اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات مستشرقین کے دو حربے تحریر: نذر حافی غیر جانبداری کا لفظ بہت پیارا ہے، اکثر روشن فکر حضرات کو نیوٹرل رہنے یا غیر جانبدار رہنے کی تاکید کی جاتی ہے، لیکن آپ ڈھونڈ کر دیکھئے، کہیں آپ کو کوئی غیر جانبدار آدمی نہیں ملے گا۔ ایک اصول پرست اور پڑھے لکھے انسان کے لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ خدا اور شیطان، علم اور جہالت، ظالم اور مظلوم، قصوروار اور بے قصور کے درمیان ہونی والی چپقلش کو دیکھ کر غیر جانبدار ہو جائے۔ انسان کی فطرت اسے مجبور کرتی ہے کہ وہ صحیح کی جانبداری کرے اور غلط کی مخالفت کرے۔ جب معاشرے میں صحیح اور غلط کا جھگڑا شروع ہوتا ہے تو مختلف مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ انسان کا یہ یقین کرنا کہ وہ اپنے معاشرتی مسائل کو اپنی فکر اور سوچ و بچار سے حل کرسکتا ہے، روشن فکری کہلاتا ہے۔ ایک روشن فکر انسان اس بات کو سمجھتا ہے کہ معاشرتی مسائل خرافات و توہمات، جنگ و عداوت، تعصب و نفرت اور دباو اور طاقت سے حل نہیں ہوسکتے، چنانچہ وہ ان سب چیزوں کا نقاد ہوتا ہے۔ یہ نقد اور روشن فکری دو طرح کی ہے، ایک یہ ہے کہ انسانی معاشرتی مسائل کو حل کرنے کے لئے ایک خدا موجود ہے، جس نے ہر دور اور زمانے کے لئے انبیاء مبعوث کئے اور کتابیں نازل کیں۔ لہذا انسانی مسائل کے حل کے لئے خدا، انبیاء اور آسمانی کتابوں کی تعلیمات سے استفادہ کیا جائے اور یہ عقیدہ رکھا جائے کہ خدا دنیا کے ہر انسان کا خدا ہے، وہ ہر انسان سے محبت کرتا ہے اور تمام الٰہی ادیان اور کتابیں اپنے اپنے زمانے کے انسانوں کے مسائل کی گرہیں کھولتی تھیں۔ لہذا انسان جب کسی مسئلے کا کوئی حل پیش کرے تو وہ پورے عالمِ بشریت کو نگاہ میں رکھے۔ یہ معقول روشن فکری ہے، جبکہ غیر معقول روشن فکری یہ ہے کہ انسان خدا، فرشتوں، انبیاء، آسمانی ادیان اور الٰہی کتابوں کا انکار کرے اور انسانی مسائل کا حل صرف اور صرف اپنی سوچ و بچار کو قرار دے۔ یہ غیر معقول روشن فکری ہے، چونکہ تاریخ بشریت اس بات پر گواہ ہے کہ ہر دور میں انسانی مسائل کو حل کرنے کے لئے ادیان الٰہی اور انبیاء لوگوں کے درمیان موجود رہے ہیں۔ لہذا اس زندہ حقیقت سے آنکھیں بند کرکے یعنی انسان خود خدا کی جگہ پر بیٹھ کر انسانی مسائل کا حل تلاش کرے، یہ غیر منطقی اور غیر عقلی کام ہے۔ معقول روشن فکری کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان تعلیماتِ خدا کے مطابق صحیح اور غلط کی تشخیص دے کر صحیح کا ساتھ دیتا ہے اور غلط کا راستہ روکتا ہے، جبکہ غیر معقول روشن فکری کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان صحیح اور غلط کی تشخیص کے بجائے نیوٹرل اور غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتا ہے۔ بطورِ کلی ایک روشن فکر ایسے انسان کو کہتے ہیں، جو کسی معاشرے اور ملک کا مقامی فرد ہوتا ہے اور اپنے معاشرے کے مسائل کے حل کے لئے تجزیہ و تحلیل کے ساتھ لائحہ عمل پیش کرتا ہے، جبکہ مستشرق وہ ہوتا ہے، جو مقامی نہیں ہوتا بلکہ اسلام کو سمجھنے کے لئے مغرب سے مشرق کا رخ کرتا ہے۔ اب جدید تعریف کے مطابق مغرب کی قید اٹھا دی گئی ہے اور ہر وہ غیر مسلم جو اسلام کے بارے میں تحقیق کرتا ہے، اسے مستشرق کہتے ہیں۔ یہاں پر یہ ذکر ضروری ہے کہ ظہورِ اسلام کے وقت جب لوگ جوق در جوق مسلمان ہو رہے تھے، تو وہ اسلام کے معقول پیغام کو سن اور سمجھ کر مسلمان ہو رہے تھے۔ کسی بھی مسلمان ہونے والے کو نہ ہی تو کوئی جاگیر دی جاتی تھی، نہ باغات اور نہ ہی اونٹ بلکہ مسلمان ہونے والا اسلام کی منطق اور فطرت کے مطابق معارف سے متاثر ہو کر مسلمان ہو جاتا تھا۔ مکے اور مدینے کے کفار، یہودیوں اور مسیحیوں کے علاوہ دور دراز کے ممالک سے بھی لوگ اسلام کا پیغام سننے کے لئے پیغمبر اسلام کی خدمت میں تشریف لاتے تھے، سوالات پوچھتے تھے، کبھی مسلمان ہو جاتے تھے اور کبھی مسلمان ہوئے بغیر اسی سوچ و بچار میں واپس چلے جاتے تھے۔ واپس جا کر وہ اپنی اقوام و قبائل میں اسلام کا تعارف کرواتے تھے اور یوں مزید لوگ اس پیغام کو سمجھنے کے لئے پیغمبرِ اسلام کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے۔ لوگوں کا اس طرح ذوق و شوق سے مسلمان ہونا، غیر مسلموں کے لئے سخت تشویش کا باعث تھا، بعد ازاں پیغمبرِ اسلام ﷺ نے جب دیگر ممالک کے بادشاہوں کو اسلام کی قبولیت کا پیغام بھیجا تو دیگر ادیان کے دینی رہنماوں کے ساتھ ساتھ بادشاہوں کو بھی اسلام سے شدید خطرہ محسوس ہوا۔ یہ وہ دور تھا کہ جب غیر مسلم دانشمند اس حقیقت کو سمجھ چکے تھے کہ وہ تلوار کے ساتھ اسلام کا راستہ نہیں روک سکتے، چونکہ اسلام کو لوگ عقل کے ساتھ قبول کر رہے تھے۔ چناچہ اسلام کی تبلیغ کو روکنے کے لئے اس بات کو عام کیا گیا کہ آپ یہ حق اور باطل، صحیح اور غلط کی باتیں چھوڑ کر نیوٹرل ہو جائیں۔ آپ کے لئے نعوذباللہ بُت بھی اور اللہ کی ذات بھی برابر ہے، اگر آپ بتوں کے نقائص نکالتے ہیں تو پھر نیوٹرل رہنے کے لئے معاذاللہ، اللہ کی ذات میں بھی خامیاں تلاش کریں۔ اگر آپ تورات و انجیل میں تحریف کے قائل ہیں تو نعوذباللہ قرآن مجید میں بھی تحریف کو قبول کریں۔ مستشرقین کا یہ وہ حربہ تھا، جو کارگر ثابت ہوا اور آج تک مسلمان ممالک میں اس نیوٹرل پن کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ بعد ازاں ایک طرف مسلمانوں نے اسلامی حکومت کو ملوکیت میں تبدیل کیا اور دوسری طرف اسلام سے سہمے ہوئے غیر مسلم اسلام کے بارے میں تحقیق کرنے میں مشغول ہوگئے۔ مجموعی طور پر تین طرح کے لوگ اسلام کے بارے میں تحقیق کرنے میں مشغول ہوئے: عیسائی مبلغین، علم و قلم کے ساتھ عیسائیت کی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے، وہ لوگوں کو اسلام سے بدظن کرنے کے لئے مسلمانوں کے نکات ضعف کو برجستہ کرتے تھے، لوگوں کے ذہنوں میں اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات ایجاد کرتے تھے اور اسلام کا عیسائیت سے غلط موازنہ کرکے لوگوں کو عیسائیت کی دعوت دیتے تھے۔ آپ تحقیق کرکے دیکھ لیجئے کہ قرآن مجید کا لاطینی میں پہلا ترجمہ 1143ء عیسوی میں ہوا اور ترجمہ کرنے والا کوئی مسلمان نہیں تھا اور نہ ہی کسی مسلمان حکمران نے یہ ترجمہ کیا تھا بلکہ فرانس کے کلیسا کے سربراہ یعنی کشیش جس کا نام پِطرُس تھا، اس نے یہ ترجمہ کیا۔ اگرچہ اس ترجمے میں بہت ساری غلطیاں موجود تھیں، لیکن چونکہ کسی مسلمان نے اصلاح یا نیا ترجمہ کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی، چنانچہ یہی ترجمہ جہانِ غرب میں مقبول رہا اور اسی ترجمے سے اٹلی، جرمنی اور ہالینڈ کی زبانوں میں بھی ترجمے کئے گئے۔ اب دیکھتے ہیں کہ مختلف حکومتوں کے جاسوس مستشرقین کیا کرتے تھے، ان کا کام مسلمانوں کے اہم مقامات، معدنی ذخائر، جنگی نظریات و طریقہ کار، باہمی روابط نیز مختلف اسلامی فرقوں کے اختلافات کو ڈھونڈنا ان کی معلومات کو قلمبند کرنا اور کسی مسلمان ملک سے جنگ ہونے کی صورت میں درست اعداد و شمار کے ساتھ اپنی حکومتوں کی بروقت رہنمائی کرنا تھا۔ مستشرقین کی فراہم کردہ معلومات کے باعث ہی اس وقت بھی اسلامی ممالک کے معدنی ذخائر کو نکالنے کی قراردادیں غیر مسلم ممالک سے بندھی ہوئی ہیں۔ اسی طرح جنگیں بھی مستشرقین کے نقشے کے مطابق لڑی جاتی تھیں، مثلاً آج بھی ہم میں سے کتنوں کو تو یہ بھی نہیں پتہ کہ صلیبی جنگوں کی تعداد کتنی ہے اور یہ کتنا عرصہ لڑی گئیں اور ان میں مستشرقین کا کیا کردار تھا؟ اب آیئے صرف تحقیق کرنے والے مستشرقین کی بات کرتے ہیں تو انہوں نے بھی مختلف زبانوں میں قرآن و حدیث کے ترجمے کئے اور اسلامی عقائد کو متعارف کروایا، اس کے ساتھ ساتھ کئی مستشرق مسلمان بھی ہوئے، لیکن زیادہ تر نے مذہبی تعصب کی بنا پر قرآن و حدیث کا اپنی زبانوں میں ترجمہ کرتے ہوئے، قرآن و حدیث پر اشکالات وارد کئے اور ساتھ ہی مسلمانوں کے عقائد کی غلط تبیین کی، تاکہ لوگ اسلام کو قبول کرنے کے بجائے اسلام سے متنفر ہونے لگیں۔ لوگوں کو نیوٹرل کرنے کی فکر دینے کے بعد لوگوں کو اسلام کی غلط تصویر دکھانا یہ مستشرقین کی دوسری چال تھی۔ سو اس میں بھی وہ کامیاب رہے اور یوں اسلام کا پھیلتا ہوا پیغام محدود ہوتا گیا۔ آج بھی یہ دونوں حربے ہمارے معاشرے میں عملا دکھائی دیتے ہیں۔ آپ کبھی بھی اصول پرستی کی بات کریں، آپ کو فوراً نیوٹرل ہونے کے بھاشن دیئے جائیں گے، مثلاً آپ تجربہ کرکے دیکھ لیں، آپ تازہ مثال لے لیں اور کسی فورم پر کہیں کہ سعودی عرب کی یمن پر جارحیت یا جمال خاشقچی کا قتل ظلم ہے، فوراً آپ کو میسج ملے گا کہ ایران بھی تو بہت ظالم ہے، آگے سے جب آپ دلائل دیں گے تو دلائل نہیں دیکھے جائیں گے بلکہ آپ سے کہا جائے گا کہ نیوٹرل ہو کر لکھیں۔ آپ ہزار چیخیں کہ بھائی معقول بات یہ ہے کہ ظالم کو ظالم کہو، لیکن صدیوں کی مغربی فکری غلامی کے باعث ہمارے سماج میں اب اس کا رواج نہیں رہا۔ اگرچہ ہر باشعور آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ظالم کے مقابلے میں نیوٹرل ہو جانا دراصل ظالم کی حمایت ہے، لیکن ظالم کی حمایت کا نام ہی نیوٹرل رکھ دیا گیا ہے۔ دوسرا حربہ اسلام کی شکل کو بگاڑ کر پیش کرنا تھا تو کتابیں لکھنے کے بعد اس دور میں عملی طور پر اسلام کو طالبان، القاعدہ، داعش، سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
آرشيو
nazarhaffi@gmail.com
1۔ عیسائی مبلغین
2۔ مختلف حکومتوں کے جاسوس
3۔ سچائی کی کھوج لگانے والے
آج سے ٹھیک ایک ہزار سال پہلے اس دور میں جب مسلمان اسلام کے پیغام کے بجائے تلواریں لے کر دنیا کو فتح کرنے نکل پڑے تھے، مغربی ممالک پر حملے کرتے تھے، شہروں کو آگ لگاتے تھے، عورتوں کو لونڈیا ں بناتے تھے اور مال و اسباب لوٹ کر لے جاتے تھے۔۔۔ اس دور میں مستشرق اس بات پر غور و فکر کرنے میں لگے تھے کہ کس طرح مسلمانوں کو مغلوب کیا جائے۔ جب ہمارے بادشاہ رنگ رلیاں منانے میں مصروف تھے، اس وقت مستشرق قرآن مجید کے تراجم میں مشغول تھے، وہ عربی سیکھ رہے تھے، مسلمانوں کے عقائد کو جانچ رہے تھے اور قرآن و حدیث پر کتابیں لکھ رہے تھے۔
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں