الباکستانیوں کے لطیفے

تحریر: محمد حسن جمالی

پاکستانی میڈیا میں ایران فوبیا ایک عام سی بات ہے، آج ہم اس کی وجوہات بیان نہیں کریں گے بلکہ ایک سادہ سی مثال آپ کے سامنے رکھیں گے۔ 19 مارچ 2020 کو نیوز ایکسپرس نے کورونا،ایران اور سعودی عرب کے اقدامات کے عنوان سے ایک کالم شائع کیا ـ اس مضمون میں کالم نگار مزمل سہروردی نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ایران اور سعودی عرب کے اقدامات کا بظاہر جائزہ لینے کی کوشش کی ، لیکن اس تجزیے کے بہانے میں انہوں نےایران کو  ایک ایسا  کمزور  ملک ثابت کرنے کی کوشش کی جو مشکلات کے مواقع پر پانی سر سے گزرنے کے بعد ہی ہوش کے ناخن لیتا ہے ،وہ ناگہانی مصائب اور مسائل سے بروقت نمٹنے کی کوئی حکمت عملی نہیں رکھتا ـ اس کے مقابلے میں راقم نے سعودی عرب کو دور اندیش اور بحرانی مسائل سے بروقت حکمت عملی کے ساتھ مقابلہ کرنے والا ملک ظاہر کرنے پر اپنی توانائیاں صرف کی ہی۔

اس نے لکھا ہےابھی تک یہی کہا جارہا ہے کہ پاکستان میں کورونا ایران سے آنے والے زائرین کی وجہ سے آیا ہے۔کئی زائرین میں کورونا کےٹیسٹ مثبت آرہے ہیں ملک میں ایک طرف یہ بحث جاری ہے کہ حکومت نے ایران سے بارڈر بند کرنے کے فیصلے میں تاخیر کیوں کی۔ ادھر غور کیا جائے تو یہ بھی کہا جاسکتا ہے،کیا یہ ایرانی حکام کی غفلت نہیں ہے۔ایران میں کورونا کا پھیلاؤ زیادہ ہے ، ایرانی حکام کا فرض تھا کہ وہ اپنی سرحد کے اندر ان زائرین کو قرنطینہ میں رکھتے اور جو زائرین کلیر ہوجاتے ، انھیں پاکستانی حکام کے حوالے کرتے اور پھر پاکستانی حکام انھیں قرنطینہ میں رکھتے ۔لیکن یہاں بھی لاپروائی ہوئی اور وہاں بھی ایسا ہی ہوا ہے ۔ اس ضمن میں اگر سعودی عرب کی صورتحال دیکھیں تو وہ بہتر نظر آتی ہے۔پاکستان سے ایران کی نسبت سعودی عرب عمرہ کے لیے جانے والے زائرین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ لیکن سعودی عرب کے اقدامات کو دیکھا جائے تو وہ بہتر نظر آرہے ہیں۔اس دلیل میں بہت وزن ہے کہ ہم نے کیوں بر وقت ایران سے بارڈر بند نہیں کیا۔ اگر ہم چین کے شہر ووہان میں پھنسے بچوں کو واپس اس  لیے نہیں لائے کہ ان کے واپس آنے سے ملک میں کورونا پھیلنے کا خطرہ ہے تو ایران سے زائرین کی واپسی کو کیوں بند نہیں کیا گیا۔ پھر جو زائرین واپس آئے بھی ہیں، ان کو ملک بھر میں پھیلنے کی اجازت کیوں دی گئی)۔

 مزمل سہروردی سے گزارش ہے کہ خدا را کسی بھی موضوع پر قلم اٹھانے سے پہلے آپ اس کے متعلق درست معلومات حاصل کریں ـ آپ کب تک جھوٹی باتوں ،پرویپیگنڈوں اور الزامی تراشیوں کا سہارا لیکر تجزیہ نگاروں کی صف میں شامل ہونے کی کوشش کرتے رہیں گے؟

 جناب پاکستان کی فضا میں اگر یہ خبر عام ہوئی ہے کہ ایران کی وجہ سے پاکستان میں کرونا وائرس پھیلا ہے تو اس کے قصور وار کوئی آپ جیسے الباکستانی اور الجرنلسٹ ہی ہیں،  ایران فوبیا کی بھی کوئی حد  ہوتی ہے جناب ۔ البتہ ہم  سمجھتے ہیں کہ پاکستانی میڈیا کے اکثر پرسنز کو ایران فوبیا پھیلانے کا ہی بجٹ ملتا ہے سو ایسا کرنا ان کی مجبوری ہے ۔

