خاندان کا تقدس

تحریر۔سجاد احمد مستوئی

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ایران سے تعلق رکھنے والا خاندان یورپ میں آباد تھا۔ وہاں پر ان کی نسلیں پروان چڑھ رہی تھیں۔جب اس خاندان میں سے ایک لڑکا جوان ہوکر جب شادی کی عمر کو پہنچا تو اتفاق سے اس کا رشتہ ایران میں موجود ان کے رشتہ داروں کی کسی لڑکی سے طے پاگیا۔

اب یہ خاندان اپنے نوجوان بیٹے کی شادی کرنے کیلئے ایران آیا۔شادی کی تیاریاں شروع ہوگیں۔ولیمے اور نکاح کی تقریب کیلئے تہران شھر کے ایک مشھور اور مہنگے میرج ھال کو بک کروایا گیا۔نکاح کے صیغوں کو جاری کرنے کیلئے ایک مولوی صاحب کو بلوایا گیا۔ شادی کا دن آن پہنچا  مولوی صاحب اپنے سادے لباس و انداز میں میرج ھال میں داخل ہوئے۔ دلہے کے والد نے مولوی صاحب کا استقبال کیا اور ان کو دروازے سے سٹیج پر لے گے جہاں دلہا اپنے چند دوستوں کے ساتھ تیار ہوکر بیٹھا تھا۔ مولوی صاحب کو نکاح پڑھنے کیلئے کہا گیا۔ جب مولوی صاحب نے نکاح پڑھنا شروع کیا تو دلہے کا ایک دوست جس کی پرورش یورپ میں ہوئی تھی مولوی صاحب کو کچھ حیران نگاھوں سے دیکھنے لگا۔جیسے وہ نکاح پڑھتے ہوئے کسی کو پہلی بار دیکھ رہا ہو۔جونہی مولوی صاحب نے نکاح ختم کیا فورا وہ لڑکا بول اٹھا کہ مولانا جی آیا آپ کے ان دو کلموں ان دو عربی کے جملوں کو ادا کرنے سے یہ دلھن اس دلھے کیلئے حلال ھوگی ہے؟طنزیہ انداز میں کہنے لگا ان دو کلموں سے کیسے کوئی لڑکی ایک لڑکے کیلئے حلال ہوسکتی ہے۔ آپ کے ان جملوں میں کیا رکھا ہے۔ مولانا جی نے غصہ کیے بغیر بڑے تحمل کے ساتھ دھیمے لہجے میں بولے"اے حرام زادے تجھے کس نے اس محفل میں آنے کی دعوت دی ہے" سب حیران کہ مولانا نے یہ کیا کہ دیا۔اس لڑکے کو بہت غصہ آیا۔اس نے کہا کہ اے دو ٹکے کے ملا تمہاری جرات کیسے ھوئی مجھے حرام زادہ کہنے کی۔مولانا جی پھر بڑے تحمل کے ساتھ بولے بیٹا کیا کیا ہے میں نے دو لفظ ہی تو کہے ہیں میرے ان دو لفظوں سے تجھے کیا ہوگیا۔پھر مولانا صاحب سمجھانے کے انداز میں بڑے رعب کے ساتھ بولے کہ جس طرح میرے دو لفظوں نے تیرے اندر اثر کیا اور تجھے غصہ دلایا اسی طرح عربی کے ان دو لفظوں نے اس رشتے پر اثر کیا اور ان دلہا دلہن کو تمام عمر کیلئے شادی کے مقدس بندھن میں جوڑ دیا ہے۔ انہی مقدس الفاظ کے ساتھ ایک خاندان تشکیل پاتا ہے۔ایک ایسا خاندان کہ جس کی ابتداء اللہ تعالی کے مقدس نام اور اس کے بنائے ھوئے مقدس قانون سے ھوتی ہے اس خاندان کے ساتھ جوڑے ہوئے تمام رشتوں میں تقدس اور احترام پایا جاتا ہے۔دلہن دلہے کے ماں باپ کو اپنا ماں باپ سمجھ کر اور دلہا دلہن کے ماں باپ کو اپنے والدین سمجھ کر ان کا احترام بجا لاتے ہیں بلکہ دلہا دلہن ایک دوسرے سے جڑے ھوئے تمام رشتوں کا احترام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔اس طرح احترام و تقدس اور پیار و محبت کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس مقدس و پاک رشتے کی وجہ سے جو اولاد وجود میں آتی ہے وہ والدین کا احترام کرتی ہے۔ وہ اولاد باپ کے مقام کو سمجھتی ہے اور باپ کی محبت کے زیرے سایہ پروان چڑھتی ہے اور اسی طرح ماں کے مقام کو سمجھتی ہے اور اس کی بے انتہاء مھر و محبت کا صلہ اسے احترام کی شکل میں دیتی ہیں اور والدین کے حقوق کا خیال رکھتی ہے

