مستشرقین کی امام شناسی پر نقد
فاطمہ سادات علوی علی آبادی۔

اسلامی مذاہب یونیورسٹی تہران میں ڈاکٹریٹ کی اسٹوڈینٹ
ترجمه: سید سبط حیدر زیدی

مسئلہ امامت خصوصا حضرت علی علیہ السلا م کی امامت کے پیش نظرمستشرقین کی امام شناسی پر ایک تنقیدی جائزہ

خلاصہ:
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان اور آئمہ طاہرین علیہم السلام کے متعلق تحقیق و مطالعہ ،مستشرقین حضرات کے نزدیک قابل توجہ موضوعات میں سے ہے۔ اس مقالہ میں ہم بہت اختصار کے ساتھ استشراق کی پیدائش اور اس کے ضمن میں شیعہ مذہب کے نزدیک مفہوم امامت و خلافت کے موضوع سے آشنائی اور مستشرقین حضرات کے نزدیک حضرت علی علیہ السلام کی امامت کے متعلق کچھ اعتراضات و شکوک کی تحقیق پیش کی جائے گی۔ شیعہ مذہب کی تاریخی مظلومیت کو بیان کرنے کے لیے  مستشرقین کے اعتراضات وشکوک و شبہات کے جوابات دینے میں علماء اہل سنت و یہودی و عیسائی علماء کے نظریا ت سے استفادہ کیا گیا ہے۔
خصوصی الفاظ: امام شناسی، نقد مستشرقین، حضرت علی علیہ السلام، شیعہ،شیعہ امامت، استشراق، مستشرقین، خلافت، حضرت امام علی علیہ السلام کے علمی مقام کی نقد، حضرت امام علی علیہ السلام کا اخلاقی مقام

بیان مسأله :
مغربی ممالک کے لوگوں کی اسلام واقفیت و آشنائی کی ابتداء اور مغربی مستشرقین کا اسلامی تحقیق و مطالعات کی طرف مائل ہونے سے ان کے درمیان مختلف نظریے اور افکار وجود میں آئیں۔ ان مطالعات و تحقیقات میں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاندان اور آئمہ طاہرین علیہم السلام کا خاص مقام ہے ۔ حقیقی اسلام کے پھیلاؤ اور گسترش میں حضرت علی علیہ السلام کا بے نظیر و بے بدیل علمی و معنوی مقام اور خصوصا مذہب شیعہ کا اسم و رسم آپ سے منسوب ہونا اور
حضرت علی علیہ السلام
کا علم و عمل، شخصیت و زندگی نے ،مستشرقین کی نظر میں قابل توجہ موضوعات میں سے اس موضوع کو بہت زیادہ اہمیت و خصوصیات کا حامل بنا دیا ہے۔  بہت سے مستشرقین حضرات نے حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت و مقام کو علمی اعتبار سے ایک بے نظیر  شخصیت کے طور پر پیش کیا ہے ۔ ان منصف مزاج مستشرقین کے مقابل بعض مستشرقین نے مذہب شیعہ کے نزدیک مقام امامت سے ناآگاہی و ناواقفیت  کی وجہ سے اور شیعہ معتبر منابع سے استفادہ نہ کرنےاور بعض کچھ دشمنی و عناد کی خاطر یا سامراج افکار کے پروپیگنڈے کی بدولت دنیا والوں کے اذہان میں امامت اور خصوصا حضرت علی علیہ السلام کی امامت کے متعلق کچھ نامناسب تصاویر پیش کی ہیں۔ اس مقالہ کا بنیادی مقصد  مستشرقین کی افراط و تفریط کے مدنظر شیعہ مذہب کے نزدیک امامت کے مختلف ابعاد اور خصوصا شیعہ عقیدے میں حضرت علی علیہ السلام کی امامت پر بحث و تنقید ہے۔ اس مقالہ کی تحریر کا اصلی  ہدف، اس پیغام کو پہنچانا ہے کہ شیعہ محققین کو چاہیے کہ حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت اور مذہب شیعہ میں امامت کی صحیح و علمی تصویر بغیر کسی افراط و تفریط کے پیش کرکے معاند و مغرض مستشرقین کی راہ کو بند کردیں اور شیعہ امامت کی حقیقی تصویر دنیاولوں کے سامنے  پیش کریں۔
مقالہ کا اساسی مسئلہ ، شیعہ نقطہ نظر سے حضرت علی علیہ السلام کی امامت میں مستشرقین کی افراط و تفریط پر تنقید ہے۔

