بسم اللہ ا لرحمن الرحیم

ٹیکس حلال ۔۔۔نمک حرام

نذر حافی

ٹیکس کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، ساری دنیا میں عوام سے ٹیکسز وصول  کر کے انہیں سروسز فراہم کی جاتی ہیں۔ہمارے سکول جانے والے بچے بھی  اگر ایک پنسل خریدتے ہیں تو اس پر  بھی ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ ایک  عام اور سادہ سی کچی پنسل کے کاربن اور لکڑی کی اصلی قیمت ایک روپیہ بھی نہیں بنتی لیکن ٹیکسز کی بدولت وہی پنسل ہم بیس سے پچیس روپے میں خریدتے ہیں، یہی حال دیگر اسٹیشنری اور اشیا کا بھی ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے وزیراعظم صاحب کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لوگ ٹیکس نہیں ادا کرتے۔ہمارے  ہاں پینے کے پانی، بجلی، گیس  اورڈسپرین کی گولی سمیت قبروں پر بھی ٹیکس ادا کیاجاتا ہے ،عوام  کے ٹیکسز  سے تنخواہیں لینے والے افراد اور ادارے عوام کی کیا خدمت کرتے ہیں اس کا اندازہ  آئے روز ہونے والے حادثات اور سانحات سے لگایاجاسکتا ہے۔

گزشتہ روز سکردو سے راولپنڈی جانے والی بس کا حادثہ ہوا جس میں چھبیس آدمی موقع پر ہلاک ہوگئے، ان ہلاکتوں کی ذمہ داری بھی تیز رفتار ڈرائیور یا بریک فیل ہونے پر ڈال دی جائیگی۔

نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا

یہ خونِ خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا

اسی طرح آئے روز سی این جی گیس سلنڈر پھٹنے سے کتنے ہی لوگ جھلس کر مر جاتے ہیں لیکن کسی پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوتی۔ہسپتالوں میں باولے کتے کے کاٹے  کے علاج کی ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے لوگ دم توڑ دیتے ہیں۔لاری اڈوں اور انسانی آبادیوں کے ارد گرد گندگی ، کچرے اور غلاظت کے ڈھیر  ٹیکس خوروں کا منہ چڑھا رہے ہیں۔

ٹریفک حادثات چاہے تیز رفتاری اور گاڑیوں کی  مکینیکل  ان فٹنس کی وجہ سے ہوں یا سڑکوں کی غلط ڈیزائنگ اور ناقص میٹیریل کی وجہ سے ان کی ایف آئی آر متعلقہ محکمے کے اس ذمہ دار افیسر پر کٹنی چاہیےجس کی وجہ سے گاڑی کی رفتار اورمکینیکل حالت  کا نوٹس نہیں لیا گیا اور سڑکوں کی غلط ڈیزائننگ اور ناقص تعمیر کی وجہ سے ہونے والے حادثات کی ایف آئی آر ان ایم این ایز، ایم پی ایز ، ٹھیکیداروں اور انجینئرز پر کٹنی چاہیے جو عوامی خزانے سے کروڑوں روپے ہتھیانے کے باوجود عوام کی جان کے ساتھ کھیلتے ہیں۔

بے حسی ، منافقت اور منافرت کی انتہا تو دیکھئے! بعض افراد کا کہنا ہے کہ آپ صرف اور صرف موجودہ حکومت سے عوام کو بد ظن کریں باقی ٹیکسوں کی لاگت اور سرکاری اداروں کی اصلاح کی بات نہ کریں۔بس عوام کو یہ سمجھائیں کہ صرف موجودہ حکومت ہی ظالم اور غاصب ہے، بس اس کیلئے کمپین چلائیں۔ادارے جوکچھ کر رہے ہیں یہ سب ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا ،لہذا اسے چھیڑنے کی ضرورت ہی نہیں۔

ان بیمار سوچ والوں  کا کہنا ہے کہ اگر پولیس تنخواہیں لے کر عوام کی فریاد نہیں سنتی تو لوگ تھانے میں جاتے کیوں ہیں! خود سے جرگے کریں اور مسائل حل کریں۔ اگر لاری اڈوں اور پبلک مقامات  پر گندگی ہے تو لوگ ٹیکس نہ دیں اور بالٹیاں و بیلچے اٹھا کر  خود سے صفائی کریں اور ویسے بھی صفائی نصف ایمان ہے۔ اگر  ہسپتالوں میں جعلی دوائیاں فروخت ہوتی ہیں یا ویکسین نہیں ملتی تو دیسی اور سنتی طب سے علاج کریں، اگر مسنگ پرسننز کا مسئلہ حل نہیں ہوتا اور عوام کو تحفظ نہیں ملتا تو عوام  جواب میں  ایک  کےبجاےپانچ پانچ اور دس دس  اغوا کرنے شروع کردیں۔اگر ٹرانسپورٹرز عوام سے اضافی کرایہ لیتے ہیں تو عوام بھی اپنے اپنے علاقے میں رکاوٹیں کھڑی کر کے من مانی چونگی وصول کریں۔ایساکرنے سےموجودہ  حکومت بدنام ہوگی اور ہمیں حکومت کرنے کا موقع ملے گا۔

المختصر یہ کہ ہمارے ہاں ایک طرف طاقتور سیاسی مافیا اور  ٹیکس خور طبقہ ہے جو عوام کے خزانے سے تنخواہ لیتا ہے اور اسے کوئی پرواہ نہیں کہ عوام پر کیا بیت رہی ہے اور دوسری طرف سیاسی مفاد پرست اور بیمار سوچ ہے جسے عوامی مسائل کو حل کرنے کے بجائے کُرسی اور اقتدار کی فکر ہے۔ایسے میں عوام کو مسائل کے حل کیلئے درست راستہ دکھانے کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت کوئی بھی ہو اور حکمران جو بھی ہو جب تک سیاسی مافیا اور  ٹیکس خور طبقہ حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت پر مجبور نہیں ہوتا تب تک عوام کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔

اگر اس ملک کے اداروں میں کہیں ایک فی صد بھی دیانتدار حضرات موجود ہیں تو اس ضمن میں ہماری عرض یہ  ہے کہ  تمام ہسپتالوں،ڈسپنسریوں،تھانوں، لاری اڈوں ، اور گاڑیوں کے شیشوں پرفوری  شکایت کے لئے ٹیلی فون نمبرز درج  ہونے چاہیے تاکہ  ڈاکٹروں کی غفلت، جعلی دوائیوں کی فروخت، گندے ہوٹلوں، اضافی کرایہ وصول کرنے والے ٹرانسپورٹرز ، گاڑیوں کی فنّی خرابی ، انسانوں کی سمگلنگ،جبری گمشدگان، منشیات فروشی، یا غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کی شکایت لوگ خود سے بروقت کر سکیں۔اگر ٹیکس خوار برادری ویسےمفت میں مکھی تک نہیں مارتی تو کم از کم شکایت درج ہونے کی صورت میں تو عوام کا نمک حلال کرے۔اگر عوام سے ٹیکس لے کر عوام کی خدمت کی جائے تو یہ ٹیکس حلال ہے ورنہ اس ملک میں مسلسل عوام کا نمک کھا کر عوام کے ساتھ نمک حرامی کی جا رہی ہے۔

 

 


افکار و نظریات: ٹیکس حلال ۔۔۔نمک حرام