کعبہ انٹرنیشنل شفا خانہ

 

تحریر : ابو ولی اللہ خان

سنا ہے کسی سزاۓ موت کے قیدی کو سزا دی جانی تھی اور اسے بتایا گیا کہ اسے ایک زہریلے سانپ سے موت دی جائے گی, اور یہی بات اس قیدی کو روزانہ تین بار کہی جاتی, تین دن بعد اس کے خانہ جیل میں اس کے سامنے انتظامات کیۓ گۓ اور ایک دوسرے سے کہا گیا کہ سانپ کو وہاں چھوڑنا ہے ,کیسے پکڑنا ہے, کیسے وہ ڈسے گا, کیسے لے آیا جاۓ گا, کتنا خطرناک ہے, اس سے سپاہیوں کو کیا ہوسکتا ہے, احتیاط کیسے ممکن ہے, یہ ساری باتیں اس قیدی کے سامنے کی گئ, پھر اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی اس کے بازو باندھ دیۓ گے اور اسے ایک جگہ پر لٹا دیا گیا اس کے بعد اونچی آواز میں کہا گیا سانپ لے آؤ, سانپ کی آواز نکالی گئی پورا ماحول بنانے کے بعد انہوں نے اس قیدی کے پاؤں پر چھوٹی سی سوئ سے ایک بار کاٹا جس کے بعد اس قیدی کا جسم کانپنے لگا اس کے منہ سے زہر نکلنے لگا دیکھتے ہی دیکھتے وہ مر گیا, ڈاکٹرز نے دیکھا کہ اس قیدی کے جسم میں واقعی زہر تھا حالانکہ سانپ نے نہیں کاٹا تھا, صرف اسے بار بار بتایا جاتا رہا کہ اسے سانپ سے مارا جاۓ گا, ایک سانپ اسے ڈسے گا یہ بات اس کے ذہن میں بیٹھ چکی تھی جس نے ایک سوئ چبھنے پر جان دے دی اوراس کے دل و دماغ یعنی پورے جسم نے قبول کر لیا کہ زہریلے سانپ نے کاٹنا ہے اور موت پکی ہے, پیارے دوستو  ! احتیاط لازم ہے مگر بار بار یہ بات اپنے ذہن میں نہ لے آئیں کہ کورونا سے ڈسا جاۓ اور موت ہوگی, سر میں درد, کھانسی, نزلہ زکام, گلے میں درد اور چودہ دن بعد آپ مرجائیں گے, اتنے دنوں میں کورونا نے اپنا کام مکمل کر لینا ہے اور آپ بستر پر, مگر موت کے مواقع 4 فیصد سے 3 فیصد ہیں,

ملک یا ریاست ایک جسم کی مانند ہوتے ہیں اور ان کو مضبوط معیشت ترقی یافتہ یا ترقی پزیر بنایا کرتی ہے, ممالک کا قانون بھی اہمیت کا حامل ہے, ممالک میں تعلیم کی شرح بھی اہم کردار ادا کرتی ہے, ممالک کے عوام کا مذہب سے لگاؤ بھی شامل ہے اس میں, کوئ بھی ملک جب وجود میں آتا ہے تو اس کے پیچھے نظریہ ہوتا ہے کوئ وجہ ہوتی ہے اس وجہ پہ بہت سارے لوگ اکٹھے ہو کر ملک یا ریاست حاصل کرتے ہیں اور اسے حاصل کرنے کے بعد اپنے اسی نظریہ کو فروغ دیتے ہیں, میرا ایک دعوی ہے کہ انسان عقیدے کے بغیر کھوکھلا ہے عقیدے کے بغیر کچھ نہیں,یہاں تک کہ انسان عقیدے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا, سیکولر بھی اندر سے کسی نہ کسی کو تو خدا مانتے ہیں اور خدا وہ ہے جسے ماننا پڑتا ہے انسان بھاگ دوڑ کر تھک ہار کر بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے خدا ہے کوئ ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے, میں بات کورونا کی کرنا چاہتا ہوں جو دن 24 بار ہمارے چھوٹے بڑے, مرد و زن کے کانوں میں ڈالی جاتی ہے کہ کورونا کا کوئ علاج نہیں, اس سے بچنے کا واحد راستہ پورے معاشرے کو الگ تھلگ کر دینا ہے, ایک صوبے کے عوام دوسرے صوبے کو بیمار سمجھ کر دور ہوجائیں, اسی طرح ممالک بھی,

میں نے اس پر نہیں لکھنا تھا کیونکہ پوری دنیا تو ڈاکٹرز بن گئی ہے لیکن جب ہر سو لگی آگ دیکھی تو میں نے اس پرندے جیسا کام کرنے کی سعی کی جو اس آگ سے بہت دور جاکر اپنی چونچ میں پانی لے جاکر پھینک آتا تھا اور اپنا فرض ادا کرتا تھا جس میں جناب ابراہیم علیہ السلام تھے, یہاں میرا سوال یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے احتیاط کیوں نہ کی, آگ میں جھلسنے کےلیۓ کیوں تیار ہوگۓ, احتیاط لازم تھی نا  ! جی آپ جانتے ہیں کہ احتیاط شریعت میں لازم ہے مگر عشق میں احتیاط نہیں ہوتی, کعبے کے عشاق کو کیا ہوگیا, خدا کی قسم مجھے مجبوراً لکھنا پڑا کہ یہ غلط ہے کعبہ ہی تو انٹرنیشنل شفا خانہ ہے پوری دنیا کی سب مخلوقات کے لئے سکون کی جگہ,ہر بیمار و لاچار کےلیۓ شفا کا محور و مرکز بند کردیا گیا اور مسلم امہ یورپ کی من و عن پیروی میں مصروف عمل ہے, یقین کریں اگر آپ کا عقیدہ ہے اور مضبوط بھی ہے تو یقین کریں کہ زم زم سے بہت سے موذی امراض میں مبتلا مریضوں کو شفایاب ہوتے دیکھا ہے, میں نے ڈاکٹرز کو تقدیر الہی سے ہارتے دیکھا ہے, وہ شامی بچہ جو رو رو کر کہتا تھا کہ وہ اوپر جاکر اللہ سے شکایت کرے گا کیا آپ وہ بھول گئے, آپ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کو بھی بھول گئے , روہنگیا و برما کے مسلمانوں پر ہونے والی ظلم کی انتہا بھلا دی گئی, آج بھی شام میں مظالم ڈھائے جارہے ہیں, مان لیا احتیاط لازم ہے مگر مساجد میں اجتماعی عبادات پر پابندی کے فتوے جاری کرنا بھی ظلم ہو شاید, آپ تو سب کے سب عوام کو بار بار ذہن نشین کروا رہے ہیں کہ کورونا ہے بس اور پورے ملک کو مفلوج کر کے رکھ دیا, آج عقیدہ کمزور اور ٹیکنالوجی مضبوط دیکھی ہے,

یاد رہے جو پانچ وقت نماز کے پابند ہیں وہ صاف ستھرے ہوتے ہیں صفائ نصف ایمان ہے پر عمل پیرا ہوتے ہیں, بہت سے دوسرے ملکوں سے آنے والوں کو ملک کے کسی ایک کونے میں آئسولیٹ کرکے اس جگہ کو لاک کیوں نہیں کیا گیا پورے ملک میں انتشار پیدا کرنا اور عوام کی ذہنی حالت کو مفلوج کر دینا بھی تو عقلمندی نہیں, مدارس و مساجد کا لاک ڈاؤن اور خلاف ورزی پر گرفتاریاں,

معاشی طور پر ملک کا نقصان جانی نقصان سے بھی بڑا مسئلہ بن چکا ہے, کہا جاتا ہے کہ کسی قوم کے جسموں کو مفلوج کرنا ہو تو ان کے ذہنوں کو کمزور کیا جائے بار بار ان کے اندر مایوسی پیدا کی جائے تو وہ خود بخود ہتھیار ڈال دیں گے, ہمارے ملک کا درجہ حرارت ایسا ہے کہ پریشانی کی ضرورت ہی نہیں مگر سوشل میڈیا پر سنسنی خیز مواد پھیلا کر ڈرایا جارہا ہے, عوام پہلے سے سستی و کاہلی کا شکار تھی جن کے پاس کام کے مواقع ہی نہیں انہیں مزید بیمار کیا جارہا ہے, ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کی مساجد میں اس طرح کی صورتحال پیدا نہیں ہونے دیں گے اگر کورونا اٹیک ہوا تو, اللہ پر یقین, تقوی کیا ہے ؟ یہی احتیاط ہے آپ تقوی اختیار کریں, صفائ ستھرائ کا خیال رکھیں اور پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوں تو یہ دائرہ محفوظ دائرہ ہے, آپ کو یاد ہوگا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کہڑ کے مریضوں کو ٹھیک کیا کرتے تھے وہ کونسی طاقت تھی, یقیناً  اللہ کی مدد, جب ہر سو بندہ تھک ہار کر بیٹھ جاتا ہے تو اسے اللہ کی راہ ملتی ہے وہی ذات گلے سے لگا کر ساری مشکلات حل کردیتی ہے , آج بھی اجوا کھجور اور آب زم زم میں ہر بیماری کا علاج ہے, آپ کلونجی اور شہد سے علاج کیوں نہیں کرتے کیونکہ ہمارا عقیدہ کمزور اور انگریزی میڈیسن جیت چکی ہے, انگریزی میڈیسن کے خلاف نہیں ہوں میں, مگر میرا تجربہ ہے کہ جس کو انگریزی ادویات لگتی ہیں قبروں میں چھوڑ آتی ہیں, آپ اٹھیں ہمت باندھ کر روزہ رکھیں, نماز کی پابندی کریں, قرآن کی تلاوت کریں, مساجد آباد کریں, توبہ استغفار کریں, اللہ کے ذکر میں ہی سکون ہے, روزہ ایسی عبادت ہے جس سے کینسر کے مریض بھی شفایاب ہوسکتے ہیں, احتیاط لازم ہے حکومت کی طرف سے کیۓ گۓ اقدامات کی پیروی بھی شرط ہے , مگر لا تقنطو من الرحمۃ اللہ بھی نہ بھولیں.