1- استشراق کی تعریف
لغوی اعتبار سے ، یہ لفظ (orient) سے ماخوذ ہے اور سورج کے نکلنے کے مقام کو کہا جاتا ہے اور یا" شرق"استشراق ،شرق شناسی، خاور شناسی" کا عمومی اصطلاح میں مطلب یہ ہے کہ مغربی لوگوں کی تحقیقات کہ جو مشرقی میراث سے متعلق ہو خصوصا مشرقی تاریخ، زبان، ادبیات ، ہنر، علوم، عادت و رسوم وغیرہ  کے مسائل سے مربوط انجام پائے۔ (1) لہذا خاور شناس یا مستشرق  وہ شخص وہ ہے کہ خود مغرب کا باشندہ ہو اور مشرق زمین سے متعلق تاریخ وزبان و ادبیات و ہنر وعلوم و عادات و سنن و رسوم وغیرہ اور ہر اس چیز کے بارے مین تحقیق کرے کہ جو مشرق کی میراث ہے ۔ (خاورشناسان و پژوہش ھای قرآنی،صغیر،ص13) استشراق یا خاورشناسی کے مختلف شعبے ہیں جیسے اسلام شناسی، عرب شناسی، ہند شناسی وغیرہ۔ اور اسی طرح کچھ اور فعالیتیں جیسے علمی وآثارقدیمہ کے انکشافات ،ثقافتی امور کی جمع آوری و حفاظت، کتاب شناسی و فہرست نویسی، روزنامہ نگاری، تحقیق و ترجمہ اور متون کی تصحیح اور ان کا نشرواشاعت وغیرہ ہیں۔(خاورشناسان و فرقہ شناسی ، نوری،ص174-200) ایک جملہ میں یوں کہا جاسکتا ہے :کلمہ  استشراق، مشرق زمین کی ثقافت کے معاملے میں مستشرقین کی فعالیتوں کا نام ہے ۔
یہ اصطلاح تمام علمی شعبوں کو شامل ہے کہ جس میں مشرق زمین کے متعلق تمام تحقیقات اعم از زبان ودین و علوم و آداب و رسوم و فنون وغیرہ سے بحث ہوتی ہے (سیر تاریخی و ارزیابی اندیشہ شرق شناسی ، الدسوقی، ص 88) استشراق کا ایک  خاص اصطلاح میں مطلب ہے کہ مغربی لوگوں کا اسلامی ،مشرقی ثقافت و عقائد، تاریخ و ادب اور لغات کے بارےمیں تحقیق کرنا ۔ جب کبھی بھی اسلامی دنیا میں استشراق و مستشرق کے متعلق گفتگو ہو تو یہی خاص اصطلاح مقصود ہوتی ہے (الخلیفۃ الفکریہ للصراع الحضاری ، زقزوق،ص18)

مسلمان خصوصا شیعہ نظریہ کے مطابق ، شرق شناسی ہمیشہ ابہام و تردید کے ساتھ دیکھی گئی ہے اور شرق شناس افراد کچھ حضرات کی جانب سے قابل قدر تجلیل اور بعض کی طرف سے تحقیر ہوئے ہیں۔بعض افراد نے  شرق شناسی اور شرق شناس افراد کی تحقیقات کو ایک ناب و مطلق حقائق کی طرح قبول کیا ہے اور کچھ لوگوں نے شرق شناسی کے علمی ہونے تک سے انکار کیا ہے (فرہنگ کامل خاورشناسان، بدوی، ص356-359)حقیقت یہ ہے کہ بعض مستشرقین نے مذہب شیعہ کے نزدیک مقام امامت سے ناواقفیت ،معتبرشیعہ منابع سے استفادہ نہ کرنے کی خاطر  اور دوسری وجوہات سے شیعہ دشمنی،یا سامراجی افکارکے پروپیگنڈے کی خاطر شیعہ عقیدے میں امامت کے متعلق دنیاوالوں کے ذہنوں میں نادرست و غلط تصویر ڈالی ہے ۔

مذہب شیعہ کےنزدیک مقام امامت کے بارے میں مستشرقین نے ناکافی معلومات ہونے کی وجہ سے دنیاولوں کے ذہنوں میں شیعہ امامت کےمتعلق غلط و نا مناسب تصویر ڈالی ہے ۔
بہر حال کچھ آخری صدیوں میں مستشرقین کے نظریات منصفانہ اور علمی بھی سامنے آئے ہیں۔ جیسے یوہان یاکوب رایسکہ، یوہان فوک، اڈویرڈ سعید مؤلف کتاب شرق شناسی بنام "ونسنگ" موسس و دائرۃ المعارف اسلام لیدن کا مفکر، جورج جرداق وغیرہ  البتہ اس طرح کے لوگوں کی تشویق  کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کے تمام نظریات قابل  تائید ہیں اور دوسری طرف اس طرح کے بہت محدود و معدود افراد کے باوجود دیگر مغرض و دشمن افراد سے بھی کوئی منافات نہیں ہے (شرق شناسی و اسلام شناسی غربیان، زمانی، ص136) مذہب شیعہ کے نزدیک مفہوم امامت کی تعریف کے ضمن میں بعض شرق شناس افراد کی امامت کے متعلق  آراء و تجاویز  اور خصوصا حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت کے متعلق نظریات اور پھر ان پر تنقید پیش کریں گے
شیعہ دشمنی یا سامراجی افکار کے غلط پروپیگنڈوں کی وجہ سے شیعہ عقیدے کے تحت امامت کی نامناسب تصویر دنیاوالوں کے ذہنوں میں پیش کی گئی ہے۔