والدین بھی اپنی اولاد کے حقوق کی پاسداری کرتے ہیں۔بیوی شوھر کے وقار کا خیال رکھتی ہے،شوھر بیوی کی عزت و احترام کا خیال رکھتا ہے ۔اسیطرح بھائی بہن کا احترام کرتا ہے اور بہن بھائی اور والد کی عزت و غیرت کو کسی بھی قیمت پر داغ دار نہیں ہونے دیتی۔ اس طرح پورا معاشرہ تقدس و احترام و محبت کے ڈانچے میں ڈھل کر سکون کی زندگی گزارنا شروع کردیتا ہے یہ سب ان نکاح کے دو لفظوں کا اثر ہے جو مولوی صاحب شادی کے وقت پڑھتے ہیں

جیسا کہ آپ تمام  اس بات سے واقف ہیں کہ آج کل تہذیب و ثقافت اور فرھنگ  کی جنگ ہے  اور اس جنگ میں مغرب کو اس وقت ھم مسلمانوں پر ھر محاظ پر سبقت حاصل ہے۔

ھماری نسلیں مغربی لباس کو پسند کرتیں ہیں۔ھمارا نظام تعلیم مغرب کی طرز و تفکر کو ترویج دے رہا ہے۔ ھماری قومی زبان کو مغرب نے کافی حد تک ختم کر کے اپنی زبان کو زبان کو ھم مسلط کر دیا ہے۔

اب یہ مغرب والے ھمارے خاندانی نظام کو ختم کرکے اس کے اندر موجود خدا کے تقدس کو پامال کرنا چاھتے ہیں۔والدین کے احترام کو روندنا چاھتے ہیں۔غیرت،عزت،حیاء اور وقار جیسی فطری و ضمیر کی  آواز کو دبا کر بے غیرتی،بے عزتی اور بے حیائی جیسے نفسانی و غریزی شعار کو مسلط کر کے ھمارے معاشرے کا سکون ختم کرنا چاھتے ہیں۔اور اللہ تعالی کے خوبصورت قانون کے تقدس کو توڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔یہ لوگ اپنے معاشرے میں کافی حد تک کامیابی سے خاندانی نظام کو توڑنے کے بعد اب ھمارے معاشرے کی طرف رخ کرلیا ہے۔انہوں نے ھمارے معاشرے کے چند افراد کو خرید کر یا ان کو آزادی کا غلط مفھوم بتاکر ھماری معصوم بہنوں،بیٹیوں اور ماوں سڑکوں پر لاکر ان کی عزت کے ساتھ ساتھ ھمارے معاشرے کے تقدس کو توڑنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ھمارے معاشرے کی چند خواتین نے جانے ان جانے میں دشمن کے تیر کا نشانہ بن کر اپنی عزت و وقار،اپنے ضمیر و فطرت کی آواز کے ساتھ ساتھ ھمارے اسلامی معاشرے کے تقدس کا گلا گھونٹنا شروع کردیا ہے

اب میری حکومت وقت سے اور ھر باضمیر شخص سے یہ گزارش ہے کہ وہ میدان عمل میں آکر اپنے اسلامی معاشرے کے تقدس کو پامال ھونے سے بچائیں۔

sajjadahmadmastoi5121472@gmail.com