اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات مستشرقین کی جدیدتعریف نذر حافی آج ہم یہاں سے اپنی بات کا آغاز کرتے ہیں کہ جدید تعریف کے مطابق مستشرق کے لئے مغربی ہونے کی قید اٹھا دی گئی ہے اور ہر وہ غیر مسلم جو اسلام کے بارے میں تحقیق کرتا ہے، اسے مستشرق کہتے ہیں۔اس کے حوالے کے طور پر ڈاکٹر محمد حسن زمانی کی شرق شناسی و اسلام شناسی غربیان نامی کتاب کا حوالہ بھی دیا تھا۔ظاہر ہے حوالے میں بطور نمونہ ایک آدھ کتاب کاہی ذکر کیاجاتا ہے۔ مستشرقین کی جدیدتعریف کے بعد ہم نے اپنے قارئین کو مستشرقین کی اقسام کی طرف توجہ دلائی تھی اور کہا تھا کہ مجموعی طور پر تین طرح کے مستشرقین ہیں: 1۔ عیسائی مبلغین2۔ مختلف حکومتوں کے جاسوس3۔ سچائی کی کھوج لگانے والے مختلف حکومتوں کے جاسوس مستشرقین کے بارے میں ہم نے کہا تھا کہ ان کا کام مسلمانوں کے اہم مقامات، معدنی ذخائر، جنگی نظریات و طریقہ کار، باہمی روابط نیز مختلف اسلامی فرقوں کے اختلافات کو ڈھونڈنا ان کی معلومات کو قلمبند کرنا اور کسی مسلمان ملک سے جنگ ہونے کی صورت میں درست اعداد و شمار کے ساتھ اپنی حکومتوں کی بروقت رہنمائی کرناہے۔ آج ہم اس مسئلے پر بات کویہاں سے شروع کرتے ہیں کہ مثال کے طور پر ایک سکول میں ایک بچہ بہت جھگڑالوہو اور سکول میں ہر روز گالی گلوچ کرتا ہو،حد سے زیادہ چڑچڑاہو، جس پر بعض استاد یہ کہیں کہ یہ بچہ اس لئے گالیاں دیتا اور لڑتا ہے کہ دوسرے بچے بھی اسے تنگ کرتے ہیں،یہ ایک عامیانہ سوچ اور سطحی نظر ہے لیکن اگر کوئی استاد اس مسئلے کوحل کرنے کے لئے اس بچے کو کسی ماہر نفسیات کے پاس لے جائے اورماہر نفسیات اس کے بارے میں ساری معلومات لینے کے بعد یہ کہےکہ اصلی مسئلہ اس بچے کا نہیں ہے بلکہ اس ماحول اور گھر کا ہے جس میں یہ رہتا ہے لہذا اس کے ماں باپ کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔ اس پر اگر کوئی شخص ڈاکٹر سے یہ کہے کہ کیاآپ اس کے ماں باپ کا نام بتا سکتے ہیں؟ہم اس کے ماں باپ کوجانتے ہیں وہ بڑے اچھے لوگ ہیں تو اس کے بعد ڈاکٹر کے پاس مزید بحث کی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔ اسی طرح مسلمانوں کے درمیان تنازعات،لڑائی جھگڑوں، تکفیری گروہوں اور شدت پسند ٹولوں کی تشکیل کے بارے میں بھی دو رائے پائی جاتی ہیں۔ ایک عامیانہ اور سطحی رائے ہے کہ جس کے مطابق چونکہ ایک فرقے کے لوگ گالیاں دیتے تھے ، دوسروں کے مقدسات کی توہین کرتے تھے لہذا دوسرے نے بھی جوابی کارروائی شروع کی جس سے شدت پسندی اور تکفیریت نے جنم لیا جبکہ اس کے مقابلے میں ایک دوسری رائے پائی جاتی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اس شدت پسندی اور تکفیریت کا تعلق امریکہ و برطانیہ سمیت پاکستان و اسلام دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیوں سے پایاجاتا ہے۔ ان خفیہ ایجنسیوں میں وہ خواہ سی آئی اے،موساد ، را، ایم آئی سکس اور ایم آئی فائیو وغیرہ میں سے جو بھی ہوان میں مسلمانوں کو مسلمانوں لڑوانے نیز مسلمانوں کو غیرمسلمانوں سے لڑوانے اور مسلمانوں میں شدت پسندی کو فروغ دینے کے لئے مخصوص شعبے اور ماہرین موجود ہیں اور جو ہماری تعریف کے مطابق مستشرقین میں آتے ہیں اور مختلف ممالک میں فرقہ واریت اور شدت پسندی کو ہوا دینے کے لئے یہ ادارے سرگرم رہتے ہیں۔ اللہ یاری اور یاسر الحبیب جیسے مولویوں نیز غالی ذاکروں کے دشمنوں کی خفیہ ایجنسیوں کے آلہ کار ہونے میں کسی کو کیا شک ہو سکتا ہے۔ خفیہ ایجنسیوں میں مسلمانوں کے بارے میں اطلاعات کی جمع آوری اور تحقیقات کے لئے مختلف ونگز کےموجود ہونے پر یقین کرنے کے لئے متعدد کتابیں مارکیٹ میں موجود ہیں جن میں سے ایک بہترین کتاب احمد ساجدی کی لکھی ہوئی سازمانھای جاسوسی دنیا ہے۔ ہم لارنس آف عربیہ اور ھمفرے کی بات نہیں کرتے بلکہ " جان فیلبی" (John Fillby) جوکہ اپنے دور کا معروف مستشرق تھا اسی کے بارے میں مطالعہ کر کے دیکھ لیں کہ اس نےکس طرح سے سعودی عرب کو امریکہ کے چنگل میں پھنسایا۔ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کے بارے میں ایک سطحی اور عامیانہ سوچ یہ ہے کہ ایران کے خوف کی وجہ سے امریکہ اورسعودی عرب آپس میں متحد ہیں جبکہ ان تعلقات کا تاریخی پسِ منظر یہ ہے کہ ۱۹۳۰ میں امریکہ نے جان فیلبی کو خریدا۔ جان فیلبی اس سے پہلے برطانیہ کے لئے کام کرتا تھا ،یہ کئی کتابوں کا مصنف اور ایک نامور محقق تھا، اس نےابتدائی طور پر تیل نکالنے والی ایک امریکی کمپنی میں مشاور کی حیثیت سے کام شروع کیا اور خاندان سعود سے دیرینہ تعلقات کی بنا پر سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تیل نکالنے کا ایک بڑا منصوبہ منظور کروایا جس سے برطانیہ کی بالادستی کو دھچکا لگا اور خطّے میں امریکی استعمار کی دھاک بیٹھ گئی۔ یہ شخص تقریباً ۳۵ سال تک سعودی عرب میں ابن سعود کا مشیر رہاتھا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ و سعودی عرب دونوں اپنے تعلقات کے سلسلے میں جان فیلبی کی خدمات کے معترف ہیں، امریکہ و سعودی عرب کے تعلقات ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد کی پیداوار نہیں بلکہ یہ جان فیلبی کے زمانے سے چلتے آرہے ہیں ۔ اسی طرح پاکستان میں سپاہ صحابہ ،لشکر جھنگوی اور طالبان وغیرہ کے بارے میں ایک سطحی نگاہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے مسالک کو نافذ کرنے کے لئے ہتھیار اٹھا لئے جبکہ اس کا تاریخی پسِ منظر یہ ہے کہ ۱۹۷۹ میں ایک طرف سے روسی استعمار افغانستان میں داخل ہو چکا تھا اور دوسری طرف ایران میں امریکہ مخالف انقلاب کامیاب ہوگیاتھا۔ ان دونوں خطرات سے نمٹنے کے لئے سی آئے اے نے ایک طرف سپاہ صحابہ جیسے گروہوں کی اور دوسری طرف طالبان جیسے لشکروں کی بنیاد ڈالی۔ یہی وجہ ہے کہ سپاہ صحابہ نے صرف شیعوں کو قتل نہیں کیا بلکہ پاکستان میں متعدد ایرانیوں کو بھی نشانہ بنایا۔سپاہِ صحابہ کو پاکستان میں ایران کا راستہ روکنے کا ھدف دیا گیا تھا اور طالبان کوافغانستان سے روس کو نکالنے کا۔ بعد میں جتنے بھی دہشت گرد گروپ بنے وہ انہی کے کیمپوں کی پیداوار ہیں۔ سی آئی اے کے وہ ماہرین جنہوں نے اس سلسلے میں کام کیا اور پاکستان کی ایجنسیوں کوبھی اپنے اہداف کے حصول کے لئے اعتماد میں لیا ، ہماری کی گئی تعریف کے مطابق وہ بھی مستشرقین میں آتے ہیں۔ ان مستشرقین کی مختصر جھلک ان چند سطور میں دیکھی جا سکتی ہے: Assuming the presidency in 1978, Zia played a major role in the Soviet–Afghan War. Backed by the United States and Saudi Arabia, Zia systematically coordinated the Afghan mujahideen against the Soviet occupation throughout the ۱۹۸۰ ) Wynbrandt, James (2009). A Brief History of Pakistan. Facts on File. p. 216. In his first speech to the nation, Zia pledged the government would work to create a true Islamic society.( اب اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ سپاہ صحابہ اور طالبان کے بنانے میں سی آئی اے کے کارندوں یعنی مستشرقین کا کوئی کردار نہیں رہا تو وہ یقینا ان کی طرفداری کر رہا ہے۔ اسکے بعد ہندوستان میں چلتے ہیں ، مثال کے طور پر ہندوستان میں بابری مسجد کے مسئلے کو لیجئے، اس پر سطحی اور عامیانہ نگاہ یہ ہے کہ یہ پہلے ہندووں کا مندر تھا جسے مسلمانوں نےمسجد بنا دیااور اب ہندو دوبارہ اسے مندر بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن اگرآپ اس پر تحقیقی نگاہ ڈالیں تو آپ دیکھیں گے کہ اس مسئلے کاآغاز ایچ او نوبل نامی مستشرق کی اس تحریر سے ہوا جو اس نے ۱۸۸۵ میں لکھی کہ بابری مسجد پہلے ہندوں کا بت خانہ یعنی ایک مندر تھا۔ اسی سال ہندووں نے اس مسئلے کو اٹھا یا اور ہندووں نے پہلی مرتبہ یہ دعویٰ کیا کہ اس مسجد کے باہر رام کی جنم بھومی یعنی پیدائش کی جگہ ہے۔ اسی سال فسادات شروع ہوئےاور ۷۵ مسلمان شہید ہوئے۔ یہ سلسلہ عدالتوں اور جھگڑوںکی صورت میں چلتا رہا اور ۱۹۴۹ میں اس مسجد کو بند کروا دیا گیا اور چالیس سال تک یہ مسجد متنازعہ رہی اور اس تنازعے میں ہزاروں انسان مارے گئے۔ (استفادہ از شناخت استعمار ازمصطفی اسکندری ص۹۷ و چند منابع دیگر) اب اگرکوئی کہے کہ ۱۹۹۲ میں اس مسجد کومنہدم کرنے والے ہندووں کو کس مستشرق نے پڑھایا تھاتو ظاہر ہے کہ اس کا جواب نہیں دیا جا سکتا چونکہ اس کے لئے اس کی تاریخ میں جھانکنا ہوگا کہ یہ مسئلہ شروع کہاں سے ہوا تھا۔ آخر میں یہ عرض کرتا چلوں کہ مستشرقین کے جاسوسوں کی تین علامات پائی جاتی ہیں: ۱۔ نظام ولایت فقیہ کی مخالفت : چونکہ یہ نظام استعمار شکن ہے ۲۔ وحدت اسلامی کی مخالفت: چونکہ اگر مسلمان متحد ہوجائیں تو استعمار ان کے وسائل پر قبضہ نہیں کر سکتا ۳۔ فرقہ واریت کو مستشرقین اور استعمار کے بجائے مسلمانوں کا داخلی مسئلہ قرار دینا : چونکہ اگرمسلمان ایکدوسرے کے ساتھ نہیں لڑیں گے تو وہ استعمار کے مقابلے میں کمزورنہیں ہونگے۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں