایک صلہ رحمی ہے، کئی کئی سالوں سے ناراض عزیزو اقارب ان سے راضی ہو گے ہیں، انہیں توبہ و استغفار کا مزید موقع ملا ہے اور ان کے خاندان  نیز دوستوں  میں بھی  اس بیماری کی وجہ سے  دعا و مناجات، احساس، ہمدردی اور خلوص جیسے جذبات کی تجدید ہو گئی ہے۔ان کی باتوں نے  بیٹھے بیٹھے چند ہی لمحوں میں ہی ساری محفل کو ایک الٰہی و عرفانی جہت دے دی۔

مولانا تصور جوادی اور قبلہ جعفر خوارزمی صاحب سے مل کر میں نے یہ محسوس کیا کہ دین انسان پر کتنے دوررس اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہ ان کی دینی تعلیم و تربیت کا ہی نتیجہ ہے کہ یہ شخصیات موت کو بھی زندگی سمجھتی ہیں اور اپنے ارداگرد زندگی بانٹتی ہیں۔ انہیں ہماری عیادت و زیارت کی ضرورت نہیں بلکہ ہمیں ان سے ہمت، جرات اور حوصلہ سیکھنے کی ضرورت ہے۔

میری تمام قارئین سے گزارش ہے کہ ایسے دیندار افراد سے ضرور ملیں جو موت اور مشکلات سے پنجہ ازما ہیں، ان سے مل کر آپ کو پتہ چلے گا کہ علم دین حاصل کرنے کا انسان کو کیا فائدہ ہے۔ ان کے پاس سکون، ہمت، حوصلے، باوقار دنیا اور باسعادت آخرت کی وہ دولت ہے جو دنیا کے کسی اور شخص کے پاس نہیں۔جی ہاں ان سے ضرور ملئے، ان سے مل کر آپ کو موت کی آغوش میں مسکراتی ہوئی زندگی دکھائی دے گی۔