2- شیعہ عقیدے میں امامت کا مفہوم
فارسی زبان میں لفظ "پیشوا" عربی زبان کے لفظ"امام" کا تحت اللفظی ترجمہ ہے ۔ پیشوا اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو آگے آگے ہو اور کچھ لوگ اس کے پیچھے ہوں؛ غض نظر اس کے کہ وہ پیشوا عادل اور ہدایت یافتہ ہو یا باطل و گمراہ۔ (امامت و رہبری ، مطہری،ص46) قرآن کریم میں لفظ امام کا دونوں مفاہیم میں استعمال ہوا ہے : وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً یَهْدُونَ بِأَمْرِنَا(سورہ انبیاء،آیت 73) اوردوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے : وَ جَعَلْناهُمْ أَئِمَّةً یَدْعُونَ إِلَى النَّارِ(سورہ قصص، آیت 41)
امامت ودینی پیشوائی اسلام میں ، تین جہتیں رکھتی ہے: اسلامی حکومت ؛ بیان معارف اور احکام اسلام؛ رہبری و ارشاد حیات معنوی۔
مذہب شیعہ کا عقیدہ ہے کہ چونکہ اسلامی معاشرہ مذکورہ تینوں جہات کا بہت شدت سے ضرورتمند ہے لہذا جوشخص ان تینوں جہات سے کچھ لوگوں کی پیشوائی کرے ،اور خداوندعالم و رسول اکرم کی جانب سے معین ہوا ہو جب کہ رسول اکرم نے بھی خداوندعالم کے حکم سے معین فرمایا ہو امام و پیشوا کہلاتا ہے (شیعہ در اسلام ، طباطبائی ،ص175-176)
مذہب شیعہ کا عقیدہ ہے کہ اسلامی حکومت کا پیشوا کہ جس کا وظیفہ رہبری و ارشاد حیات معنوی ہے وہ خداوند عالم و رسول اکرم کی جانب سے معین ہو۔

3- مذہب شیعہ کے نزدیک مستشرقین کی امام شناسی پر تنقید

1-3- حضرت علی علیہ السلام کے علمی مقام میں مستشرقین کے شک و شبہات
شیعہ نقطہ نظر سے ، دواہم ترین صفات علم وعصمت کہ جو آئمہ طاہرین علیہم السلام کی واضح ترین خصوصیات میں سے ہیں ،ہر امام کے یہاں بدرجہ اتم ہونی ضروری ہیں، یہ دوصفات حضرت علی علیہ السلام کے یہاں کمال کی حد تک موجود ہیں اور اسی وجہ سے آپ تمام اسلامی امت کے درمیان  اسلامی احکام و معارف میں کامل ترین شخص  اور رہبری و ارشاد حیات معنوی کے لحاظ سے لائق ترین فرد ہیں۔(امالی ،طوسی، ص12)

مختلف مذاہب و مکاتب کے صاحب نظر و علماء کے نظریات  حضرت علی علیہ السلام کے علمی مقام کےمتعلق کاملا شیعہ نظریے کی تائید کرتے ہیں ۔ جب کہ کچھ مستشرقین حضرت علی علیہ السلام کے علمی مقام کی برتری میں شک و شبہات میں پڑگئے ہیں، مثال کے طور پر ڈونالڈسن ایک برطانوی مستشرق، معتقد ہے کہ صاحبان قلم نے اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کہ حضرت علی علیہ السلام کا علمی  مقام آپ کی شجاعت سے کم نہیں تھا اپنے آپ کو بہت زیادہ  زحمت میں ڈالا ہے۔(عقیدہ الشیعہ،  ڈونالڈسن، ص63) جب کہ دوسری طرف پوری دنیا حضرت علی علیہ السلام کو نہ صرف مذہب شیعہ کا بانی بلکہ سب سے زیادہ عالم ، ادیب اور  صدر اسلام کی سیاسی عالی قدر شخصیت کے طور پر جانتی ہے اور آپ کی علمی عظمت کی مختلف جہات  سے ستائش کرتی ہے(مطالعات غرب در خصوص اسلام ، مجموعہ مقالات بین الاقوامی کانفرنس، تلابیت، کلبرگ، ص49) 
حضرت علی علیہ السلام نے علم توحید کو مقام ظہور کی حدتک آشکار فرمایا اور اس علم کو متعلمین کے لیے نشان و علامت اور منکرین کے لیے حجت قرار دیا (المعیار و الموازنہ، اسکافی، ص262) صحابہ کرام اکثر حوادث و واقعات میں کسی نہ کسی خطا و غلطی کے ارتکاب کے بعد حضرت علی علیہ السلام کے پا س تشریف لاتے اور اپنی اصلاح فرماتے تھے (تجریدالاعتقاد،طوسی، ص263-266) آپ ایسی شخصیت ہیں کہ جنہوں نے اسلام میں پہلی مرتبہ فلسفہ الہی پر غور کیا اور آزاد استدلال کی روش و برہان منطقی کی بنیاد پر گفتگو فرمائی  اور وہ مسائل کہ جو اس روز تک دنیا کے فلسفیوں کے بھی سامنے نہیں آئے تھے ،آپ نے حل فرمائے ۔(شیعہ در اسلام ، طباطبائی ، ص46)
حضرت امام علی علیہ السلام نے علم توحید کو مقام ظہور کی حد تک آشکار فرمایا۔