یہ نہ بھولیں کہ کعبہ انٹرنیشنل شفا خانہ ہے, یہاں ہر بیماری کا علاج ہے, یہ میرا عقیدہ ہے,  تقدیر الٰہی کی پہچان کی ضرورت ہے, کعبہ ایسا شفاخانہ ہے جہاں پر ہر جسمانی و روحانی امراض کا علاج ہوتا ہے,

بے حد افسوس کی بات ہے کہ مسلم امہ یورپ کی تقلید میں مگن ہو کر کعبہ کے طواف پہ پابندی عائد کر چکی ہے, سکریینگ کی جاتی اور وائرس ذدہ لوگوں پر پابندی عائد کر دی جاتی. ہمارے معاشرے میں تو ہر بندہ ڈاکٹر اور حکیم بن چکا ہے کوئ کیلے سے تو کوئ تربوزوں سے کورونا کا علاج کررہا ہے,

یقین کریں استغفار کی ضرورت ہے اور ہمارے لیۓ شرمندگی کا مقام بھی, عقیدہ کبھی نہیں ہارے گا, عقیدہ یہ بھی نہیں کہ خود کو جان بوجھ کر بیماری کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے بلکہ مایوسی نہ پھیلائی جاۓ, کعبہ سے وابستہ امیدیں دم نہ توڑنے پائیں,جو احتیاط کعبے کا طواف روکے اس سے بہتر موت ہے اور مومن کی جو موت ہے اصل میں حیات ہے,

امید ہے آپ اپنے یقین کو مزید مستحکم بناتے ہوئے ایک دوسرے سے محبت اور تعاون نہیں چھوڑیں گے, تمام ممالک کو ایک دوسرے سے تعاون میں فروغ دینا چاہیۓ, 

یہ کسی اور کالم میں بتایا جاۓ گا کہ چائنہ نے یہ وائرس ایجاد کیا اور بہترین تجربہ کرکے میدان مار لیا یا نہیں  ؟

خود کو اور خود سے جڑے لوگوں کو صاف ستھرا رکھیں اور ماحول کو خراب ہونے سے بچائیں کہ صفائی نصف ایمان ہے,

آؤ انٹرنیشنل شفاخانہ کی جانب چلیں جہاں سکون ملتا ہے اور وہ ہے کعبہ انٹرنیشنل شفا خانہ.

اگر صورتحال یہی رہی کہ سوشل میڈیا پر ذہنی انتشار پھیلایا جاتا رہا تو ہمارا حال اسی قیدی جیسا ہوگا جسے سوئ لگی اور معلوم ہوا کہ پورے جسم میں سانپ کی طرح کا زہر پھیل چکا تھا  ,ہمارے معاشرے میں اسے ویسے ہی پھیلایا جا رہا ہے, آپ جانتے ہیں کہ دماغ کو بار بار جو چیز بتائ جاۓ اور کمزور کیا جائے تو جسم میں بھی Immunity Power کم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے وہی کچھ ہونے لگتا ہے جس پر زیادہ دباؤ دیا گیا ہو  ,

اٹلی میں مردے نظر آتے ہیں آپکو اور روہنگیا میں نہیں, وہ شامی بچے, وہ کشمیری مسلمان, کعبہ جانے کی اجازت دی جائے, مساجد آباد کی جائیں.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک قاری کے کمنٹس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے دوست! میرے محترم کالم نگار!

جب دلوں میں نفاق اور زبانوں پر جھوٹ ہوگا،  جب مسلمان ہی مسلمانوں کے عقائد و نظریات کے ساتھ کھلواڑ کریں گے ،جب اسی سر زمین پر مسلمانوں کو ان کےنبیﷺ کے مزار کی جالی بھی نہیں چومنے دی جائے گی لیکن وہیں پر مسلمانوں کے قاتل ٹرمپ کے گال چومے جائیں گے، جب طواف تو کعبے کا کیا جائے گا اور بھنگڑے ٹرمپ کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر ڈالے جائیں گے تو پھر اس کعبے کا مالک ناراض اورغضبناک نہیں ہوگا تو اور کیا ہوگا!

 


افکار و نظریات: کعبہ انٹرنیشنل شفا خانہ