چائے کا کپ ،قیمت MIG21
اگلا مورچہ ۔عمر چودھری
26فروری کو اخلاقیات سے عاری بھارتی فضائیہ نے بارڈر لائن کراس کر کے ’بالا کوٹ ‘میں ”بم“پھینک کر ”دہشت گردوں“کے ”کیمپ “پر ”تباہی “مچانے کے دعوے کے ساتھ متعدد ہلاکتوں کا اعلان کر دیا لیکن اٹلانٹک کونسل کی ڈیجیٹل فرانزک لیبارٹری،سانس فرانسس کو پلانیٹ لیب ،یورپین سپیس اور آسٹریلین سٹریجٹی پالیسی انسٹیٹیوٹ نے بھارتی فضائیہ کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوڑ کر کسی بھی کیمپ کو نشانہ نہ بنانے کا متفقہ اعلان کر ڈالا
اس اعلان کے زخم ابھی مندمل نہیں ہوئے تھے کہ اللہ خوش رکھے ہمارے سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کو جنہوں نے بر ملا کہا کہ اب سرپرائز ہم دینگے اور پھر اگلے ہی روز دن دیہاڑے (پنجابی میں کہتے ہیں چٹے چانن )پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دو بھارتی طیاروں کو دھول چٹا دی اور ایک پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن مقامی دیہاتیوں نے دُرگت بنانے کے بعد پاک فوج کے حوالے کر دیا. ہائے ابھینندن پتا نہیں کیا کیا سپنے سجائے پاک سرزمین کی جانب محو پرواز ہو گا اسے خواب میں بڑا ٹارگٹ اچیوکرنے ،واپسی پر بڑے استقبال اور بڑا تمغہ ملنے کی آس ہو گی لیکن یہ کیا ۔۔۔پلک جھپکتے ہی منظر تبدیل ہو گیا برق رفتاری سے دشمن پر ٹوٹ پڑنے کی خواہش جذبہ ایمانی اور بلند حوصلے کےساتھ پاک فضائیہ کے شاہین سواگت کےلئے موجود تھے مکار دشمن کے پائلٹ جان بچانے کےلئے الٹی سیدھی قلابازیاں لگاتے رہے اِدھر اُدھر نکلنے کی کوشش کی لیکن ونگ کمانڈر نعمان اور سکارڈن لیڈر حسن صدیقی بھی کچی گولیاں نہیں کھیل کر آئے تھے۔ ہمارے شاہین اقبال کے شعر کے مصداق ’جھپٹنا پلٹا ‘پلٹ کر جھپٹنا ‘کی روایت نبھاتے ہوئے دشمن طیاروں کو لمحہ بھر کے لئے بھی معاف کرنے کے درپے نہیں تھے ،راشد منہاس شہید اور ایم ایم عالم کے پیرو کار ہونے ،پی اے ایف کے نعرے ’ڈٹ کر سوئیں ایئر فورس جاگ رہی ہے ‘کی لاج رکھتے ہوئے دشمن طیاروں کو ناک آﺅٹ کر ڈالا ۔
ایک طیارہ مقبوضہ کشمیر کی حدود میں جبکہ دوسرے کے چیتھڑے آزاد جموں و کشمیر میں گرے۔دوسرے طیارے کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن نے ایجیکٹ کر کے جان بچائی زمین پر گرنے کے بعد اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ کس علاقے میں ہے تب تک کچھ سویلین اس تک پہنچ چکے تھے جن سے پوچھنے پر اسے بتایا گیا کہ ’یہ بھارت کا ہی علاقہ ہے ‘جس پر ابھینندن نے خوشی میں جے بھارت کے نعرے لگانے شروع کر دیے جس پر یہاں موجود افراد نے نعرہ تکبیر اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاکر ابھینندن کی بولتی بند کر دی تا ہم اس نے پستول نکال کر انہیں دھمکاتے ہوئے بھاگنے کی کوشش کی لیکن ان بہادر نوجوانوں نے اسے دبوچ لیا اور پھر اس کی تصاویر اور ویڈیوز دنیا بھر نے دیکھیں ۔اِدھر پاکستانی کنٹرول روم میں بھارتی طیاروں کے نشانہ بننے اور ایک پائلٹ کی گرفتاری کی خبر نے جشن کا سماں بنا دیا سارا ملک جھوم اُٹھا ،شکرانے کے نوافل ادا کرنے کے بعد بھنگڑے ،ڈانس اور مٹھائیوں کا دور شروع ہو گیا، جس وقت پاکستانی اور غیر ملکی میڈیا بھارت کی گھگی بند ہونے کی خبریں دکھا رہا تھا بھارتی میڈیا بھگوان کے گیت پیش کر رہا تھا بین الاقوامی طور پر ایئر فورس کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا گیا اور مبارکبادوں کا سلسلہ جاری ہو گیا ،اُدھر بھارتی ”فیلڈ“میں سراسیمگی کا عالم تھا اور گرفتار پائلٹ کے والد سابق ایئر مارشل اپنے بیٹے کی” باعزت“ واپسی کےلئے ہاتھ پاﺅں مار تے ہوئے وزارت دفاع اور وزارت خارجہ کے پاﺅں پڑ رہے تھے ایئر فورس کے بڑے اپنے تئیں ”کوششوں “میں مصروف تھے اِدھر پاکستان میں ابھینندن کے طبی معائنے اور کپڑے تبدیل کروانے کے بعد اگلے فیصلے کے انتظار کا کہا گیا قبل ازیں ابھینندن نے ویڈیو پیغام میں کہا پاکستانی فوجی افسروں نے اس کی جان بچائی ہے اس نے اعتراف کیا کہ وہ بتائے گئے ٹارگٹ کو تباہ کرنے آیا تھا لیکن ناکام ہو گیا، تین روز کی ”سفارتی کوششوں “کے بعد بھارت پاکستانی حکومت کو اپنے گرفتار پائلٹ کی ”واپسی“ کیلئے راضی کر سکا ،واہگہ کے راستے ابھینندن کو سرکاری حکام کی موجودگی میں بھارت بھیج دیا گیا، پھر کہیں سے اسے اعلیٰ ایوارڈ دینے کا اعلان ہوا جس پر اہل پاکستان نے ذرا بھر بھی حیرت کا اظہار نہیں کیا کیونکہ وہ ایک چائے کے کپ کے بدلے مِگ21تباہ کر چکے تھے ۔
آج پھر 27فروری ہے اور اہل وطن اسے سرپرائز ڈے کے طور پر منا کر نمک چھڑکیں گے۔ ۔۔۔ہاں اگر کبھی فنٹاسٹک چائے کا موڈ ہو تو مِگ 21اس کی قیمت ہو گی بس بھارت کو باور کرانا ہے کہ ہم اگلے مورچے میں تیار بیٹھے ہیں ۔

 


افکار و نظریات: چائے کا کپ, قیمت MIG21