بعض مستشرقین جیسے وگسیا وگلی یری ، ایک اٹلی کا مستشرق
حضرت علی علیہ السلام
کے فرمودات میں شک و شبہ میں مبتلا ہوا ہے اور بعض جیسے ژان محمد عبدالجلیل ، فرانسوی مورخ حضرت علی علیہ السلام سے منسوب کلام کی فصاحت و بلاغت میں تردید رکھتا ہے (تاریخ ادبیات عرب، عبدالجلیل ، ص 95-96) جب کہ معاویہ کہ جو حضرت علی علیہ السلام کا سب سے بڑا دشمن تھا آپ کی فصاحت و بلاغت کے متعلق کہتا ہے کہ آپ قریش کے فصیح ترین فر د تھے۔(بہج الصباغہ فی شرح نہج البلاغہ، تستری ، ج11،ص 220)  حضرت علی علیہ السلام کے دستور کے مطابق عربی زبان کے قوا‏عد ایجاد ہوئے اور آپ نے علم نحو کی بنیاد رکھی۔ مختلف ادیان و مذاہب کے علماء و دانشمندان حضرت کے کلام (نہج البلاغہ) کو خالق کے کلام کے بعد تمام مخلوقات کے کلام سے بالاتر سمجھتے ہیں (شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید معتزلی، ج1،ص24)

2-3 – حضرت علی علیہ السلام کی امامت میں مستشرقین کے شک و شبہات
بعض مستشرقین کی ظاہری تحلیل وتبصرے(سیرہ رسول اللہ،زریاب خوئی،ص10-11)اور ان لوگوں کا وحی و الہی حیثیت سے بے توجہی کی وجہ سے حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت کو اس طرح دیکھنا کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف حضرت علی علیہ السلام سے محبت  کی وجہ سے آپ کو لوگوں کا امام و پیشوا قرار دیا ہے اور خلافت آپ کے سپرد فرمائی ورنہ یہ واقعہ آسمانی و الہی ہونے سے کوئی رابطہ نہیں رکھتا (الامام علی علیہ السلام صوت العدالت الانسانیہ، جرداق، ج1،ص71) اسی سلسلہ میں بعض مستشرقین جیسے گابریل ڈانکیری(2)(شیعہ ، مجموعہ مذاکرات با پروفیسرہانری کربن، طباطبائی ، ص174-184) فلیپ حوری (3)اورحتی اس سلسلے میں تحریر کرتا ہے : شیعہ حضرت علی علیہ السلام کو  پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منحصر خلیفہ و جانشین مانتے ہیں اس فرقہ کی نظر میں حضرت علی علیہ السلام قدرت الہیہ کے مظہر و نمونہ ہیں (شرق نزدیک درتاریخ،حتی،ص489) حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کو امامت کے سلسلے میں مقصر مانتے ہیں اور خلافت وجانشینی کے معاملے میں مہاجرین و انصار کے سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہونے کے متعلق قصوروارو متہم ٹہراتے ہیں ۔(خاورشناسان و غدیر، پورطباطبائی،ص81-94) جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مذہب شیعہ کے عقیدے میں امام کا وجود کہ جو خداوندعالم کی جانب سے تعیین ہوتاہے اس کائنات کی بقاء کے لیے ضروری ہےاس لیے کہ وہی خالق و مخلوق کے درمیان واسطہ ہے اور اس حجت کے بغیر ایک لمحہ بھی دنیا باقی نہیں رہ سکتی۔یہ وہ نکتہ ہے کہ جس کا بعض مستشرقین جیسے پروفیسر ہانری کربن،فرانسوی مستشرق نے اعتراف کیا ہے ۔
خداوندعالم کی جانب سے امام کے وجود کا ہر زمانے میں ہونا ضروری ہے ، یہی مذہب شیعہ کا ایک بے نظیر امتیاز ہے ۔

