مخلص ہے تو قابل بھی بن

تحریر  گلزارحسین


راشد اور سلیم بہترین دوست تھے ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے اور ضروریات کا خیال رکھتے,  ایک دن راشد  کی امی کی طبیعت خراب ہوئ تو اس نے سلیم سے اس کی کار مانگی, سلیم نے پوچھا کب ڈاکٹر کے پاس جانا ہے آپ نے ؟ راشد نے بتایا کہ صبح ساڑھے نو بجے ملتان جانا ہے ڈاکٹر سے 12 بجے کا ٹائم لے لیا سفر ہے تو ہم نو بجے نکل جائیں گے. آپ ہمیں صبح سات بجے تک گاڑی دے دیں تو ہم پورے وقت پہ نکل جائیں گے, سلیم بہت زیادہ پریشان تھا وہ جانتا تھا کہ راشد مخلص دوست تو ہے مگر کار چلانے کا اہل نہیں, وہ اس قابل نہیں کہ گاڑی ملتان بھی لے کر جاسکے گا, سلیم نے بہت سوچ بچار کے بعد گاڑی راشد تک پہنچا دی, راشد سے پوچھا کار چلا لیں گے آپ یا ڈرائیور بھیج دوں, راشد نے کہا نہیں میں ٹریکٹر چلا لیتا ہوں میں خود لے جاؤں گا. آخر کار سلیم نے گاڑی راشد کے حوالے کی اور چلا گیا. گاڑی دینے کے بعد سلیم کو فکر لاحق ہوئ کہ راشد کو اکیلے نہیں بھیجنا تھا ڈرائیور یا پھر خود چلا جاتا, دن گزرتا گیا سلیم دعا مانگتا رہا آج گاڑی صحیح سلامت واپس آجاۓ تو آئندہ اس طرح کسی نااہل ڈرائیور کو نہیں دے گا, مغرب کے وقت سلیم کو راشد کے نمبر سے کال آئ وہ بہت خوش ہوا اور کال موصول نہ کی بھاگ کر دروازہ کھولا مگر راشد تو وہاں نہیں تھا پھر سلیم نے خود کال کی تو راشد نے بتایا یار سلیم آپکی گاڑی لگ گئی ہے تو فرنٹ شیشہ اور ڈرائیور سائیڈ کا ایک شیشہ ٹوٹ گیا ہے اب میرے پاس پیسے نہیں کہ اسے بنوا سکوں امی کے علاج پر خرچ ہوگۓ ہیں, سلیم نے کہا راشد بھائ آپ ڈرائیور نہیں تھے تو اکیلے کیوں لے کر گۓ تھے ٹریکٹر چلانے اور کار چلانے میں فرق ہوتا ہے اب گاڑی لے آؤ ہم یہیں سے بنوا لیں گے, سلیم نے ادھر ادھر سے مانگ تانگ کر گاڑی آخر بنوا لی جس کے پیسے راشد نے تین سال بعد ادا کردیۓ تھے , اس کے بعد سلیم نے توبہ کی کہ وہ کسی بھی نا اہل شخص کو گاڑی نہیں دے گا, وقت چل رہا تھا کہ سلیم کے سالے نے گاڑی مانگی جس پر وہ انکار کرتا تو کافر ہوتا اب پریشانی حد سے زیادہ بڑھ گئی, پریشانی یہ تھی اس کے سالے نے کہا کہ وہ گاڑی خود چلائیں گے ان کے کوئ مہمان تھے جن کو بس سیر سپاٹے کروانے تھے سلیم نے اپنی زوجہ محترمہ سے مشورہ کیا, اس کی زوجہ نے کہا کہ بھائ گاڑی چلا لیتے ہیں اب تو جیسے سالے صاحب کی ڈرائیونگ پہ مہر ثبت ہوگئ اور سلیم نے اندر ہی اندر خود کو سالے سے بھی کم ڈرائیور سمجھ لیا اور گاڑی حوالہ سسرال ہوگئ, سلیم کی حالت گزشتہ سے پیوستہ تھی اور امید گھر میں بیٹھی شجر بہار تھی بس,  آدھی رات کو معلوم ہوا کہ گاڑی کی سپیڈ زیادہ ہونے کی وجہ سے گاڑی درخت میں لگی جس کا کچومر ہوگیا ہے اور زخمیوں کو گھر لے آۓ ہیں اگلے دن سارے رشتے دار سلیم کے سسرال اس کے سالے کی عیادت کو جارہے تھے اور سلیم بے چارہ گاڑی کو ورکشاپ لے جارہا تھا معلوم ہوا کہ مرمت ہونے کا خرچ بہت زیادہ ہے اس لئے سلیم پیسے کمانے لاہور چلا گیا اس کی بیوی گھر ہے اور اس کے سالے کی شادی ہوگئ سب خوشی خوشی رہ رہے مگر سلیم اپنی گاڑی بنوانے کے چار پیسے کما رہا ہے,
یہی کہانی میں نے اپنے دوست کو بھی سنائ جس نے کہا سلیم کا قصور ہے جس نے اپنی گاڑی ایسے لوگوں کو دی جو مخلص تو تھے مگر قابل نہیں, اس نے کہا "  گاڑی ہو یا کوئی عہدہ, وزارت ہو یا وزارت عظمیٰ کسی بھی جگہ مخلص ہونا کافی نہیں ہوتا قابل ہونا لازمی ہے, ملک و ملت کی باگ ڈور بھی ٹریکٹر ٹرالی کے ڈرائیور کو نہ دی جائے ورنہ سلیم کی طرح عوام بھی اپنا قیمتی ووٹ کاسٹ کرکے پریشان رہے گی کہ پاکستان کی گاڑی کو چلانے والے یہ فنکار اہل بھی ہیں یا نہیں, کتنے ہی افسوس کی بات ہے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد رکشہ چلایا جارہا ہے اور رکشہ والا انجنئیرنگ کا عہدہ سنبھالے ہوۓ ہے, جو سائنس و ٹیکنالوجی جانتے ہیں وہ دھکے کھا رہے ہیں اور جو ککھ نہیں جانتے وہ سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر ہیں, ایک جگہ تو گانے والوں کو گورنر لگا دیا ہے اور گورنر کو اداکار. اس نے کہا کہ جب تک ہم ایسے لوگوں کو نہیں لے آتے جو مخلص بھی ہوں اور قابل بھی , آپ اپنی گاڑی کسی بھی نااہل کے حوالے نہ کریں, مخلص ہونا کافی نہیں, ہمارے نوجوانوں کا بھی یہی حال ہے اپنے شعبہ میں جس کے وہ اہل ہیں وہاں اپنی صلاحیتوں سے استفادہ نہیں کرتے بلکہ صرف حصول معاش کو ہی مقصد حیات بنا چکے ہیں, ہر سطح پر پر ہر شعبہ ہاۓ زندگی میں قابلیت کی ضرورت ہے, نوجوان شاہین کی مانند ہے جس کی قابلیت ہے کہ وہ آسمان پر پرواز کرے حالات کی گرد سے دور,
ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رح نے مشاہدہ کیا ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت کو اپنے احوال بدلنے خیال تک نہیں آتا اور وہ تمام عمر سستی و غفلت کی نذر کر دیتے ہیں اس بے کار زندگی سے ابھارنے کیلئے وعظ و نصیحت کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں اس اہلیت کے حامل بہت کم لوگ دیکھے جاتے ہیں,
عصر حاضر ملک الموت ہے تیرا جس نے,
قبض کی روح تری دے کر تجھے فکر معاش
دل لرزتا ہے حریفانہ کشاکش سے ترا,
زندگی موت ہے کھو دیتی ہے جب ذوق خراش
مدرسے نے تری آنکھوں سے چھپایا جن کو,  خلوت کوہ بیاباں میں وہ اسرار ہیں فاش
بات یہاں ختم ہوگئی کہ مخلص ہیں تو قابلیت ضروری ہے ورنہ گاڑی کا کچومر نکل جاۓ گا,
اللہ پاکستان کی گاڑی کے ڈرائیور کو قابل بناۓ,  آمین