انسانیت و فطرت

تحریر۔سجاد احمد مستوئی

دو اصطلاحوں،دولفظوں کو ھم اپنی زندگی میں باربار سنتے ہیں ایک ہے لفظ انسانیت اور دوسرا ہے لفظ فطرت۔

آیا ھم نے کبھی ان دو لفظوں کو ان دو اصطلاحوں کو سمجھنے کی کی ہے؟انسانیت یعنی کیا؟فطرت یعنی کیا؟ سب سے پہلے ھم لفظ فطرت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں یعنی فطرت کسے کہتے ہیں؟

تمام اشیاء چاھے وہ انسان ہوں یا حیوان ہوں حتی کہ نباتات و جمادات جو اس جھان میں موجود ہیں ان کی خلقت میں کچھ خصوصیات پائی جاتی ہیں: خالق تمام اشیاء نے ان اشیاء کے درمیان مختلف خصوصیات رکھیں ہیں جو ان اشیاء کے درمیان فرق کا باعث بنتی ہیں اور ان کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہیں اور ان کو ایک دوسرے کے اوپر امتیاز بخشتی ہیں۔اگر ان ان چیزوں کے درمیان مختلف خصوصیات ناھوں تو بناتات و جمادات کے درمیان اور انسان و حیوان کے درمیان کوئی فرق نہیں رہتا مثلا خمادات میں حرکت نہیں پائی جاتی اور ان کے خالق نے ان کے پیدائش کے وقت ہی ان کے اندر رشد نہیں رکھا یہ خمادات کی خصوصیت ہے ناکہ ان کا عیب۔ جو ان کو نباتات سے فرق بخشتی ہے اور اسے فطرت کہتے ہیں

پتھر کا سخت ہونا اس کی خصوصیت ہے ہعنی سختی اس کی فطرت میں پائی جاتی ہے جو اس کو درختوں سے گھاس بوس سے جدا کرتی ہے

اور اسیطرح نباتات میں رشد پایا جاتا ہے ایک درخت رشد کرتا ہے لیکن  خودبخود اپنی جگہ سے دوسری جگہ تک نہیں جاسکتا اور نباتات میں نفس بھی نہیں ہوتا یعنی ان کے اندر کی چیز کو پانے کی تمناء و خواھش نہیں پائی جاتی یہ ان کی فطری خصوصیت ہے ناکہ عیب۔گلاب کے پھول اور کانٹے فطری ہیں جو اس کو جمادات سے جدا کرتے ہیں اسی طرح حیوانات میں رشد و حرکت کے ساتھ ساتھ نفس بھی پایا جاتا ہے جو ان کو جمادات و نباتات سے جدا کرتا ہے.اب اس نفس کی کچھ خصوصیات ہیں جن کو جاننا ضروری ہے تمایلات و خواھشات کے مجموعے کو نفس کہتے ہیں ایسی جگہ جہاں سے خواھشات پیدا ھوتی ہیں یعنی خواھشات کے منبع کو نفس کہتے ہیں.اب وہ کھانے کی خواھش ہو یا شھوت کی خواھش ہو یا طاقت کی بناء پر ایک کمزور جانور پر ظلم کرنے کی خواھش ہو یہ تمام کی تمام خواھشات نفس کی خصوصیات میں سے ہیں اور یہ نفس ایک جانور میں پایا جاتا ہے جو اس کو نباتات و جمادات سے جدا کرتا ہے ایک جانور بغیر سوچے سمجھے بغیر کسی کے ڈر کے جو کچھ اس کے سامنے آتا ہے اس کو کھاتا ہے اور اسیطرح بغیر کسی سے حیاء کیے اپنی شھوت کو پورا کرتا ہے کیونکہ یہ اس کی خصوصیت ہے اور یہ اس کی فطرت میں ہے جو اس کو جمادات و نباتات سے جدا کرتا ہے.اب باقی رہ جاتا ہے انسان جو شروع میں ھم نے لفظ انسانیت ذکر کیا تھا اس کو یہاں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایک انسان کے اندر نفس کے ساتھ ساتھ عقل نام کی ایک چیز پائی جاتی ہے جس کو دوسرے لفظوں میں ضمیر بھی کہا جاتا ہے اور یہی عقل ہی انسان کو باقی تمام مخلوقات سے جدا کرتا ہے اور انسان کی امتیازی خصوصیت میں شمار ہوتا ہے

ایک انسان کےاندر نفس اور عقل دونوں پائے جاتے ہیں اور یہ دونوں ایک دوسرے کے مخالف ہیں اور انسان کے اوپر قبضہ کرکے اس پر اپنا حکم چلانے کیلئے ھمیشہ آپس میں حالت جنگ میں رہتے ہیں۔

