وائرس اور وباوں پر ایک فلسفیانہ نگاہ

س ح نقوی

کرونا وائرس کے پھیلتے ہی سوشل میڈیا پر جو مختلف بحثیں شروع ہوئیں ان میں سے اھم ترین بحث دینی اعتقادات کے حوالے سے ہے بالخصوص سعودی عرب اور ایران میں مقدس مقامات کی عارضی بندش کے بعد بہت سے طبقات کی طرف سے دینی اعتقادات اور افکار کو زیر سؤال لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان سوالوں کا جواب دینے سے پہلے اسلام کے کچھ مسلمہ اصول ذہن نشین رہنے چاہییں.

اسلام کے مسلمہ اصول (Sure principles of Islam)

1- اس جھان کا ایک خالق ہے جس نے اسے خلق کیا اور وہی اس جھان کے امور کو احسن طریقہ سے انجام دیتا ہے۔ لہذا ہم مادہ پرستی یا مادی گری (Materialism) پر یقین نہیں رکھتے کہ جس کے مطابق اس عالم میں ہونے والی ہر تبدیلی کو صرف مادی نقطہ نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

2- خدا اس جھان کا واحد اور یکتا خالق ہے اور اس جھان میں جو کچھ بھی ہے سب اسی کا خلق کیا ہوا ہے۔ لہذا ہم ثنویت اور دو خدائی (Dualism) کے نظریے کو بھی رد کرتے ہیں جن کے نزدیک نعمتوں اور اچھی چیزوں کو تو خدا (ان کے بقول یزدان) نے خلق کیا ہے لیکن بیماریاں آفات زلزلہ و سیلاب وغیرہ ایک دوسرے خدا (ان کے بقول اھرمن) کی مخلوق ہیں۔

3- جس طرح سے خدا کی ذات حسن و کمال کا منبع و سرچشمہ ہے اور اس کی ذات میں کسی قسم کا نقص عیب اور زوال نہیں پایا جاتا اسی طرح اس کی ہر صفت اور ہر فعل بھی حسن و کمال کا مصداق اور ہر عیب و نقص سے مبرا ہے۔

4- خدا قادر مطلق ہے ہر چیز اور ہر فعل پر قدرت رکھتا ہے خدا نے جس طرح بعض فرشتوں کو نظام کائنات کی تدبیر اذن الہی کے مطابق چلانے کی قدرت عطا کی ہے اپنے مقرب ترین بندوں (انبیاء اور آئمہ علیھم السلام) کو بھی ایسی قدرت دے رکھی ہے کہ وہ اس جھان میں ہر طرح کی تبدیلی انجام دے سکتے ہیں البتہ خدا اور اس کے نمائندوں کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔

5- خدا نے اس جھان کو اسباب اور مسبباب (علت و معلول) کے نظام  The cause and effect system کے تحت خلق کیا ہے یعنی اس جھان میں پیش آنے والے ہر حادثے اور پیدا ہونے والی ہر تبدیلی کے پیچھے ایک سبب اور علت موجود ہے. یہ نظام ایک وسیع نظام ہے جس میں اسباب مادی اور غیر مادی دونوں شامل ہیں اور اس نظام کا کامل علم عام انسانوں کو حاصل نہیں بلکہ وہ بعض مادی اسباب کا ہی علم رکھتے ہیں۔

6- اس جھان کو خلق کرنے کا ھدف و مقصد مخلوقات کو ان کے کمال تک اور انسان کو اس کے کمال اختیاری تک پہنچانا ہے. یہی وجہ ہے کہ انسان کو اس عالم مادہ میں بھیجا گیا تاکہ اپنے ارادہ و اختیار سے اس دار تزاحم کے نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اپنے کمال اختیاری تک پہنچے۔

علمائے اسلام نے اپنی کتابوں میں ان مسلمہ اصولوں کو قرآن، سنت اور عقل کی روشنی میں بہترین انداز سے ثابت کیا ہے یہاں ان اصولوں کے لیے دلائل کا ذکر اختصار کے منافی ہے۔

