در محضر سعدی

گفتار ۔۔01

تحریر ۔ ساجدعلی گوندل

Sajidaligondal55@gmail.com

مال از بھر آشایشِ عمر است نہ از بھرِ گرد کردنِ مال ۔۔۔عاقلی را پرسیدند ۔۔۔نیک بخت کیست و بدبختی  چیست ؟

گفت۔۔۔۔ نیکبخت  آنکہ خورد و کشت و بد بخت آنکہ مرد و ھشت ۔

     مکن نماز بر آن ھیچ کس کہ ھیچ نکرد

    کہ عمر در سرِ تحصیلِ مالکرد و نخورد[1].

افصح المتکلمین ابو محمد مشرف الدین  مصلح بن عبداللہ بن مشرف ،سعدی شیرازی کا شمار فارسی کے عظیم شعرائ و نثر نگاروں میں ہوتا ہے ۔ اہل فن و ادب نےان کو بہت سارے القاب سے نوازا ہے ۔ جیسا کہ استادِ سخن ۔۔۔شیخ اجل۔۔۔استاد و حتی ان کو پیعبرِ زبان ِ فارسی بھی کہا جاتاہے۔ شیخ سعدی کا کلام شیرین و مٹھاس میں شہد ، لطافت و نرمی میں باد صبا ، اثر میں ’’شفائ للناس ‘‘ جبکہ فنی آرایش میں سھل ممتنع ، ایجاز ، طنز و تخلص وغیرہ کا ایک تابندہ نمونہ ہے ۔

سعدی نے اپنے کلام میں زمانے کے خوب و زشت ، انسانیت ِواقعی و تظاہر انسانیت ، درویشی و تظاہر قلندری ، دنیا کی بے ثباتی اور بے وفائی ِآدم ، تخلفات ِواعظ و مستی ِ رندان   و جدال درویشان و تونگران  ۔۔۔۔المختصر یہ کہ زندگی کے تمام نشیب و فراز کو انتہائی خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے ۔

شیخ سعدی کے باقی اقوال کی طرح یہ گفتار بھی سعدی کے حُسنِ سخن پر ایک واضح دلیل ہے ۔ سعدی نے اپنے اس کلام کے پہلے حصے میں زندگی  اور مال و دولت کے باہمی ربط کو بہترین انداز میں بیان کیا ہے۔

مال از بھرہ ِ آشایش عمر است ۔۔۔۔  یعنی طریق حکمائ یہ ہے کہ وہ مال و ثروت کو زندگی کی آشایش کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔۔۔نہ یہ کہ اپنی زندگی کا مقصد و ہدف ہی مال و دولت کی جمع آوری کو قرار دیتے ہیں ۔  وہ دنیا و ما فیھا سے اتنا ہی لیتے ہیں کہ جس سے ان کی ایک اچھی زندگی بسر ہوسکے ۔

کیونکہ خلقتِ انسانی کا ہدف مال کا حصول نہیں بلکہ ’’ماخلقت۔۔۔۔۔الالیعبدون  ای لیعرفون[2]‘‘ ہے ۔ لہذا شیخ سعدی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مال و ثروت کو   اپنی زندگی میں    ایک غلام کی  حیثیت دو وگرنہ   کہیں ایسا نہ ہو کہ تم ما ل وثروت کی غلامی میں چلے جاو۔

ابن نواس ایک شعر میں یوں کہتا ہے کہ ۔۔

      انت للمال اذا امسکتہ  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔و اذا انفقہ فالمال لک [3]

جب تک مال کو زیرآستین روک کر رکھو گے یعنی ’’جمع مالاو عدد‘‘ کا مصدق بنے رہو، تو یقینا تم مال کے غلام ہو اور وہ تمہارا حاکم ہے ۔ اور اگر ’’ینفقون فی السرا و الضرا [4]‘‘ یعنی تنگدستی  و خوشحالی،  ہر حال میں  انفاق کا نمونہ ہو تو پھر وہی مال آپ کا غلام ہے ۔

 گفت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیکبخت  آنکہ خورد و کشت و بد بخت آنکہ مرد و ھشت ۔

پھر اسی  گفتار میں شیخ سعدی  نے دو قسم کے افراد کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ ایک وہ خوش بخت افراد کہ جنہوں نے مال و ثروت کو’’ بھرِآشایش عمر‘‘ شمار کیا ۔یعنی خود بھی نعمات ِ خداوندی سے بھرپور استفادہ کیا اور دوسروں کے ساتھ بھی نیکی و احسان سے پیش آئے، حتی اپنی آئندہ نسلوں کے لیے بھی نیکی کے درخت کو کاشت کیا ۔بقول سعدی یعنی ’’خورد و کشت ‘‘۔ 