3-3- حضرت علی علیہ السلام کی خلافت میں مستشرقین کے شک و شبہات
مستشرقین کا مذہب شیعہ کے نزدیک مقام امامت سے ناواقف ہونا اور شیعہ معتبر منابع  سےاستفادہ نہ کرنا سبب ہوا کہ ان میں بعض لوگ حضرت علی علیہ السلام کی حکومت اسلامی کے متعلق روش پر اعتراض کریں جیسے وگسیا وگلی یری(ALI B. ABITALEB , Vaglierie , 7/381- 386) خود حضرت کے فرمان کہ مطابق جیسا کہ آپ نے نہج البلاغہ میں فرمایا کہ حضرت نے اپنے آپ کو خلافت کے لیے پیش نہیں کیا بلکہ لوگ خود آئے اور بہت ہی اصرار کے ساتھ خلافت آپ کو پیش کی ۔(نہج البلاغہ ، خطبہ 205) اور تاریخ اہل سنت میں بھی اس طرح کے مطالب موجود ہیں کہ جن سے حضرت کے کلام کی تائید ہوتی ہے (تاریخ طبری، تاریخ الامم و الملوک، طبری، ج4،ص427-428) اٹلی کا ایک مستشرق اپنے مقالے ؛حضرت  علی ابن ابی طالب دائرۃ المعارف اسلام میں، حضرت علی علیہ السلام کے طرف سے حکومت قبول نہ کرنے  اورعثمان کی حکومت کے خلاف بغاوت کے متعلق کچھ کوتاہیوں کا تذکرہ کرتا ہے ۔

مستشرقین کاشیعہ معتبر منابع سے واقف نہ ہونا سبب بنا ہے کہ وہ حضرت علی علیہ السلام کی حکومت اسلامی کے متعلق روش پر اعتراض کریں۔ اور دوسری طرف شیعہ عقیدہ ہے کہ امامت کی شان یہ ہے وہ صاحب خلافت بھی ہواور حضرت علی علیہ السلام خداوندعالم کی جانب سے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد منصب امامت و خلافت کے لیے منتخب ہوئے اور حجۃ الوداع کے موقع پر  لوگوں کے درمیان تعارف کرایا گیا(امالی ، ابن بابویہ، ص356) اگر چہ لوگوں نے 25 سال تک آپ  کو الگ رکھا لیکن جب بھی لوگ آ پ کی طرف رجوع کرتے تو امام کے لیے جائز نہیں تھا کہ آپ خلافت کو قبول کرنے  سےاجتناب کریں۔

4-3- حضرت علی علیہ السلام کے اخلاقی پہلو پر مستشرقین کی جانب سے شک وشبہات
معمولا مستشرقین یہودی یا عیسائی ہیں وہ خلاف توقع اسلامی معاشرے میں فکری حوادث یا سیاسی حالات  خواہ زمانہ ماضی سے مربوط ہوں یا عصر حاضر سے  دلچسپی رکھتے ہیں اور اس کے سلسلے میں اظہار خیال کرتے ہیں یابعض مستشرقین دشمنی و خصومت رکھتے ہیں جب کہ حق تو یہ ہے کہ مسلمانوں کے داخلی مسائل میں ان کو دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے (نقد دیدگاہ تاریخی یک شرق شناس، پیشوائی، ص27-56) اس سلسلے میں بطور مثال ژولیوس و لہازون (5)کا نام لیا جاسکتا ہے کہ جو خوارج کی طرفدار ہیں۔(تاریخ سیاسی صدر اسلام ؛شیعہ و خوارج،ولھاوزن،ص213-218) وہانری لامنس(6)(AL HUDAYBYA, Lammens, 7/539) وہ اپنے مختصر سے مقالے میں متعدد غلطیوں کا مرتکب ہوا ہے  اور سب  سے زیادہ بری بات یہ  ہے کہ اس نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی و توہین کی اور انتہائی جسارت کے طورپرآپ کو عہد شکن کہا ہے۔ یہ لوگ بنی امیہ کے دلدادہ اور مذہب شیعہ کے سرسخت دشمن ہیں ،دائرۃ المعارف اسلام میں مقالہ "حدیبیہ " لامنس کا اثر ہے ۔ بعض مستشرقین نے گذشتہ زمانے کے اسلامی معاشرے کے اندرونی اختلافات  اور عصر حاضر کے حالات پر تبصرے کرتے ہوئے تمائل کا اظہار کیا ہے جب کہ بعض نے دشمنی کا اظہا رکیا ہے ۔

ہنری لامنس تاریخ اسلام میں سیاسی واجتماعی گروہوں کے درمیان ،بنی امیہ کا جانب دار اور مذہب شیعہ کا دشمن ہے اور بنی ہاشم سے بغض رکھتا ہے اسی وجہ سے وہ اپنی متعدد کتابوں اور مقالات میں تمام شیطنت کے ساتھ کوشش کرتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام  کے مقام کو گرائے اور معاویہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرے ۔ وہ اسی طرح دائرۃ المعارف اسلام کے اپنے دومقالوں میں حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے متعلق بہت زیادہ گستاخیاں کرتا ہے ،طعن و اتہام لگاتا ہے کہ جو کسی بھی تاریخ کی رو سے صحیح نہیں ہیں، لامنس کی ایک بدترین تہمت حضرت علی علیہ السلام کی شان میں یہ تھی کہ دو صفات بے تدبیری و ضعف ارادہ کے متعلق کہتا ہے: یہ ثابت ہوگیا کہ بیٹے (امام حسین) میں بھی باپ (امام علی) کی طرح دوصفات ایک بے تدبیری اور دوسرے ضعف ارادہ  میراث میں پہنچی اور ذکاوت ہوشیاری نہ ہونا ان کی ہلاکت کا سبب بنا (AL HUSAYN b. ALI b. ABI TALIB, Lammens, 3/607-615) اگر چہ لامنس نے کوئی دلیل اپنے مدعی پر پیش نہیں کی ہے البتہ تاریخ  کی ریشہ یابی کرنے سے اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ اس کا مقصد ذکاوت و ہوشیاری سے سیاسی فطانت ہے اور بعض اعتراض کرنے والوں کے پیش نظرکہ ایک طرف سادہ مزاج انسانوں کے درمیان کہ  جو حضرت علی علیہ السلام کی  حکومت کے دوران موجود تھے اور امام علیہ السلام نے ان کے سوالات و اعتراضات کے جوابات دیدیے تھے کہ جو آج بھی نہج البلاغہ میں موجود ہیں ۔
 