ہم چند سوالات کی صورت میں ممکنہ شبھات کو ذکر کریں گے اور ان کا جواب دیں گے۔

پہلا سؤال : کیا خدا ایسا جھان نہیں بنا سکتا تھا جس میں کسی قسم کی آفت بیماری سیلاب طوفان زلزلہ وغیرہ وجود نہ رکھتے ہوں اگر ہاں تو پھر ہمارے جھان مادی میں ایسی آفات کیوں پائی جاتی ہیں؟

جواب : جی ہاں نہ صرف یہ کہ خدا ایک ایسا جہان بنا سکتا ہے جس میں کوئی اس طرح کا نقص و عیب نہ ہو بلکہ خدا نے ایسا جہان بنایا ہے اور وہ ہے مجردات اور فرشتوں کا جہان کہ جس میں اس طرح کا عیب و نقص وجود نہیں رکھتا پس خدا کی قدرت میں کوئی کمی نہیں۔

سؤال کے دوسرے حصے کا جواب یہ ہے کہ فرشتوں کے جہان اور انسانوں کے جہان میں ایک بنیادی فرق ہے جس کی وجہ سے ان کے جہان میں اس طرح کی آفات و بلیات نہیں پائی جاتیں لیکن ہمارے جہان میں وجود رکھتی ہیں۔ وہ فرق یہ ہے کہ خدا نے انسان کو عقل، غضب اور شھوت جیسی نعمتیں عطا فرمائی ہیں جن کی بدولت انسان اپنے اختیار کے ساتھ اتنی ترقی کرسکتا ہے کہ خلافت الہی کے منصب پر فائز ہوجائے اور فرشتوں کا مسجود ٹھہرے.انسان کی اس ترقی کے لیے آفات و بلیات، مصیبتوں اور آزمائشوں کا وجود ضروری ہے ورنہ وہ اس عالی و متعالی مقام تک نہیں پہنچ سکتا جہاں دوسری مخلوقات پہنچنے کا سوچ بھی نہیں سکتیں۔ امام حسین علیہ السلام مدینہ سے نکلتے وقت جب قبر پیامبر اکرم(صلى الله عليه وآله وسلم) پر حاضر ہوتے ہیں تو رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) اپنے نواسے کو یہ فرماتے ہوئے نظر آتے ہیں: إن لك درجة عند الله لن تنالها إلا بالشهادة (حسین خدا کے ہاں تیرے لیے ایک مقام ہے جسے پانے کے لیے شھادت ضروری ہے) لہذا انسان نے صراط مستقیم پر سفر کرتے ہوئے اپنے اختیار کے ساتھ قرب خدا کی منزل تک پہنچنا ہے جس کے لیے یہ مصیبتیں آزمائشیں اور بیماریاں ضروری ہیں جبکہ فرشتے ان آزمائشوں میں مبتلا نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ انسان کے حقیقی مقام تک کبھی نہیں پہنچ سکتے۔ پس یہ آزمائشیں اور مصیبتیں خدا کی نعمت ہیں جن کے ذریعے خدا ہمیں ایسے کمال تک پہنچانا چاہتا ہے جہاں دوسری مخلوقات یہاں تک کہ فرشتے بھی نہیں پہنچ سکتے۔ اس کی سادہ مثال مریض بچے کے لیے انجکشن یا کڑوی دوا ہے۔ بچہ اس انجکشن یا کڑوی دوا کو اپنے لیے عذاب اور ڈاکٹر کو ظالم سمجھتا ہے لیکن در حقیقت یہ چیزیں اس کے کمال اور ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہیں اور ڈاکٹر اس کے ساتھ نیکی اور احسان کے سوا کچھ نہیں کررہا لیکن بچہ یہ سب سمجھنے سے قاصر ہے۔

عالم مادہ کو اگر اس نگاہ سے دیکھا جائے تو واضح ہوگا کہ یہ عالم ناقص نہیں کامل ہے اور اس کا کمال اس کی اسی صورت میں ہے۔

