طالبان اور امریکہ کے معاہدے پر ایک نظر

امریکہ نے  پاکستان اور افغانستان کیلئے طالبان  کے دو الگ الگ گروہ تشکیل دے رکھے ہیں۔

ایک گروہ پاکستانی طالبان کا ہے جو پاکستان کے دشمن ہیں اور انہیں افغانستان کنٹرول کرتا ہے  اور دوسرا گروہ افغانی طالبان کا ہے جوافغانی حکومت کے مخالفین ہیں اور ان کی سرپرستی پاکستان کو سونپی گئی ہے۔ یا د رہے کہ امریکہ ان دونوں گروہوں میں سے کسی ایک کو بھی اقتدار نہیں دینا چاہتا بلکہ وہ ان کے ذریعے پاکستان اور افغانستان کے درمیان پراکسی جنگ بھڑکا کر ان دونوں ملکوں کو کمزور رکھنا چاہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب افغانستان میں طالبان کوئی کارروائی کرتے ہیں تو افغان حکومت ، پاکستان کو الزام دیتی ہے اور جب پاکستان میں طالبان کوئی کارروائی کرتے ہیں تو پاکستان حکومت افغانستان کو مورد تنقید قرار دیتی ہے۔

امریکہ  کا یہ معاہدہ در اصل طالبان  اورداعش کے درمیان معاہدہ ہے۔ امریکہ اس معاہدے کے بعد افغانستان اور پاکستان کو مستقل طور پر ایک لمبی پراکسی وار میں جھونک کر خوداپنے اگلے منصوبوں کی تکمیل کیلئے افغانستان سے باہر جانا چاہتا ہے۔ لیکن اس وقت پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک امریکا کی اس چال کو اچھی طرح سمجھتے ہیں، لہذا امید یہ کی جاتی ہے کہ ان دونوں ممالک کے سیکورٹی ادارے مختلف مراحل میں  امریکہ کی اس چال کو ناکام بنا دیں گے اور یوں یہ معاہدہ ناکام ہوجائے گا۔

طالبان کا مرکزی  دفتر چونکہ  قطر میں ہے، اس لئے۔ اس معاہدے کی تقریب سے پہلے ہمارے وزیرِ اعظم کو بھی  ایک سہولت کار کے طورپر  قطر  میں ہی بلایا گیا  اور ان مذاکرات   میں پاکستان کا کردار فقط ایک  سہولت کار کا سا ہی رہا۔ چنانچہ اس  معاہدے کی کاپی (Copy)، معاہدے کا متن اور معاہدے کے مندرجات پاکستان کو آگاہ تک نہیں کیا گیا۔ اگر کسی کا دعویٰ ہو کہ پاکستان کو اس معاہدے کی اصل کاپی دی گئی ہے تو وہ مستند سورس کے ذکر کے ساتھ وہ کاپی یہاں شئیر کر دے تاکہ سب لوگ اس کا جائزہ لے سکیں۔(ادارہ)

اس وقت طالبان اور امریکہ کے معاہدے کے حوالے سے ماہر تجزیہ کار   رائے یوسف رضا دھنیالہ آف جہلم- پنجاب- پاکستان کاتجزیہ ملاحظہ فرمائیں:

اس معاہدے کے چند اہم پہلو مندرجہ زیل ہیں:۔

نمبر1۔ امریکہ بہت لمبے عرصے سے اتحادیوں سمیت افغانستان میں موجود تھا جہاں پر اس کا جانی و مالی نقصان بہت زیادہ ہوا لیکن طالبان پھر بھی ختم نہیں ہوئے!

نمبر2    ۔  امریکہ کی افغانستان میں موجودگی چین، روس، ترکی، ایران، پاکستان سمیت بہت سے ہمسایہ ممالک کو ناگوار گذر رہی تھی، لہذا اسے یہاں سے بھگانے کے لئے بہت سی امریکہ مخالف طاقتوں نے درپردہ طالبان کی مدد کر کے پراکسی وار لڑی جس نے طالبان کو مضبوط لیکن امریکہ کو کمزور کر دیا!

نمبر3۔امریکہ دنیا کی اس چھت پہ بیٹھ کر بہت سے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا لیکن جاسوسی اور جغرافیے سے متعلقہ بہت سی معلومات اس نے حاصل بھی کیں!

نمبر4۔اب امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان میں مزید رکنا گھاٹے کا سودا سمجھ رہے تھے، لہذا انہیں اپنے انخلاء کے لئے کچھ ضمانتوں کے ساتھ انخلاء چاہئیے تھا جس میں پاکستان ان کے بہت کام آیا!