جس وقت معاویہ نے حضرت علی علیہ السلام کی قانونی و شرعی حکومت کے مقابلے میں خلاف ورزی کی اور آہستہ آہستہ حالات اس کے فائدے میں تبدیل ہوتے گئے ،کچھ نادان لوگوں نے اس مسئلہ کو حضرت علی علیہ السلام کی سیاسی میدان میں ناپختگی کو سبب سمجھا ! حضرت علی علیہ السلام کبھی بھی حاضر نہیں تھے کہ معاویہ کی سیاسی روش کو اپنائیں۔ آپ  ان لوگوں کے جواب میں فرماتے ہیں : خداکی قسم معاویہ مجھ سے زیادہ ہوشیار نہیں ہے بلکہ وہ دھوکے باز اور فریب کار ہے اور فریب و دھوکا بری بات نہ ہوتی تو یقینا میں دنیا کا سب سے ہوشیار فرد کہلاتا لیکن یہ کبھی نہیں ہوسکتا اس لیے ہر فریب و دھوکا گناہ ہے اور ہر گناہ کفرہے (نہج البلاغہ،خطبہ 200) اہل سنت کے بڑے بڑے علماء کی نظرمیں جیسے ابن ابی الحدید، حضرت علی علیہ السلام کی خلافت میں سیاست کے اصول دوسروں  کے مقابل کہ جو شریعت کے پابند نہیں تھے ،جدا تھے۔ حضرت علی علیہ السلام شریعت کے پابند تھے اور دین کی پیروی کو اپنا وظیفہ سمجھتے تھے۔ جنگ کے نقشہ میں جو چیز بھی مفید نظر آتی اگر وہ شریعت کے مطابق و موافق نہ ہوتی تو کبھی بھی استفادہ نہیں کرتے ۔ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام شریعت کے نصوص و ظواہر سے کبھی تجاوز نہیں فرماتے تھے اور امور دنیا کو دینی معیار پر پرکھتے تھے اور سب کو ایک ہی ملاک پر انجام دیتے تھے ۔ وہ کسی بھی کام کو کتاب خدا ونص الہی کے خلاف انجام یا ترک نہیں فرماتے تھے۔ (شرح نہج البلاغہ ، ابن ابی الحدید، ج10، ص213)
حضرت علی علیہ السلام امور دنیا کو دینی معیار پر پرکھتے تھے ۔
اسی طرح اور دوسرے مستشرقین کے نظریات،امت اسلامی کی زعامت و رہبری میں حضرت علی علیہ السلام کی لیاقت و شائستگی اور برتری کے متعلق بدترین سیاسی اہداف ،مخالفت ودشمنی پر موقوف ہیں۔ جرج لامنس نے اپنے متعدد کتابوں میں ، حضر ت علی علیہ السلام کا صرف اس لیے تذکرہ کیا ہے تاکہ آپ کے خلاف کچھ دستآویز حاصل ہوجائیں اور کوئی طعنہ وجود میں آئے اس نے جب کبھی بھی اس عظیم ہستی کا تذکرہ کیا تو اس نے آپ  کی ذکاوت و ہوشیاری کو بہت محدود پیش کیا ہے ۔۔۔ بہت تعجب کا مقام ہے کہ ایک محقق حضرت علی علیہ السلام کو فصاحت و بلاغت اور شعر وشاعری اور شجاعت و بہادری سے جدا کرسکے ، جب کہ  یہ وہ صفات ہیں کہ جو حضرت علی علیہ السلام کے لیے ایسی لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتی ہیں جیسے آگ اور گرمی کے درمیان ہوتی ہے کہ جو کبھی بھی جدا ہونے والی نہیں ہیں۔بلکہ یہ وہ صفات ہیں کہ جن کا معاویہ اور عمرو عاص جیسے دشمن -کہ جو جرج لامنس کے محبوب وعزیز دل ہیں-بھی انکار  نہیں کرپائے ہیں لیکن لامنس ان سے انکار کرتا ہے !۔(امام علی ،ندائے عدالت انسانیت،جرداق،ص428،429) ایک عیسائی مستشرق مقیم لبنان جر ج لامنس کی رد میں تحریر کرتا ہے: جرج جرداق:  بلاغت و شاعری و شجاعت و بہادری حضرت علی علیہ السلام سے جدا نہ ہونے والی صفات ہیں۔