دوسرا سؤال : آپ کہتے ہیں کہ خدا اس کی صفات اور اس کے افعال سب کمال اور حسن کا مصداق ہیں تو پھر ان آفات و بلیات کا خالق موجد اور فاعل کون ہے ؟

جواب : اسلامی فلسفہ دانوں نے اس کے دو طرح کے جواب دیے ہیں:

اکثر فلسفہ دانوں کے مطابق یہ آفات و بلیات جو شرور کا مصداق ہیں امور عدمی ہیں اور وجود نہیں رکھتی پس انہیں کسی خالق اور موجد کی ضرورت نہیں کیونکہ خالق کی ضرورت اس شیء کو ہوتی ہے جو خود موجود ہو. یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ آفات وجود نہیں رکھتیں تو جو کچھ ہمیں نظر آرہا ہے یہ کیا ہے؟ فلاسفہ اس کا جواب یوں دیتے ہیں کہ ہم عدم خیر کو شر کا نام دیتے ہیں یعنی ہم عدم صحت کو بیماری کا نام دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں صحت وجود رکھتی ہے اور جب وہ صحت معدوم ہوجائے تو ہم اس حالت کو بیماری کا نام دیتے ہیں۔

علم کلام کے اکثر علماء اور بعض اسلامی فلاسفہ اس چیز کے قائل ہیں کہ یہ آفات و بلیات اگرچے وجود رکھتی ہیں لیکن یہ خدا کا بالذات اور اصلی مقصود نہیں ہیں بلکہ خدا کا مقصود اصلی انسان کا کمال ہے اور مقصود بالتبع یا بالعرض آفات و بلیات کا وجود ہے بالکل اسی طرح جیسے ڈاکٹر کا اصلی مقصود مریض کی صحت ہے لیکن ثانوی مقصود مریض کو انجکشن لگانا یا آپریشن کی صورت میں اس کے جسم کا کاٹنا ہے. پس اس نظریے کے مطابق خدا کا ہر فعل حسن اور خیر ہے لیکن وہ اس حسن اور خیر تک پہنچنے کے لیے آفات و بلیات کو خلق کرتا ہے لیکن چونکہ آفات و بلیات کی خلقت سے بھی مدنظر کمال ہے لہذا یہ بھی فعل حسن ہے۔

یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ظاہرا ان دونوں آراء کے قائل مفکرین اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ شر ایک امر نسبی ہے یعنی ہر وہ حادثہ یا واقعہ جو ایک جہت سے شر ہے وہ کسی دوسری جہت سے یا چند دوسری جہات سے خیر ہے پس اس عالم مادہ (Material world) میں کوئی ایسی چیز نہیں پائی جاتی جو ہر جہت سے یا اکثر جہات سے شر ہو بلکہ یا تو اکثر جہات سے خیر ہے یا ایک جہت سے شر اور دوسری جہت سے خیر۔

ایک اور بات جس کی طرف توجہ نہایت ضروری ہے وہ یہ کہ تزاحم اور ٹکراؤ کی کیفیت یا حوادث کا وقوع عالم مادہ کا ذاتی لازمہ ہے۔ لہذا اگر کوئی یہ چاہے کہ عالم مادہ ہو لیکن حادثات نہ ہوں تو اسکی مثال اس شخص کی ہے جو چاہ رہا ہے دو کا عدد ہو لیکن جفت نہ ہو یا آگ ہو اور حرارت نہ ہو۔ دوسرے الفاظ میں ہمارے پاس تین ممکنہ صورتیں ہیں خدا عالم مادہ کو خلق ہی نہ کرے ، خلق کرے لیکن ان تزاحمات اور حادثات کے بغیر خلق کرے ، خلق کرے اور اسی موجودہ صورت میں خلق کرے پہلی صورت میں خدا کے فیاض ہونے کے منافی ہے اور اس کا لازمہ خدا کے بخل کا اثبات ہے ، دوسری صورت عقلی طور پر محال ہے کیونکہ لازم ذاتی کی ملزوم سے جدائی ہے لہذا تیسری صورت ہی ممکن اور وقوع پذیر ہے۔اسے مثال سے سمجھنا ہو تو ہم ایک ایسے شخص کو فرض کرسکتے ہیں جو علم کا نور پھیلانے اور جھالت کے خاتمے کے لیے سکول بنانا چاہتا ہے لیکن اگر وہ سکول بنائے گا تو بہت سی جزئی مشکلات بھی پیش آئیں گی مثلا طالب علموں یا اساتذہ کا آپس میں حسد ، گھر سے سکول جانے کی مشقت ، والدین کے لیے فیس دینے کی مشقت ، بعض طالب علموں کے درمیان لڑائی جھگڑے کا امکان وغیرہ۔ لیکن وہ ان جزئی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے اس اہم اور مقدس ھدف سے دست بردار نہیں ہوسکتا۔

