تین سانحے اور تین جنرل

نذرحافی

ہم سب ایک ہیں، اور ہم سب  مُصلح ہیں، بلکہ ہم تو مُصلح اعظم ہیں،  ہمارا کام دوسروں کو آئینہ دکھانا، انہیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی دعوت دینا ، اور مخالفین کو جہنم رسید کرنا ہی ہے۔ ہمارا سب سے بڑا ہنر یہ ہے کہ ہم  اپنے ہر گناہ، جرم اور بد اخلاقی کو دوسروں کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں،  ہماری سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ  صرف ہم ہی مسلمان ہیں اور ہمارے علاوہ باقی سب کافر، مشرک اور ملحد ہیں۔جب ہمارا ہُنر ہماری خوبیوں کے ساتھ مل جاتا ہے تو پھر صرف ہم ہی عقلِ کُل  کے طور پر رہ جاتے ہیں۔

ہمارےعقلِ کُل ہونے کی بہت ساری دلیلیں ہیں،  اور ان دلیلوں  میں سے  ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ ہم تاریخی حقائق کو تسلیم کرنے اوراپنی غلطیوں کا  اعتراف کرنے کے بجائے تاریخ کو پھاڑ دیتے ہیں اور اپنی غلطیوں سے مکر جاتے ہیں۔ گزشتہ روز سولہ دسمبر تھا، سولہ دسمبر کے دو  تلخ واقعات ہماری تاریخ میں رقم ہیں۔ ایک  تو بنگلہ دیش کی پاکستان سے علیحدگی  اور دوسرے اے پی ایس  کا واقعہ۔

اب ہمارا ہنر بھی دیکھئے کہ ہم نے ان دونوں واقعات پر کیسے مٹی ڈال دی ہے! سانحہ بنگلہ دیش کو بھارت کی اور سانحہ اے پی ایس کو افغانستان کی  سازش کہہ کر بات ہی ختم کر دی ہے۔ بنگلہ دیش کیوں جدا ہوا؟ اس کا آسان جواب یہ ہے کہ  ہندوستان کی سازش تھی، سانحہ اے پی ایس کیوں وجود میں آیا ؟ اس کا بھی آسان سا جواب یہ ہے کہ یہ افغانستان کی سازش تھی۔

اب پرانی قبروں کو اکھاڑنے کا کیا فائدہ!؟ بنگالی اور پنجابی کی نفرت کیوں پھیلی؟ ہندوستانیوں اور بنگالیوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں بنیادی کردار کس نے ادا کیا؟ شیخ مجیب الرحمٰن کو آخری حد تک کون گھسیٹ کر لے گیا!؟ بنگلہ دیش کو پاکستان نے اتنی جلدی تسلیم کیوں کر لیا؟  انتخابات کے نتائج کو کون تسلیم نہیں کر رہا تھا؟ الشمس اور البدر جیسی تنظیموں کو اسلحہ اور ٹریننگ کون دے رہا تھا؟ تیس لاکھ بنگالیوں کا خون بہنے کے باوجود بھی بنگلہ دیش  کیوں پاکستان سے الگ ہو گیا!؟۔۔۔ خیر چھوڑیے ان باتوں کو اور اب اے پی ایس کے بارے میں بھی  یہ نہ پوچھئے کہ یہ کس مکتب کے لوگ تھے، کن مدارس کے پڑھے ہوئے تھے، کون انہیں اسلحہ اور ٹریننگ دیتا تھا، کیا صرف یہی ایک گروہ  پاکستان میں درندگی کا  مرتکب ہوا ہے یا الشمس اور البدر کی طرح پاکستان میں سپاہ صحابہ،  لشکر جھنگوی، طالبان اور داعش کی طرح کے متعدد اسلحہ بردارگروہ  آج بھی موجود ہیں۔ جیسے البدر اور الشمس نے بنگلہ دیش کے بحران سے جنم لیا تھا اسی طرح   سردجنگ  کے بحران نے  سپاہ صحابہ،  لشکر جھنگوی، طالبان اور  اس طرزِ تفکر کی تنظیموں کو جنم دیا ، اور ان کے جنم کے بارے میں ان کے امیرالمومنین سعودی ولی عھد شہزادہ محمد بن سلمان امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے  یہ انکشاف کر چکے ہیں کہ انہوں نے سرد جنگ کے دوران مغرب کی درخواست پر وہابیت پھیلانے کیلئے فنڈز دئیے۔ [1]

ان کا یہ انٹرویوکوئی چند سو سال پرانی بات نہیں ،  بلکہ  مارچ ۲۰۱۸ کی بات ہے۔ انٹر نیٹ پر سب کچھ موجود ہے۔