شوخی مزاج ، ہلکا پن ان تہمتوں میں سے ہے کہ جو بعض مستشرقین نے حضرت کی ذات پر اس لیے لگایا کہ آپ  ان کی نظر میں سیاسی چال بازیاں نہیں چل پائے ۔ جیسا کہ لامنس نے اپنی کتاب بررسی روزگار امویان میں لکھا ہے(نقد آثار خاورشناسان ،حسینی طباطبائی ،ص175) لامنس نے اس تہمت میں عمرو عاص کی پیروی کی ہے کہ جو سیاسی کامیابی میں جھوٹ کو جائز جانتا تھا اور شام کے لوگوں میں افواہ پھیلاتا تھا کہ علی ایک شوخ مزاج اور کھیلنے کودنے والے انسان ہیں،اور ان میں خلافت کی لیاقت نہیں ہے۔حضرت علی علیہ السلام کو ان تہمتوں کی خبر ملی ،آپ نے جواب میں فرمایا:اس نے شام کے لوگوں میں مشہور کردیا ہے کہ میں ایک شوخ مزاج ،کھیلنے کودنے والا انسان ہوں ،یقینا جھوٹ کہا ہے اورگناہ کا مرتکب ہوا ہے ۔ آگاہ ہوجاؤ بدترین کلام ،جھوٹ بولنا ہے اور وہ جو بھی بولتا ہے جھوٹ بولتا ہے ۔۔۔خداکی قسم مجھ  کو موت کی یاد شوخی اور کھیلنے کودنے سے دور رکھتی ہے اور آخرت کی فراموشی  نے عمرو عاص کو سچ بولنے سے دور رکھا ہوا ہے ۔(نہج البلاغہ، خطبہ 84) اہل سنت کا عظیم دانشمند ابن ابی الحدید معتزلی نے حضرت علی علیہ السلام سےاصل شوخی و مزاح کا انکار کیا ہے اور کہتے ہیں: اگر حضرت علی علیہ السلام کے حالات زندگی  پرکہ جو عصر رسول میں گذری ہے تامل کریں تو بہت بعید ہے کہ ہم ان کی طرف شوخی ومزاح کی نسبت دیں اس لیے کہ خواہ شیعہ کتب ہو یا اہل سنت کی کتب ، اس بات پر کوئی دلیل و شاہد پیدا نہیں ہوسکتا اور اسی طرح بعد کے ایا م میں بھی کوئی ایک روایت نہیں مل سکتی کہ جس میں آپ کی شوخی بیان کی گئی ہو۔(شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید،ج6۔ص326-329) اور صاحب کتاب" فاطمہ و دختران محمد "نے کوشش کی ہے کہ وہ آپ کی شان کو کم بنا کرپیش کرے اور شوخی و مزاح کرنے والا انسان کی صورت میں تعارف کرائے ۔

نتیجہ :
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کا خاندان اور آئمہ طاہرین علیہم السلام مستشرقین کی تحقیقات میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں ۔ بعض مستشرقین مذہب شیعہ کے عقیدے میں مقام امامت سے ناواقفیت وناآگاہی کی وجہ سے اور معتبر شیعہ منابع سے استفادہ نہ کرنے کی خاطر اورشیعہ دشمنی اوراسلامی معاشرے کے درمیان فکری وسیاسی تفرقے میں داخل ہوکر و سامراجی افکار کے پروپیگنڈوں نے دنیاوالوں کے ذہنوں میں نامناسب تصویر ڈالدی ہیں ۔ شیعہ محققین و علماء، عقیدہ امامت کے پیش نظر حضرت علی علیہ السلام کی ایک علمی اور صحیح ، افراط و تفریط سےپاک تصویر پیش کریں کہ جس کے ذریعہ دشمن و معاند ومغرض مستشرقین کے راستہ کو بند کردیں ۔ اس سلسلے میں لازم ہے کہ ایک طرف شیعہ معتبر منابع دنیا کی زندہ زبانوں میں ترجمے کیے جائیں اور میڈیا کے ذریعہ دنیاوالوں تک اپنا پیغام پہنچایا جائے اور دوسری طرف مستشرقین بھی اپنی تحقیقات میں مذہب شیعہ کے عقائد کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے دلوں کی گہرائیوں کا لحاظ کرتے ہوئے اپنی تاریخی تحلیل و تبصروں کو پیش کریں اور ایک طرفہ کام نہ لیں۔

فهرست منابع و مآخذ فارسی و عربی
قرآن کریم
نهج البلاغه
امالی، ابن بابویه، محمد بن علی، ترجمه ی آیت الله کمره ای، چاپ 1، تهران، انتشارات اسلامیه، 1131 ش .
امالی، طوسی، ابی جعفر محمد بن الحسن، قم، دارالثقافه، چ اول، 1111 ق .
الامام علی علیه السلام صوت العداله الانسانیه، جرداق، جرج سعجان، بیروت، دارالروائع، 1358 م .
الخلیفة الفکریه للصراع الحضاری، زقزوق، محمود حمدی، قاهره، دار المعارف، ]بی تا ].
المعیار و الموازنه، اسکافی، ابوجعفر محمد بن عبدالله، بیروت، بی نا، 1120 ق .
امام علی: ندای عدالت انسانیت ، جرداق، جرج سعجان، ترجمۀ شعرانی، تهران، چاپخانۀ اسلامیه، 1177 ش .
امامت و رهبری، مطهری، مرتضی، تهران، صدرا، چاپ دوم، 1131 ش .
بهج الصباغه فی شر ح نهج البلاغه، تستری، محمد تقی، تهران، امیرکبیر، 1118 ق .
تاریخ ادبیات عرب، عبدالجلیل، ژان محمد، ترجمه آذرنوش، تهران، انتشارات امیر کبیر، چ سوم، 1173 ش .
تاریخ الطبری؛ تاریخ الامم و الملوک، طبری، محمد بن جریر، تحقیق محمد ابوالفضل ابراهیم، بیروت، روایع
التراث العربی، بی تا .
تاریخ سیاسی صدر اسلام : شیعه و خوارج، ولهاوزن ، ژولیوس، ترجمۀ محمود رضا افتخارزاده ، قم ، دفتر
نشر معارف اسلامی، چ اول، 1175 ش .
تجرید الاعتقاد، طوسی، خواجه نصیر الدین ، قم، دفتر تبلیغات اسلامی، 1127 ق .
خاورشناسان و پژوهش های قرآنی، صغیر، محمد حسین علی، ترجمۀ محمد صادق شریعت، قم، مؤسسۀ
مطلع الفجر، چ اول، 1170 ش .
022- خاورشناسان و فرقه شناسی، نوری، محمد، هفت آسمان، شمارۀ اول، 1178 ش، صص 171 .
خاورشناسان وغدیر، پورطباطبایی ، سید مجید، قم ، صبح صارق، 1185 ش .
سیر تاریخی و ارزیابی اندیشۀ شرق شناسی، الدسوقی، محمد، ترجمۀ محمود رضا افتخارزاده، تهران، نشر
هزاران، چ اول ، 1173 ش .
سیره رسول الله، زریاب خویی، عباس، تهران، سروش، چاپ چهارم، 1188 ش .
شرح نهج البلاغه، ابن ابی الحدید، عبدالحمید بن هبه الله، تحقیق محمد ابوالفضل ابراهیم، قم، کتابخانه
آیت الله مرعشی نجفی، بی تا .
شرق شناسی و اسلام شناسی غربیان، زمانی، محمد حسن، قم، مؤسسه بوستان کتاب، 1185 ش .
شرق نزدیک در تاریخ، حتی، فیلیپ خوری، ترجمه قمر آریان، تهران، انتشارات علمی و فرهنگی، چ دوم،
1180 ش .
شیعه ) مذاکرات و مکاتبات پرفسور هانری کربن با علامه سید محمد حسین طباطبایی (، طباطبایی، محمد
حسین، به اهتمام احمدی میانجی و هادی خسروشاهی، تهران، مؤسسه پژوهشی حکمت و فلسفه ایران، چ
چهارم، 1180 ش .
شیعه در اسلام، طباطبایی، محمد حسین، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ بیستم، 1185 ش .
عقیده الشیعه، دونالدسون، دوایت، بیروت، مؤسسه المفید، 1112 ق .
فرهنگ کامل خاورشناسان، بدوی، عبد الرحمن، ترجمۀ شکر الله خاکرند، قم، دفتر تبلیغات اسلامی .
مطالعات غرب در خصوص اسلام، مجموعه مقالات کنفرانس بین المللی تل آویو، کلبرگ، آتان، تهران،
فاروس ایران، 1183 ش .
نقد آثار خاورشناسان، حسینی طباطبایی، مصطفی، تهران، چاپخش، 1175 ش .
نقد دیدگاه تاریخی یک شرق شناس، پیشوایی، مهدی، تاریخ در آینۀ پژوهش، سال دوم ، شمارۀ دوم ، 1181
53- ش، صص 07 .

فهرست منابع لاتین
ALI B. ABITALEB, Vaglierie, L. Veccia , The Encyclopedia of Islam, Leiden, BRILL, 1993, 7/381-386.
"AL HUDAYBYA", Lammens, Henri, The Encyclopedia of Islam, Leiden, Brill ,1993,7/539.
"AL HUSAYN b. ALI b. ABI TALIB", Lammens, Henri, The Encyclopedia of Islam,Leiden,Brill,1993,3/607-615 .
Orientalism -1
Gabriel Denkiri -2
Philip Khuri Hitti -3
Veccia Vaglierie -4
Julius Wellhausen -5
Henri Lammens -6
George Jordac -7
Etudes sur Le siecle des Omayyades -8
Fatima et les filles de Mahomet, notes critiques pour l'étude de la Sira -9