تیسرا سؤال : آفات و بلیات اور قدرتی حوادث کے پیچھے کیا علل و اسباب کارفرما ہیں؟

جواب : آفات و بلیات کا ایک کلی فلسفہ انسان کے لیے تزاحم کی کیفیت ایجاد کرنا ہے تاکہ اس کا امتحان لیا جاسکے اور وہ اس امتحان میں سرخرو ہوکر خدا کے قرب کی منزل تک پہنچ سکے. خداوند متعال قرآن میں فرماتا ہے

وَلَنَبۡلُوَنَّكُم بِشَيۡءٖ مِّنَ ٱلۡخَوۡفِ وَٱلۡجُوعِ وَنَقۡصٖ مِّنَ ٱلۡأَمۡوَٰلِ وَٱلۡأَنفُسِ وَٱلثَّمَرَٰتِۗ وَبَشِّرِ ٱلصَّـٰبِرِينَ 155{ ٱلَّذِينَ إِذَآ أَصَٰبَتۡهُم مُّصِيبَة{ قَالُوٓاْ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيۡهِ رَٰجِعُونَ {156 أُوْلَـٰٓئِكَ عَلَيۡهِمۡ صَلَوَٰتٞ مِّن رَّبِّهِمۡ وَرَحۡمَةٞۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُهۡتَدُونَ

(اور ہم ضرور تمہیں کچھ خوف، بھوک، اموال جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو کہ جب انہیں مصیبت کا سامنا ہوتا ہے تو کہتے ہیں بیشک ہم خدا کے ہیں اور ہم نے خدا کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا کی طرف سے صلوات اور رحمت ہے اور یہی ھدایت یافتہ ہیں)(بقرہ ۱۵۵ تا ۱۵۷)

اس کے علاوہ کچھ اور حکمتیں بھی ان آفات و حوادث میں پوشیدہ ہوسکتی ہیں مثلا خدا اور موت کی یاد میں اضافہ ہونا، خدا کی قدرت اور انسان کی کمزوری پر یقین میں اضافہ، دنیا کی بے ثباتی اور دار آخرت کی طرف توجہ، انسانیت کی خدمت اور ایثار و قربانی کے مواقع فراہم ہونا، انسانی عقل اور مختلف علوم کی ترقی کا زمینہ فراہم ہونا وغیرہ۔

یہ بات بھی ذھن نشین رہے کہ تمام آفتیں اور مصیبتیں خدا کی آزمائش کا مصداق نہیں بلکہ بہت سے موارد میں آفتوں اور بلاؤں کا سبب خود انسان کے غلط افعال اور تصرفات ہوتے ہیں مثلا اگر ایک شخص ڈرائیونگ میں احتیاط نہیں برتے گا تو ایک جان لیوا حادثے کا سبب بنے گا اگر ہم گرمی یا سردی کی شدت کے مطابق لباس زیب تن نہیں کریں گے تو بیماری میں مبتلا ہوجائیں گے اگر حکومت مناسب انتظامات نہیں کرے گی تو سیلاب وجود میں آئے گا وغیرہ۔