جبکہ دوسری قسم ان بدبخت افراد کی ہے  کہ جنہوں نے زندگی کے مقصد کو ہی ’’ گرد کردنِ مال ‘‘ کی طرف پلٹا دیا ۔ بقول سعدی ’’ مردو ھشت ‘‘ یعنی یہ وہ افراد ہیں کہ جنہوں نے ساری زندگی محنت و زحمت کر کے  مال جمع تو کیا  پھراسی ہوس میں دنیا کو خیر باد کہہ دیا  اور خود فایدہ نہ اٹھایا  ۔اور ان کا جمع کیا ہوا  مال  دوسروں کا لقمہ بنا ۔یعنی وہ کنجوس لوگ کہ جن کی ساری زندگی صرف مال جمع کرنے میں ہی صرف ہو جاتی ہے ۔

بخیل صفت انسان کو ایک عربی شاعر   نے یوں بیان کیا ہے ۔۔

یفنی البخیل بجمع المال مدتہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ و للحوادث و الایام ما یدع

  کدودۃ القز ما تبنیہ یھدمھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ و غیرھا بالذی بینیہ ینفع

یعنی کنجوس انسان اپنی ساری زندگی مال جمع کرنے میں تباہ کردیتاہے ،مگر اس کے ہاتھ  زمانے کی تلخی و گردش ایام کے سوا  کچھ نہیں لگتا ۔  وہ ریشم کے اس کیڑے کی مانند ہے کہ جو ساری عمر ریشم تو تولید کرتاہے مگر اس سے فایدہ دوسرے اٹھاتے ہیں ۔

کسی کے پاس مال و ثروت کا ہونا بری چیز نہیں ہے۔۔۔ہاں مگر فقط جمع آوری ، محبتِ مال اور پھر اس پر سانپ بن کر بیٹھ جانا، یہ ایک صفت رذیلہ ہے۔

’’ولاتبخسواالناس اشیائھم[5]‘‘ اس بات پر دلیل ہےکہ محبتِ مال  ہی معاشرے سے عدالت کے خاتمے اور کرپشن کے وجود  کا سبب ہے ۔ اور یہ محبت جب بہت بڑھ جائے تو انسان ’’یحسب ان مالہ اخلدہ [6]‘‘ یعنی یہ گمان کرنا شروع کر دیتاہے کہ  شاید مال و دولت میں ہی اس کی بقائ  ہے۔نتیجۃ  نہ تو وہ اسے اپنے اوپر خرچ کرتا ہے اور نہ ہی کسی کو عطا کرتاہے ۔ مگر یاد رہے کہ  گردش ایام نے

Pablo Escobar or Leona Helmsley and Bernie Madoff                                     

اور قذافی جیسے افراد کہ جن کی مالیت ملیون  ڈالرز میں تھی ، کو  بھی   دوام نہ بخشا   اور مٹی نے ان کو اپنی آغوش میں سما لیا ۔

اسی صفت کے حامل افرادکےلیے سعدی یوں گویا ہے کہ۔۔۔۔۔  مکن نماز بر آن ھیچ کس کہ ھیچ نکرد ۔۔۔۔۔۔

مگر دوسری جانب ’’ والذین فی اموالھم حق معلوم للسائل والمحروم [7]‘‘ سے اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا میں بہت سارے افراد  ایسےبھی ہیں کہ جو خود بھی کھاتے ہیں اور دوسروں کا حصہ بھی رکھتے ہیں ۔ بقول سعدی کہ ’’آنکہ خورد و کشت ‘‘۔

[1] ۔ گلستان سعدی ۔۔۔ باب ھشتم ، گفتار (01)

ترجمہ ۔۔۔۔۔ مال و دولت اس لیے ہے کہ ایک اچھی زندگی گزاری جا سکے ، نہ یہ کہ پوری زندگی ،مال و دولت جمع کرنے میں صرف کردی جائے ۔

کسی عقل مند سے پوچھا گیا کہ ۔۔۔۔ نیک بخت کون ہے اور بدبختی کیا ہے ۔۔۔۔۔۔؟

کہا کہ ۔۔۔۔۔ نیک بخت وہ ہے کہ جس نے خدا کی دی ہوئی نعمات سے استفادہ کیا ۔ اور نیکی و سعادت کی بنیاد رکھی ۔ جبکہ بدبختی یہ ہے کہ انسان مال و دولت تو خوب جمع کرے مگر اپنے اوپر خرچ نہ کرے اور اس کی وہ ثروت دوسروں کا لقمہ بن جائے ۔

 شعر کا ترجمہ ۔۔۔۔ وہ پست صفت انسان کہ جس نے ساری زندگی مال تو جمع کیا اور حتی اپنے اوپر بھی خرچ نہ کیا۔۔۔اور نہ ہی جس سے آئندہ مستقبل میں خیر و نیکی کی کوئی امید ہے ۔۔۔۔۔۔ (اسے انسان سے تعلق تو دور کی بات ) حتی اس کی نماز جنازہ میں بھی شریک نہ ہو ۔

[2] ۔ ذاریات ۵۱

[3] ۔دکتر محمد خزائلی ، شرح گلستان ، ص۶۷۵

[4] ۔ آل عمران ، ۱۳۴

[5] ۔ ھود ۸۵

[6] ۔ ھمزہ ۳

[7] ۔ معارج ، ۲۴

 


افکار و نظریات: در محضر سعدی