ایران نے زائرین کو کیوں نہیں روکا!؟

محترم  جناب مزمل سہروردی صاحب آپ کا ایک کالم بعنوان کورونا، ایران اور سعودی عرب کے اقدامات ہماری نظروں سے بھی گزرا ہے،  ہماری دعا ہے کہ  اللہ آپ کے قلم کو مزید روانی اور حقائق کو کھولنے کی توفیق عطا فرمائے۔ البتہ یہ دعا اس شرط کے ساتھ ہے کہ آپ خود بھی حقیقت کو جاننے اور اسے آگے پہنچانے کی نیت رکھتے ہوں۔ کچھ باتیں بطور کالم نگار میں آپ سے جاننا  چاہتا ہوں۔

مجھے نہیں معلوم  کہ آپ لوگ معلومات کہاں سے لیتے ہیں۔آپ نے یہ جو  مختلف ممالک کا موازنہ کیا۔ اور یہ جو فرمایا ہے کہچین نے طالب علموں کو  پاکستان نہیں آنے دیا کیونکہ وہاں پر ان کی رہائش اور ہوسٹلز ہیں۔باقی تاجر آتے جاتے رہے ہیں اور ہمارا حکومتی وفد بھی ہو کر آیا ہے۔ البتہ ایران کے حوالے سے اگر آپ بالکل بھی نہیں جانتے تو جان لیجئے کہ  ایران میں الحمدللہ  پاکستانی کمیونٹی کے بہت زیادہ لوگ اب بھی موجود ہیں، یہاں  پرڈاکٹرز اور علماء ایسے کام کر رہے ہیں جیسے محاذ جنگ پر۔یہاں پر ہزار وں کی تعداد میں تو    دوسرے ممالک کے  صرف طالب علم رہتے ہیں  اور الحمدللہ ان میں سے کوئی بھی مریض نہیں اور نہ ہی ایرانی حکومت نے انہیں نکالا ہے۔

باقی زائرین کے بارے میں آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان  کا ویزہ صرف ایک ماہ کا ہوتا ہے اور زائر ایران میں زندگی گزارنے کیلئے نہیں  آتا بلکہ زیارت کرنے کے بعد اسے واپس جانے کی جلدی ہوتی ہے۔یہ ہمارا قومی و نفسیاتی مسئلہ ہے کہ ہم  سارا ملبہ دوسروں پر ڈال دیتے ہیں اور اپنی اصلاح نہیں کرتے، میری آپ سے گزارش ہے کہ   آپ کے بقول لاکھوں لوگ زیارات کے لئے ایران جاتے  آتے ہیں لیکن  آپ یہ بھی تو معلوم کریں کہ  ہماری حکومتوں نے ان زائرین کو  راستے میں اور خصوصاًتفتان بارڈر پر کیا سہولیات دی  رکھی ہیں۔ کبھی  آپ بھی توبائی روڈ کوئٹہ سے تفتان کا سفر کریں۔ لگ پتہ جائے گا کہ نہ کوئی ہوٹل ہے اور نہ  ہی راستے میں کوئی  سٹاپ۔ ہوٹل اور اسٹاپ  کے نام پر گندگی اور غلاظت کے  کمرہ نما خسدانوں میں انسانوں کو رکھا جاتاہے، اسی طرح  تفتان بارڈر پر ابتدائی علاج کیلئے بھی ہسپتال نہیں۔۔

آخر کیوں کیا تفتان کا سفر کرنے والے انسان نہیں ہیں!؟۔۔ آپ نے ایران کی بات کی ہے تو ایران کا اپنے عوام کے ساتھ حسنِ سلوک بھی تو دیکھیں،  ایران پر چالیس سال کی پابندیوں کے باوجود جب آپ تفتان سے ایران میں داخل ہوتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے آپ قالین پر چلنا شروع ہو گئے ہیں۔

