مغرب اور مشرق کا فرق
نذر حافی
  قسط ۲

اب دیکھنا یہ ہے کہ علمائے کرام کو مغرب سے کد کیوں ہے؟ ہمارے ہاں کا المیہ یہ ہے کہ ہم کسی کا موقف جانے بغیر ہی اس کے خلاف فیصلہ صادر کر دیتے ہیں، ہم دینی طبقے کی بات سنے بغیر ہی کہہ دیتے ہیں کہ علما ئے دین ٹیکنالوجی اور ترقی کے خلاف ہیں۔
حقیقتِ حال یہ ہے کہ علمائے دین قطعا ٹیکنالوجی اور پیشرفت کے خلاف نہیں ہیں۔ علمائے دین کے مطابق ٹیکنالوجی سیکھنے سے کوئی آدمی کافر یا مشرک نہیں ہو جاتا، بلکہ علمائے دین ٹیکنالوجی کے بجائے اِلحاد  سے ڈرتے ہیں، ہمیں ٹیکنالوجی اور الحاد کے درمیان فرق کو سمجھنا چاہیے۔ اِلحاد یہ ہے کہ ہم مغرب کی اندھی اور کورکورانہ تقلید کریں، ہم مغربی علم و دانش کو دیکھ کر دینِ اسلام کو بھی ترک کردیں۔
ہم سے زیادہ علامہ اقبال ؒ  نے مغربی علم و دانش سے کسبِ فیض کیا ہے ، اور ساتھ ہی یہ پیغام بھی دیا ہے کہ 
خِیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانشِ فرنگ
سُرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف
مسلمان کے پاس اتنی وسیع  دینی معلومات ہونی  چاہیے کہ   وہ مغرب کے سامنے اپنے آپ کو پست اور زلیل سمجھ کر اپنی خودی کو ہی نہ کھودے۔   اقبالؒ جو کہ حکیم الامّت ہیں ، انہوں نے بار بار  اس امت کو اس کی خودی کی طرف دعوت دی ہے۔ اقبال کی سب سے بڑی آرزو یہ ہے کہ مسلمان مغرب کی ترقی کو دیکھ کر اپنی ملت سے نہ کٹے:
اقبال ؒ کا یہ دوٹوک فیصلہ ہے کہ ڈالی گئی جو فصلِ خزاں میں شَجر سے ٹُوٹ۔۔۔مُمکن نہیں ہری ہو سحابِ بہار سے
اقبال ؒایک حکیم ہونے کے ناطے  ہمیں یہ نسخہ دے گئے ہیں کہ مِلّت کے ساتھ رابطۂ اُستوار رکھ۔۔پیوستہ رہ شجَر سے، امیدِ بہار رکھ!
پس علامہ اقبال یا  علمائے کرام  ٹیکنالوجی کے بجائے اپنی خودی کو فراموش کرنے اور اپنے آپ کو حقیر سمجھنے کے خلاف ہیں۔
ضرورت اس چیز کی ہے کہ مغرب سے ٹیکنالوجی توسیکھی  جائے لیکن الحاد نہ سیکھا جائے۔ یہاں پر علمائے کرام کو اپنا کرادر ادا کرنے کی ضرورت ہے۔  یہ واضح بات ہے کہ ٹیکنالوجی انسان کو ملحد نہیں بناتی، میزائل کسی کو سیکولر نہیں بناتا،  ہارڈ وئیر سیکھنے سے کوئی لبرل نہیں بنتا، سوفٹ وئیر پر کام کرنے سے کوئی کیمونسٹ نہیں ہوجاتا۔۔۔
انسان اس وقت مُلحد بنتے ہیں، جب اس ٹیکنالوجی کی بدولت مغرب کے مجرب اقتصادی، تعلیمی، سماجی  اور سیاسی نظریات لوگوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اب علمائے کرام کے سامنے بنیادی طور پر تین  راستے ہیں:
۱۔وہ اپنے خالص اقتصادی، تعلیمی، سماجی  اور سیاسی نظریات تولید کریں
۲۔وہ مغرب کے تولید شدہ سارے نظریات کو من و عن قبول کر لیں
۳۔ وہ  قرآن و سنت کی روشنی میں مغربی افکار و نظریات پر نظرِ ثانی کر کے انہیں اسلامی معاشرے کیلئے ممکنہ حد تک قابلِ قبول بنائیں
ظاہر ہے،  سب سے آئیڈیل تجویز پہلے والی ہے،  لیکن جب تک پہلی تجویز پر عمل نہیں ہوتا تو پھر کم از کم تیسری تجویز سے کام شروع کیا جانا چاہیے۔
اگر علمائے کرام سوشل سائنسز میں اپنا کردار ادا نہیں کرتے تو عام مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ دین صرف غسلِ جنابت اور بیت الخلا کے آداب بتائے، زیادہ سے زیادہ حلال اور حرام کے احکام سمجھا دے، جبکہ نظامِ حیات ہمیں مغرب سے لینا چاہیے۔
یہ وہ سوچ ہے جو آج ہمارے ہاں راسخ ہو چکی ہے۔ اور اس سوچ کی بنیاد خود ہمارے علمائے کرام نے فراہم کی ہے۔چنانچہ ہمارے ملک میں کوئی بھی ایسا مثالی سسٹم نہیں ہے جو علمائے کرام نے معاشرے کیلئے وضع کیا ہو!
دین کو اپنی ذات تک محدود رکھئے، یہی فکر مشرق و مغرب دونوں میں پائی جاتی ہے۔ اگر فرق ہے توصرف اتنا ساہے کہ مغرب  میں جو لوگ یہ کہتے ہیں ان کے پاس برس ہا برس کے مجرب اورٹھوس نظام موجود ہیں جبکہ مشرق میں جولوگ یہ بات کہتے ہیں خود ان کے پاس بھی اپنا کوئی نظام نہیں  اور وہ مغربی نظاموں کے ہی عاشق،  مبلغ اور  مقلد ہیں۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ جس طرح مغرب میں ایک شخص نام کا تو عیسائی یا یہودی ہوتا ہے لیکن اپنی عملی زندگی میں وہ      مُلحد اور سیکولر ہوتا ہے، اسی طرح ہمارے ہاں بھی  اکثر  لوگ نام کےتو ہندو، سکھ ، مسلمان، عیسائی وغیرہ تو ہیں   لیکن سوشل لائف یا اجتماعی زندگی میں وہ اسلام کو مقدم نہیں کرتے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پر علمائے کرام پسپا ہو جاتے ہیں ،  علمائے کرام کی پسپائی کا سبب ٹیکنالوجی نہیں ہے بلکہ معاشرہ ہے۔ چونکہ علمائے کرام نے معاشرے کو کوئی سسٹم نہیں دیا چنانچہ معاشرہ بھی انہیں مقدم نہیں کرتا۔۔۔ 
ہم نہ ہی تو دینِ اسلام کو چھوڑ سکتے ہیں اور نہ ہی سارے  کےسارے مغربی نظریات کو قبول کر سکتے ہیں، پس یہ واضح رہے کہ بات ٹیکنالوجی کی نہیں ہو رہی، ٹیکنالوجی سیکھنے سے کوئی ملحد نہیں ہوتا، بات مغربی افکار ونظریات کی ہے۔ اب یہاں پر عوام النّاس کو یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ دینِ اسلام اور مغربی نظریات میں اشتراک کہاں ہے اور اختلاف کہاں ہے!؟

قسط تین کیلئے کلک کریں