لیکن ہمارے ضمیر اور خمیر میں حق بات کو ماننا، تسلیم کرنا اور اپنی  اصلاح کرنا ہے ہی نہیں۔  وہ جو سانحہ اے پی ایس ہوا، اسے لوگوں کو دلاسہ دینے کیلئے افغانستان کے کھاتے میں ڈال دو اور جنہوں نے پاک فوج کے جوانوں کے سر کاٹے اور ان کے سروں سے فٹبال کھیلے انہیں مجاہد بھائی کہہ کر گلے لگا لیجئے،  جنہوں نے پاکستان میں کافر کافرکے نعرے لگائے، مسجدوں اور اولیائے کرام کے مزارات   کو خون میں نہلا یا، پاکستان کے شعرا، ادبا، قوال ، مندر ،چرچ، وکلا ، بیوروکریٹس، پولیس،اور غیر مسلم کمیونٹی تک کو نہیں بخشا ،انہیں سبز اور سرخ سلام کیجئے اور جو نہتے مارے گئے ان کی فاتحہ  بھی نہ پڑھئے اور ان کی یاد میں کوئی شمع بھی نہ روشن کیجئے، ویسے بھی طالبانی فکر کے نزدیک فاتحہ پڑھنا  یا شمع روشن کرنابھی تو شرک ہی ہے۔

یوں بھی تو  قیامِ پاکستان کے بعد  ہم اپنے قومی مسائل اسی طرح سے ہی حل کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یہ ہمارا قومی مزاج ہے کہ جدھر کی ہوا  چلے اُدھر چل پڑو، امریکہ ، مغرب اور سعودی عرب اگر ہمیں اپنے بھائیوں، بچوں، ہم وطنوں کو قتل کرنے کے  ڈالر دیں،  تو ڈالر لے لو اور سب کچھ کردو۔

اس سے پہلے ہم  ڈالروں کیلئے  جو کچھ کر سکتے تھے وہ ہم نے کیا لیکن اب مزید بھی ہمیں کچھ نہ کچھ کرتے رہنا ہے، ورنہ ڈالر ملنے بند ہو جائیں گے۔ اب ڈالر ملنے کا ایک بڑا پروجیکٹ کشمیریوں کا خون ہے، اب اگر اس  خون کے بدلے میں ہمیں ڈالر دیدئے جائیں تو اس میں قباحت کیا ہے! ہمارا دشمن بھی جانتا ہے کہ اگر  ہمارے آگے ڈالر  ڈال دئیے جائیں تو پھر سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں، ہم ایک ہیں

لیجئے اب ڈالر فارمولے کے مطابق  کشمیر کا مسئلہ  بھی حل ہو چکا ہے، ہم نے طےکر لیا ہے کہ  اب آزاد کشمیر  کا کوئی وزیراعظم وغیرہ نہیں ہوگا، گلگت بلتستان کی طرح کا سیٹ اپ ہوگا، مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان نے بھی اسی طرح کر دیا ہے، اس کے بعد  آزاد کشمیر کو آزاد کشمیر بھی  نہیں  کہا جائے گا، چونکہ اس سے مقبوضہ کشمیر کی یاد آتی ہے اور مقبوضہ کشمیر کو یاد کرنے سے ہندوستان ، سعودی عرب، امریکہ، اسرائیل نیز ساری  عربی و غربی دنیا ہم سے ناراض ہوتی ہے، کیا اب ہم کشمیریوں کیلئے  ساری دنیا میں اپنے دوستوں کو ناراض کر دیں۔۔۔!؟ لہذا دوستوں کی ناراضگی سے بچنے کیلئےہم  نےسانحہ کشمیر پر دستخط کر دئیے ہیں۔

یاد رکھئے کہ جس طرح  ہم نے سانحہ بنگلہ دیش کو بھارت کے اورسانحہ اے  پی ایس کو افغانستان کے گلے میں ڈال دیا ہے  اسی طرح اب سانحہ کشمیر کو بھی  کسی نہ کسی   کے کھاتےمیں ڈال  ہی دیں گے  اور کوئی نہ ملا تو پرویز مشرف کے کھاتے میں ہی ڈال دیں گے۔ سانحہ کشمیر پر ہم دستخط تو کر چکے ہیں اب کاغذوں ، فائلوں اور خبروں میں پھندے پر لٹکانے کیلئے  تو پرویز مشرف ایک اچھا  اور بہترین شکار ہے۔

سانحہ بنگلہ دیش جنرل نیازی کے کھاتے میں، سانحہ اے پی ایس طالبان کی وجہ سے جنرل ضیاالحق کے کھاتے میں اور سانحہ کشمیر جنرل پرویز مشرف کے کھاتے میں،ہمارے ہاں کی دانشوری بس اتنی ہی ہے کہ  جب بھی کوئی سانحہ ہو تو کسی نہ کسی جنرل کے کھاتے میں ڈال دیجئے۔