میں الباکستانیوں اور الجرنلسٹ حضرات سے ایک سوال کرتا ہوں کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاو کا زیادہ خطرہ  اس ملک سےہے جس کا بارڈر بقول آپ کے دیر سے  مگر سیل تو کردیا گیا ہے یا ان ممالک سے ذیادہ خطرہ ہے جن کے ہوائی اور زمینی راستے باقاعدہ کھلے ہوئےہیں ۔ اس بیماری سے ایران سے زیادہ تو چین متاثر ہوا اور اموات کی تعداد بھی ایران کی نسبت چین اور اٹلی میں زیادہ ہے، لیکن اس کے باوجود وہاں سے مسافر وں کی رفت وبرگشت کا سلسلہ معمول کے مطابق جاری ہے ۔ کیا ایران سے زائرین پاکستان پہنچنے سے پہلے چین سے ہزاروں پاکستانی اپنے وطن  نہیں پہنچے ؟انہیں چینی حکام نے  قرنطینہ میں رکھا اور نہ پاکستانی حکام  نے ۔ کیا یہ احتمال نہیں کہ پاکستان میں   عرب امارات سمیت اٹلی چین    یورپ اور دیگر ملکوں سے آئے ہوئے مسافرین کے سبب کرونا  پھیل گیا ہے ؟ آپ کس بنیاد پر    پورے جہاں کے مسافروں میں سے فقط ایران سے آئے ہوئے چند زائرین کو ہی پاکستان میں وائرس کے پھیلاو کا سبب قرار درہے ہیں ؟  کیا اسے بغض ایران کے علاوہ کوئی اور نام دیاجا سکتا ہے!؟

سہروردی جیسوں کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ ایران سے آنے والے زائرین،  حکومتی انتظامیہ کی زیر نگرانی  قرنطینہ میں ٹیسٹ کے تمام مراحل طے کرتے ہیں ،ان میں کورونا وایرس نہ ہونے کی ڈاکٹروں کی تصدیق  کے بعد ہی  وہ اپنے گھروں کو جارہے ہیں ، اگر چہ بلوچستان حکومت زائرین کو قرنطینہ میں بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی ، وہاں ان کی حالات ناگفتہ بہ ہے، نہ انہیں کھانے پینے کا کوئی اچھا نظام  میسر ہے اور نہ اچھی رہائش کا بندوبست ۔ بہت سارے مختلف امراض کا شکار ہیں مگر انہیں دوا علاج ومعالجے کا کوئی انتظام نہیں ۔ ان تمام درپیش مسائل اور مشکلات کے باوجود وہ قرنطینہ میں رہ کر طبی  احتیاطی تدابیر  اور ڈاکٹروں کی تمام ہدایات پر عمل کرکے   مکمل صحت مندی کی سند لے کر ہی اپنے گاؤں اور گھروں کو  جارہے ہیں مگر  موصوف  نےبڑی سادگی سے یہ غیر ذمہ دارانہ جملے لکھ ڈالے (جو زائرین واپس آئے بھی ہیں، ان کو ملک بھر میں پھیلنے کی اجازت کیوں دی گئی ! ) اس حوالے سے ہم مزمل سہروردی سے اتنا عرض کریں گے کہ آپ اپنی تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ حتی ایک زائر بھی قرنطینہ میں رہے بغیر کہیں نہیں گیا ہے  ۔