نمبر5۔پاکستان نے سفارتی سطح پر اپنی نیک نامی کے لئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی بہت آگے جا کے اس لئے مدد کی کیونکہ بدلے میں پاکستان ان عالمی اجارہ داروں سے ہندوستان کے مقابل کچھ سفارتی حمایت چاہتا تھا!

نمبر 6۔امریکہ خطے سے جانے سے پہلے افغانستان کے موجودہ سیاسی ڈھانچے، مشترکہ حکومت، جمہوری نظام، انسانی حقوق، خواتین کے مقام اور مروجہ عالمی معیار کے سوّل کوڈ کے تحت طالبان کی شراکت چاہتا تھا جسے ماننا طالبان کے نظام، مزاج، اہداف اور اسلامی ریاست کے تصورات کے خلاف تھا!لہذا ڈیڈھ سال سے طالبان اپنی ضد پر اڑے ہوئے تھے کہ امریکہ ہم کو پٹی پڑھانے اور اپنے نظام سمجھانے کے بجائے غیر مشروط طور پر افغانستان سے نکل جائے، اور پھر ہم جانیں اور ہمارا کام!لیکن طالبان کی اس بات کو امریکہ تسلیم نہیں کر رہا تھا اور پاکستان پر مسلسل دباؤ بڑھا رہا تھا کہ ہم طالبان سے امریکی شرائط تسلیم کروا کر کوئی قابلِ قبول معاہدہ کروا دیں!دوسری طرف طالبان کسی پیشگی شرط کے ساتھ امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے کو ہر گز تیار نہیں تھے، مگر بالآخر ہم نے طالبان کو خودسر رہنے کے بجائے عالمی قوانین کے مطابق اور مروجہ سوّل سوسائٹی کے اصولوں پر افغانستان میں شراکتِ اقتدار کے معاہدے پر قائل کر لیا!

نمبر 7۔اب طالبان امریکہ کے افغانستان کے قیام کے دوران ہی اپنے ملک کے دوسرے تمام دھڑوں کے ساتھ افغانستان کے مستقبل کے سیاسی نظام پر مذاکرات کرنے اور اِنٹرا افغان مذاکرات کے ذریعے متفقہ نظامِ حکومت کا حصہ بننے کے پابند ہیں!

نمبر8۔اب طالبان امریکہ کے جانے کے بعد یکدم اٹھ کر پورے افغانستان پر قبضہ کر کے اپنی مرضی کی حکومت اور ملا عمر جیسی خلافت قائم کرنے کے قابل نہیں رہے بلکہ اِنٹرا افغان مذاکرات کے ذریعے جو متفقہ طور پر طے ہوگا اس کی پابندی کرنے کے پابند ہونگے!

نمبر 9۔اب طالبان کا سفید جھنڈا نہیں بلکہ افغانستان کا موجودہ جھنڈا ہی ملک کا پرچم رہے گا،موجودہ کرنسی ہی رائج رہے گی،ٹی وی چینل اسی طرح چلتے رہیں گے، تعلیمی ادارے کھلے رہیں گے،خواتین کے حقوق برقرار رہیں گے،خلافت کے بجائے جمہوریت پنپے گی،صرف طالبان کی حکومت بننے کے بجائے تمام سیاسی جماعتوں، دھڑوں، لیڈروں اور  لسانی صوبوں کی مرضی سے حکومت بنا کرے گی اور عالمی اصولوں کی پاسداری کی جایا کرے گی!

نمبر 10۔طالبان کو پاکستان، ترکی، ملائشیا جیسے اسلامی ملکوں اور جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق قومی دھارے میں شامل ہونے پر پاکستان نے بالآخر قائل کر کے ان کا امریکہ سے معاہدہ کروایا ہے!

نمبر11۔امریکہ طالبان کو فوری کچھ رعائتیں دے گا، طالبان قیدی رہا کرے گا اور بدلے میں طالبان بھی مخالف قیدی رہا کریں گے اور افغانستان کے مستقبل کے سیاسی نظام پر مخالف افغان دھڑوں کے ساتھ مذاکرات کریں گے!اس دوران امریکہ کی فوج کا بڑا حصہ افغانستان میں موجود رہے گا!