آپ کو ان پڑھ لوگوں کی طرح  ایران  پر  یہ الزام نہیں لگانا چاہیےکہ ایران نے زائرین کو اپنے ملک میں کیوں نہیں روکا!؟ آپ تو یہ جانتے ہیں کہ کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک کے شہریوں کو غیر قانونی طور پر  نہیں روک سکتا۔   اگر انہیں روکنا ضروری تھا تو پھر ایران میں پاکستانی سفارتخانے کو یہ اعلان کرنا چاہیے تھا کہ جن لوگوں کے ویزے ختم ہو رہے ہیں، وہ گھبرائیں نہیں اور وہ واپسی کی جلدی نہ کریں، اپنی صحت و سلامتی کی حفاظت کیلئے ہمارے قائم کردہ فلاں فلاں مرکز میں جمع ہو جائیں، ہم آپ کے ویزوں کی تمدید بھی کریں گے اور آپ کا علاج بھی۔

اگر  حکومت پاکستان اور سفارت پاکستان نے زائرین کیلئے یہ اعلان کیا ہو اور اس کے باوجود ایران نے انہیں زبردستی نکال دیا ہو تو پھر صرف آپ ہی نہیں بلکہ ہم سب بطور پاکستانی سراپا احتجاج بن جائیں گے لیکن اگر لوگوں کے پاسپورٹ اور ویزے ختم ہو رہے تھے، جو ملازم تھے، ان کی  چھٹیاں ختم ہو رہی تھیں، جو سفید پوش تھے ان کے روزمرہ کے اخراجات کے مسائل تھے تو پھر پاکستانی حکومت کے اعلان کے بغیر غیر قانونی طور پر ایران  زبردستی  ان لوگوں کو  کیسے روکتا!؟

اور بفرض محال اگر ایران زبردستی روک بھی لیتا تو پھر ہم کہتے کہ دیکھیں جی یہ ایران کی ملاں اور ڈکٹیٹر حکومت نے پاکستانیوں کو زبردستی روک کر ہماری قومی توہین کی ہے، بلکہ  وہاں زبردستی زائرین کو روک کر سب کو کورونا لگایا ہے ، یہ  زبردستی روکنا ایران کی ہمارے خلاف ایک زبردست چال تھی۔۔۔ وغیرہ وغیرہ

جب ایران سے زائرین تفتان پہنچے تو پھر وہاں تو ایران کا عمل دخل نہیں تھا، آپ ایک کالم نگار ہیں، آپ ہی بتائیے کہ حکومت نے وہاں  قرنطینہ کے نام پر کتنا بڑا فراڈ کیا اور کس طرح صحت مند لوگوں کو وہاں بیمار کیا۔

 انصاف کے بغیر لکھنا اور قلمی عدالت کے تقاضوں کو پورا نہ کرنا یہ قلم کی توہین اور کاغذ کی اہانت ہے۔

یاد رکھئے !موت برحق جو ہر کسی کو آنی ہے۔لیکن بروز محشر خدا کی بارگاہ میں جہاں حکمرانوں سے سوال ہو گا وہاں اہل قلم سے بھی پوچھا جائے۔کہ بغیر تحقیق کیوں قلم چلایا۔۔

آخری بات کہ خدا وندعالم سب کو اس وبا سے محفوظ فرمائے اور ہمیں اس مسئلے کا مقابلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے نہ کہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کی۔۔

ایک آزاد انسان ہو کر سوچیں کہ ہماری زمہ داری کیا بنتی ہے۔وہ دن دور نہیں کہ جب حقیقت سامنے آ جائیگی۔۔اور ہمارے حقیقی چہرے بھی

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا اَنۡ تُصِیۡبُوۡا قَوۡمًۢا بِجَہَالَۃٍ فَتُصۡبِحُوۡا عَلٰی مَا فَعَلۡتُمۡ نٰدِمِیۡنَ﴿۶﴾

اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تم تحقیق کر لیا کرو، کہیں نادانی میں تم کسی قوم کو نقصان پہنچا دو پھر تمہیں اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے۔

(سورہ حجرات)