انڈیا کے زاول کا آغاز ھوا چاھتا ھے!!!

محبوب اسلم

انڈیا میں پچھلے کچھ مہینوں سے جو ھندو شدت پسندی جاری ھے اور جس فاسطائیت کا مظاھرہ دھلی میں دیکھا گیا ھے وہ اکھنڈ بھارت کے خواب کا زوال کا نقطہ آغاز ھے۔

بھارت کی یہ پوری کوشش ھے کہ اس سرکاری فاسطائیت کو ھندو مسلمان بلوے کا نام دیکر دنیا کو ایسا تاثر دیا جائے کہ یہ دو برادریوں کے اختلاف کی جنگ ھے جسمیں سرکار مجبور ھے۔ لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ھے بلکہ یہ سراسر بھارتی سرکار اور ریاستی غنڈہ گردی ھے جو اس سے پہلے دنیا ھٹلر کے نازی جرمنی اور جنوبی افریقہ میں سفید نسل پرست حکومت کی فاسطائیت کی شکل میں دیکھ چکی ھے کہ کسطرح سرکاری مشینری اور پولیس کو ایک خاص طبقہ کے لوگوں پر ظلم و بربریت کیلئے استعمال کیا گیا۔ اور یہی وہ انسانیت سوز جرائم ھیں جن کا ارتکاب آج مودی سرکار کر رھی ھے۔

لیکن اصل نقطہ یہ ھے کہ جو گہناؤنا کھیل مودی سرکار نے شروع کیا ھے کیا وہ بھارت کی سالمیت کو دوام بخشے گا؟؟؟ دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے یہ بات صاف عیاں ھے کہ ظلم کی رات کتنی ھی طویل اور سخت ھو آخر کار اسکا انجام بہرحال برا ھوتا ھے۔ اور خاص طور پر بھارت کیلئے یہ تشدت پسندی کا کھیل اور بھی مہنگا پڑنے والا ھے کہ بھارت میں صرف مسلمان ھی نہیں بلکہ سکھوں، عیسائیوں اور دلت اقلیتی گروھوں کو بھی ظلم وستم کا نشانہ بنایا گیا ھے۔ یہ سب اقلیتی اکائیاں ملکر بھارت کی آبادی کا کل قریباً پینتیس فیصد بنتی ھیں اور وہ وقت دور نہیں جب یہ اکائیاں اپنے ساتھ ھونے والے ظلم کیخلاف ھندو شدت پسندوں یعنی آر ایس ایس اور بی جے پی کیخلاف متحد نہ ھو جائیں۔

جو آگ و خون کا کھیل مودی سرکار نے شروع کر رکھا ھے وہ زیادہ عرصہ جاری نہیں رہ سکتا اور نہ ھی یہ بد امنی معاشی طور پر بھارت کیلئے فائدہ مند ھے۔

با شعور اور امن پسند ھندوں طبقے اس حقیقت سی بخوبی آگاہ ھیں اور یہی وجہ ھے کہ سیاسی طور پر اب مودی سرکار کا زور ٹوٹ رھا ھے اور دلی میں آروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی نے بی جے پی کا صفایا کر دیا ھے۔

پاکستان اس سارے معاملے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکتا ھے۔ اور اسکی اولین ترجیح ان معاملات میں بھارتی حکومت کی سر پرستی کے ثبوت جمع کر کے تمام بین الاقوامی فورمز پر بھارتی حکومت کی اس تشدت پسندانہ پالیسیوں کو اجاگر کرنا ھے۔ سارک سے لیکر اقوام متحدہ اور او آئی سی سے لیکر یورپی یونین اور ھر ملک کے سفارتکاروں کو بھارتی سرکار کی تشدت پسند کاروائیوں کے بارے میں بریفنگ دینے کی ضرورت ھے اور ھر اس فورم پر اس مسئلہ کو اٹھانے کی ضرورت ھے جو انسانوں کےبنیادی حقوق کی علمبردار ھیں جن میں اقوام متحدہ کا کمیشن برائے ھیومن رائیٹز سرفہرست ھے۔ لیکن فیالحال اس محاذ پر پاکستان کی جانب سے کوئی خاص کوشش سامنے نہیں آرھی اور ایک قیمتی موقع گنوایا جا رھا ھے؟؟؟

اسکے ساتھ ساتھ پاکستان کو اپنی اقلیتوں کو مکمل تحفظ کی ضمانت دینا بھی شامل ھے اور اس سلسلے میں گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کا ٹویٹر بیان کافی حوصلہ افزا ھے۔ملک میں بسنے والی اقلیتوں کی حفاظت نہ صرف ھمارا قومی فریضہ ھے بلکہ ھمارا دینی فریضہ بھی ھے۔ اور دشمن اس ضمن میں پاکستان کے اندر کوئی بھی گھٹیا چال چل سکتا ھے لہذا بہت ھی ھشیار رھنے اور ٹھنڈے دماغ سے ایسی کسی بھی صورتحال سے نمٹنا ھوگا۔

اگر مودی سرکار یہ ظلم و بربریت کا کھیل جاری رکھتی ھے تو سمجھ لیجئے کہ الٹی گنتی شروع ھو چکی ھے۔ اس ضمن میں حالیہ طالبان امریکہ امن معاھدہ بھی بہت اھم ھے۔ طالبان کو اللہ نے انکی ثابت قدمی پر نوازا ھے اور امریکہ جو ایک غاصب اور جارح کے طور پر افغانستان میں داخل ھوا آج دم دبا کراور ھاتھ جوڑ کر راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور ھے جس کا تماتر سہرا طالبان کے سر جاتا ھے۔ اب ضرورت اس امر کی ھے کہ پاکستان طالبان سے اپنے پرانے مراسم دوبارہ استوار کرے اور اس خطے میں امریکہ اور بھارت کے بڑھتے ھوئے اثر کو زائل کرے۔ اب مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارتی جارحیت کو افغانستان کی مدد سے جواب دیا جاسکتا ھے۔

لیکن یہاں اس بات کا بھی خیال رکھنا ضروری ھے کہ امریکہ افغانستان میں پراکسی وار کو پرائیوٹ ملیشیا کی مدد سے جاری رکھ سکتا ھے اور ایران بھی ماضی کیطرح ایکبار پھر شمالی اتحاد جیسے عناصر کو استعمال کرتے ھوئے افغانستان میں بلواسطہ طور پر امریکہ اور بھارت کے مفادات کو تحفظ دے سکتا ھے جو ایک نامناسب عمل ھوگا۔ پاکستان۔۔۔ طالبان اور ایران کے بیچ امن کے فروغ کیلئے کردار ادا کر سکتا ھے اور پاکستان کو اس ضمن میں یقیناً کام کرنا چاھئیے۔ اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ھو اور بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار کو جلد بہتر بنائے۔ آمین