  موصوف نے سعودی عرب کی بڑی تمجید کی ہے کہ اس نے بروقت پاکستان سے عمرہ کے لئے جانے والے  زائرین کو روکا، ان پر سفر کی پابندی لگادی ؟  سہروردی  صاحب یہ سعودی کا کوئی ہنر نہیں وائرس کے پھیلاؤ کی خبر   منتشر ہونے کے بعد تو بہت سارے ممالک نے آنے والے مسافروں پر پابندی لگا دی ہے جن میں سرفہرست ایران کا نام آتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اس  بیماری کا شور اٹھنے سے پہلے  جو سعودی  عرب  گئے ہوئے تھے    ان کے بارے میں سعودی عرب نے کیا اقدامات کئے ہیں ؟ آپ اگر ایران اور سعودی عرب کا موازنہ کرتے ہیں تو اس پہلو  سے موازنہ کرنا چاہئے  ۔ اس لئے کہ علمی دنیا میں جب دو چیزوں کا تقابلی جائزہ لیا جاتاہے تو اس میں جہات کا یکساں ہونا ضروری ہے ـ مختلف پہلووں سے دو چیزوں کا موازنہ کرنا مغالطہ تو ہوسکتا ہے مگر موازنہ نہیں ۔  اس کے علاوہ اسرائیل وامریکہ  کی غلامی سمیت مسئلہ   فلسطین سے بے رخی، یمن کے مسلمانوں  پر شب خون مارنے اور جمہوریت  کے حوالے سے بھی ذرا سعودی عرب اور ایران کا موازنہ پیش کیجئے گا ۔

 موصوف نے سفید جھوٹ پر مبنی یہ باتیں لکھی ہیں   کہ ایران میں کورونا سے نمٹنے کی کوشش کے حوالے سے بھی اعلیٰ سطح پر اختلاف کی افواہیں چل رہی ہیں۔ایک گروپ کی تجویز  ہے کہ تہران سمیت تمام شہر بند کر دیے جائیں۔ دوسرا گروپ شہر بند کیے بغیر کورونا کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی کا حامی ہے ۔ان کی دلیل ہے کہ حکومت کے پاس اتنے وسائل ہی نہیں کہ ملک بند کر کے معیشت چلا سکے۔ ایران نے زائرین کی آمد بھی بند نہیں کی۔ جس کی وجہ سے وہاں صورتحال نہ صرف خراب ہوئی بلکہ ان کی وجہ سے پاکستان سمیت متعدد ممالک مشکل میں آگئے ہیں)۔

 سہروردی صاحب ان جھوٹی من گھڑت باتوں سے آپ کیا ثابت کرنا چاہتا ہے ؟ آپ کو پتہ ہے کہ آپ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں مسلسل جھوٹ  لکھ کر سمجھدار لوگوں کو ہنسا رہے ہیں ! آپ کی تحریریں سمجھدار لوگوں کیلئے ایک لطیفے سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔آپ ایرانی قوم کی تہذیب و تمدن اور سیاسی تاریخ سے یا تو قطعا ناآشنا ہیں اور یا پھرپکے الباکستانی ہیں،ساری دنیا یہ تسلیمکرتی ہے کہ  ایرانیوں کے آپس میں لاکھ اختلاف ہوں مگر   قومی اور ملکی مسائل میں وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔  حالیہ کرونا وائرس  جیسی جان لیوا  بیماری سے نمٹنے کے لئے ایران کے اعلی حکام سمیت پوری قوم  متحد ہوکر ماہرین طب کی ہدایات پر  عمل  پیرا ہے ـ احتیاطی تدابیر  کے پیش نظر تمام  سرکاری و تعلیمی و تربیتی و مذہبی سرگرمیاں آن لائن کر دی گئی ہیں، یعنی جدید دور اور جدید ٹیکنالوجی کے زمانے میں ایرانیوں نے بند گلی میں گھسنے کے بجائے متبادل راستہ اختیار کر لیا ہے اور زندگی اپنے معمول کے مطابق ماڈرن ٹیکنالوجی کے ساتھ رواں دواں ہے  ۔

آپ کو پتا نہیں الباکستانیوں کے کس سکول میں بریفنگ دی جاتی ہے جو آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ  ایران نے زائرین کی آمد  بند نہیں کی۔ کم از کم الباکستانیوں کے کنویں سے باہر نکلیں اور کچھ ادھر ادھر کی دنیا کے بارے میں بھی جانیں۔ آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ اس بیماری    کا  شور اٹھتے ہی ایران نے تمام کورونا سے متاثر ہونے والے ممالک سے زائرین کی آمد پر پابندی لگادی ہے ۔ ہاں جو اس وبا کی آمد  سے پہلے ایران   پہنچے ہوئے تھے ان کو پوری عزت واحترام سے اپنے ملکوں میں جانے کی اجازت دی گئی ہے ۔ امید ہے آئندہ آپ بچوں کیلئے لطیفے لکھنے کے بجائے تجزیہ کاری کریں گے۔  

 


افکار و نظریات: الباکستانیوں کے لطیفے