نمستے ٹرمپ اور جلتا دہلی 

عمر چودھری

عین اُس وقت جب امریکی صدر ”نمستے ٹرمپ “کی” پروقار“ تقریب میں ترنگوں کی ”بہار“میں بھارت کو ”پر امن“ملک قرار دے رہے تھے بھارتی دارالحکومت دہلی غیر متنازع قوانین سے متاثرہ افراد کے ہاتھوں جل اُٹھا، بات نعروں سے بڑھ کر پتھراﺅ ،مار دھاڑ،گولیوں ،زخمی اور ہلاکتوں تک جا پہنچی، آر ایس ایس کے مسلح غنڈے ماسک چڑھائے گلیوں ،بازاروں میں نکل آئے اور مسلمانوں کی املاک کی توڑ پھوڑ میں مصروف نظر آئے جلتے بازار ،مساجد اور مارکیٹیں کسی خوفزدہ ماحول کا منظر پیش کرنے لگیں مسلح جتھے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے،روئٹر کے فوٹو گرافر دانش صدیقی کی ایک مسلمان نوجوان کی بدترین مار پیٹ کی تصاویر نے انسانیت شرما دی اکیلے نہتے شخص کو سر عام ڈنڈوں اور ٹھوکروں سے دھنک کر رکھ دیا گیا جو بعد ازاں شہید ہو گیا ،دہلی سے موصولہ ویڈیو آر ایس ایس کے غنڈوں کی سرکاری سرپرستی اور خصوصاً پولیس کی آشیر باد سے مسلم آبادی میں دھاوے،مار پیٹ ،جلاﺅ گھیراﺅ کے مناظر کا واضح ثبوت ہیں ایسے ماحول میں جب امریکی صدر ٹرمپ بھارت یاترا پر ہیں اور بھارت ”پرامن“ملک ہے اور یہاں رہنے والے مسلمان غنڈے،چور ،اُچکے اور دہشت پھیلانے والے ہیں تو پھر دن دیہاڑے، بندوقیں ،پستول اُٹھائے کون لوگ ہیں جو مسلمانوں پر ظلم کر رہے ہیں ان کی املاک جلا رہے ہیں اور پولیس کے زیر سایہ مکروہ کارروائیوں میں مصروف ہیں۔آر ایس ایس اپنے مکروہ عزائم کس کے کھاتے میں ڈالنا چاہتی ہے اور کس کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہو رہی ہے ۔دنیا جانتی ہے کہ آر ایس ایس مودی سرکاری کی پروردہ جماعت ہے جس کے نریندر مودی باقاعدہ ممبر ہیں لیکن آج کی کارروائی کس کو بدنام کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ ’مہمان خاص‘کو پتہ چل چکا ہو گا کہ بھارت کسی بھی طرح پر امن ملک نہیں ہے اور یہاں کے باسی حکومت کی غلط پالیسیوں اور فضول منصوبہ بندی سے نالاں ہونے کے باعث بھارت بد ترین ریاست کا درجہ پا چکی ہے ۔
دارالحکومت دہلی ، بمبئی اورآگرہ جیسے بڑے شہروں کو پس پشت ڈال کر مودی سرکار کا ٹرمپ کو گجرات لے جانا بھی اس امر کا غماز ہے کہ اپنے آبائی علاقے میں اپنی آئندہ انتخابی مہم کو ’سیدھا ‘کر کے اور بڑے جلسہ سے امریکی صدر کو مرغوب کیا جا سکتا ہے لیکن ایک سو کروڑ روپے اڑانے کے باوجود بھی نریندر مودی کا خواب پورا نہیں ہو سکا ۔عرصہ دراز سے دبی چنگاری عین ٹرمپ کے دورے پر بھڑک اٹھی جس سے مودی سرکار کی ”نیک نامی“خاک میں مل گئی ،کرمیلا پورہ میں ایک مسجد ،ایک مزار اور ٹائر مارکیٹ کو پٹرول بموں سے جلا دیا گیا ،ہنگامہ آرائی میں ڈی سی پی امیت شاہ دیگر پچاس اہلکاروں کے ساتھ زخمی ہو کر ہسپتال پہنچ گئے امریکی صدر کو ابھی تک کی موصولہ اطلاعا ت کے مطابق چار میتوں کی ”سلامی “دی جا چکی ہے لاکھو ں لوگ گھروں میں مقید ہو کر رہ گئے ہیں نظام زندگی تباہ اور بھارت کے دارالحکومت میں سانس لینا بھی دشوار ہو گیا ہے ۔
انٹرنیٹ کی اسپیڈ انتہائی کم کر کے لوگوں کو حالات اور معلوما ت تک رسائی سے جبراً روک دیا گیا لیکن کیا مجال جو بھارتی میڈیا نے جلتے دہلی کی ایک جھلک بھی دکھائی ہو آگ، شعلے، گولیوں کی تڑتڑاہٹ ،مار دھاڑ،ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ ،پکڑ دھکڑ کے باوجود امریکی صدرکی اہلیہ سمیت اسٹیڈیم میں موجودگی ،تقریر پر ”بھارت ماتا کی جے “کے نعرے اور آگرہ میں خاتون اول کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ”ہنی مون“ ٹور کی تصاویر ہی جلوہ گر ہوتی رہیں۔ بھارتی میڈیا کے مکروہ کردار پر تو ہمیں پہلے بھی کسی مثبت رویے کی اُمید نہیں تھی لیکن صحافتی اقدار کی تباہی میں شاید ہی کوئی اسکا ثانی ہو ۔
امریکی صدر ٹرمپ کے دورہ کے پہلے روز یہ عالم تھا تو یقینا اگلے روز پورا بھارت مشتعل افراد کے نشانے پر ہو گا ہم کسی بھی طرح منفی پروپیگنڈا اور ہنگامہ آرائی کے حق میں نہیں ہیں لیکن مودی سرکار نے جس طرح گزشتہ کئی ماہ سے اہل کشمیر کو بدترین کرفیو کی زد میں رکھا ہوا ہے اقلیتوں کو نشان عبرت بنایا جا رہا ہے ایسے تنگ نظری کے دور میں مودی جی کی پوزیشن خراب کرنے کا موقع اقلیتیں کیوں کر ضائع کرتیں انہوں نے ’مہمان خاص ‘کو مودی جی کی اصلیت بتا دی ہے اور واضح کیا ہے کہ ان کی راہ میں امریکی صدر کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے جینے کا حق کوئی نہیں چھین سکتا ،آزادی اولین تقاضا ہے جسے مودی دبا سکتا ہے نہ ٹرمپ چھین سکتا ہے ۔
2/25/20, 12:26 PM - Voice of Nation: 👍