نمبر 12۔امریکہ کے ہوتے ہوئے اگر اِنٹرا افغان مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں اور طالبان حصہ بقدر جسّہ کے مطابق قومی دھارے میں شامل ہو کر شریکِ اقتدار ہو جاتے ہیں، پھر تو امریکہ 14 ماہ میں اپنی تمام افواج افغانستان سے نکال لے گا!لیکن اگر اِنٹرا افغان مذاکرات کامیاب نہیں ہو پاتے، اور کوئی ڈیڈ لاک پیدا ہو جاتا ہے تو پھر امریکہ بھی افغانستان سے اپنا انخلاء مؤخر کر دے گا!

نمبر 13۔امریکہ اور طالبان کا معاہدہ تو ہو گیا ہے لیکن اس کا اگلا مرحلہ انتہائی مشکل، پیچیدہ اور خوفناک بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ اس معاہدے کے مطابق طالبان نے افغان حکومت اور اپوزیشن کی باقی تمام جماعتوں کے ساتھ اِنٹرا افغان مذاکرات کر کے کسی مشترکہ نظامِ حکومت کو تشکیل دینا ہے جو بے حد مشکل اور ناممکن بات بھی ہو سکتی ہے کیونکہ انٹرا افغان مذاکرات میں طالبان باقی جماعتوں کی طرح ایک اکائی/ ایک جماعت خیال ہونگے اور اگر سب افغان دھڑوں کے مابین کسی مشترکہ حکومتی نظام پر اتفاق نہیں ہو پاتا تو دوحہ میں  کیا گیا عالمی معاہدہ بھی اپنی موت آپ مر جائے گا اور امریکہ کا جانا بھی ٹھہر جائے گا!

نمبر 14۔طالبان اگر اسلامی حکومت کے اپنے تصور پر زور دیتے اور دوسرے افغان دھڑوں سے اپنی بات منوانے کی کوشش کریں گے تو بھی یہ بیل منڈھے نہیں چڑھے گی!اور اگر پاکستان، ترکی یا ملائشیا جیسی جمہوریت کی بات خود طالبان مان جاتے ہیں تو پھر طالبان کی سیاسی حیثیت، نمائندگی اور سائز افغانستان میں سمٹ کر ایسا ہی رہ سکتا ہے جیسے پاکستان میں مولانا فضل الرحمان کا!

نمبر 15۔اللّٰہ کرے کہ طالبان قومی دھارے میں شامل ہو جائیں اور افغانستان کی آئینی حکومت تشکیل دے کر معاہدے کے مطابق عالمی اصولوں کی پاسداری نبھا سکیں!لیکن امریکہ کا عمل دخل پھر بھی افغانستان میں اسی طرح موجود رہے گا جس طرح دنیا بھر کے ممالک اس کے زیرِ اثر ہیں، کیونکہ معاہدے کے مطابق امریکہ افغانستان کو امداد دیتا رہے گا، افغان فوج کی تربیت کا ذمہ بھی امریکہ کے ذمے رہے گا، اور اس طرح طالبان فوجی کے بجائے محض ایک سیاسی جماعت بن کے رہ جائیں گے!نیز امریکہ اپنا انٹیلیجنس نیٹ ورک بھی افغانستان میں چلاتا ہی رہے گا!

نمبر16۔مندرجہ بالا تمام پوائنٹ اور تشریحات سے قارئین خود اندازہ لگا لیں کہ امریکہ کی کتنی سی ذلالت ہوئی ہے اور طالبان کو کونسی فتح حاصل ہو گئی ہے!

نمبر17۔تاہم وقتی طور پر طالبان اور پاکستان کو عالمی سطح پر پذیرائی ضرور حاصل ہو گئی ہے کیونکہ پاکستان کو سفارتی تنہائی کا شکار کرنے کی ہندوستانی کوشش ناکام ہوئی ہے، اور طالبان کو عالمی سطح پر افغانستان کا ایک اہم فریق تسلیم کرتے ہوئے اس کے قیدی رہا کرنے، ان پر لگی عالمی پابندیاں ختم کرنے اور ان کی امداد کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے!لیکن اب آئندہ سے طالبان افغانستان کی الگ فوج نہیں بلکہ ایک سیاسی پارٹی بن کے رہیں گے اور امریکہ افغانستان کا آئندہ بھی عملا" سرپرست بنا رہے گا، اور طالبان کو امریکہ کے سامنے سرنڈر کرانے کا سہرا چونکہ پاکستان کے سر ہے لہذا پاکستان کو بھی اس موقع پر شاباش دے دی گئی ہے!