سوال انسان کے اندر ایسی کیفیت کیوں پائی جاتی ہے باقی تمام مخلوقات میں یہ خصوصیت کیوں نہیں پائی جاتیتاکہ انسان کا باقی مخلوقات خاص کر جانوروں سے فرق واضح ہوسکے۔

اب انسان کی اس اندرونی کیفیت کو سمجھنے کیلئے ھمیں نفس کی طرح عقل کی خصوصیات کو جاننا پڑے گا اس عقل کے کچھ تقاضے ہیں جو فطری طور پر اس عقل میں پائے جاتے جن کو پورا کر کے انسان جانوروں سے جدا ہوتا ہے۔

فکر،سوچ،ھمدردی،غیرت،عزت،انصاف،مساوات،عدل،محبت،عفت،پاکدامنی،صبر،شجاعتاور آزادی(یعنی عقل کی تمام خصوصیات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور عقل کے جذبات کو ٹھیس پہنچایے بغیر زندگی گزارنا)

حیاء،احترام اور اسی طرح کی ھزاروں باکمال صفات کے منبع کو عقل کہتے ہیں اور یہ عقل نفس کے ھمراہ ایک انسان میں پایا جاتا ہے جو انسان کو حیوانات و نباتات اور جمادات سے جدا کرتا ہے

اب کوئی بھی انسان جو دنیا کے کسی بھی کونے میں رہتا ہو،کسی بھی مذھب سے تعلق رکھتا ہو اگر وہ عقل کو استمعال میں لائے گا تو تمام کی تمام صفات باکمال عقل اس کے اندر جلوا گر ہونگی اور اسے کہتے ہیں انسانیت۔اس لیے کہا جاتا ہے کہ انسانیت کا کسی بھی مذھب و فرقے سے تعلق نہیں ہوتا ہے

اب اسی انسانیت کو اور فطرت کو اپنے معاشرے میں ڈھونڈھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ انسانوں کے آپس میں مل جل کر رہنے کو معاشرہ کہتے ہیں عقل و فطرت و انسانیت کی بنیاد پر ان مل جل کر رہنے والے انسانوں کے آپس میں ایک دوسرے کے اوپر کچھ حقوق لاگو ہوتے ہیں جو انسان ان حقوق کی پاسداری کرتا وہ جانوروں سے جدا ہو جاتا ہے۔ اب اس معاشرے میں مرد بھی رہتے ہیں اور عورتیں بھی ایک عورت کی مرد کے ساتھ نسبت یا تو ایک ماں کی ہے یا ایک بہن کی ہے یا ایک بیٹی کی ہے یا ایک بیوی کی ہے۔

اب عقل و ضمیر و فطرت کے مطابق ایک خاتون اپنے والد،اپنے بھائی،اپنے بیٹے اور اپنے شوھر کے حقوق کی پاسداری کرتے ہوئے زندگی گزارے تاکہ فطرت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے جانوروں سے جدا ہو سکے  یعنی دوسروں کے حقوق کو پامال کیے بغیر دوسروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائے بغیر اپنے حقوق حاصل کرتے ہوئے ایک فطری اور عقلی و باضمیر زندگی گزار سکے اسے کہتے ہیں آزادی اسے کہتے انسانیت اب اگر کوئی خاتون اپنے والد کی عزت اپنے بھائی کی غیرت اور اپنے شوھر کو ملحوظ خاطر رکھ کر اپنے جسم کو چھپا کو معاشرے میں زندگی گزارتی ہے تو اسے باضمیر باغیرت باوقار خاتون کہا جائے گا اور آزادی کہتے ہیں لیکن اس کے برعکس اگر عورت اپنے اندر کے ضمیر کی آواز سنے بغیر سڑکوں پر اپنے باپ کی عزت اپنے بھائی کی غیرت اور اپنے شوھر کے وقار کو پامال کرے تو اس خاتون میں اور ایک جانور میں کوئی فرق نہیں رہتا۔

جس طرح جانور اپنی نفسانی خواھشات کو پورا کرنے کیلئے کسی بھی چیز کا حیاء نہیں کرتا اسی طرح کچھ بے ضمیر عورتیں جنھوں نے اپنی فطرت کو اپنی عریانی کے ذریعے سے قتل کردیا ہے وہ کسی کا حیاء کیے بغیر جانوروں کی طرح عریان ہوکر"میرا جسم میری مرضی"کا نعرہ لگا کر معاشرے میں اپنے پست مقام ظاھر کر رہی ہیں۔اور کچھ اس کو حقوق نسواء کا لقب دے کر فطرت و انسانیت کے مقدس منصب کو داغ دار کر رہے ہیں