کسی کا گھر جلے  اُن کی بلا سے

اجمل قاسمی

کورونا دنیا کو فتح کر تا جا رہا ہے، دو سو کے قریب ممالک متاثر ہو چکےہیں، چین، اٹلی، امریکہ، سپین اور جرمنی سرفہرست ہیں۔  مذکورہ پانچوں ممالک کا شمار ترقی یافتہ اور طاقتور ممالک میں ہوتا ہے۔ لیکن یہ بھی اپنی تمام تر ترقی، سائنس و ٹیکنالوجی، جدید ترین لیبارٹریز کے باوجود اس وائرس کے سامنے بے بس اور لاچار نظر آتے ہیں۔

اب ہمارے ملک کاذکر ہی کیا، یہاں بھی یہ  وائرس پھیل چکا ہے اور مزید پھیلتا جارہا ہے۔ ملک بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد بارہ سو ہے اور 9 مریض جاں بحق ہوچکے ہیں۔ متاثرہ بارہ سو افراد میں سے بیشتر مقامی سطح پر کورونا کا شکار ہوئے جبکہ بڑی تعداد بیرون ممالک سے آنے والوں کی ہے جو یورپی ممالک اور سعودی عرب وغیرہ سے پاکستان آئے ہیں۔ جاں بحق ہونے والے 9 افراد میں سے 4 حال ہی میں عمرہ کرکے واپس لوٹے تھے اور باقی پانچ نے بیرون ملک کہیں بھی سفر نہیں کیا تھا۔

 اسلام آباد کے علاقے بارہ کہو کی ایک مسجد میں موجود تبلیغی جماعت کے 13 افراد میں کورونا کی تصدیق ہوگئی ہے جس کے بعد پورے علاقے کو قرنطینہ میں تبدیل کیا گیا ہے ماہرین کا خدشہ ہے کہ تبلیغی جماعت کے افراد نے پوری آبادی میں وائرس کو منتقل کیا ہو۔ پشاور کے سات علاقوں کو بھی سیل کیا گیا ہے جہاں پچھلے دنوں سعودی عرب سے عمرہ کرکے آنے والے متعدد افراد موجود ہیں۔

پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر بیٹھے بعض نام نہاد دانشور کورونا وائرس پر بھی مسلکی چھاپ لگانے کی پوری کوشش کررہے ہیں، اس عالمی وبا کو بھی وہ اپنی عادت سے مجبور ہوکر تعصب اور مسلک کی عینک کے ساتھ دیکھنے میں مصروف ہیں اور اب تک قومی ٹی وی چینلز اور اخبارات میں اس وائرس کی آڑ میں مسلکی اختلاف کو ہوا دینے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔ کوئی کورونا وائرس کا ذمہ دار ایران کو ٹہراتا ہے تو کوئی اس وائرس کی تمام ذمہ داری مقدس مقامات کی زیارات سے واپس آنے والے زائرین پر عائد کررہا ہے، کچھ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس حکومتی نااہلی اور بدانتظامی سے پھیلا، کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ کورونا پھیلنے کا ذمہ دار دیندار طبقہ ہے، بعض لوگ کہہ رہے کہ یہ وائرس عمرہ سے آنے والے افراد سے ملک میں پھیلا تو کوئی تبلیغی جماعت کو اس کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے۔

حقیقت میں دیکھا جائے تو پاکستان میں کورونا وائرس پھیلنے کی سب سے اہم اور بڑی وجہ حکومت کی نااہلی اور بدانتظامی ہے، جب چین میں یہ وائرس پھیلا تو وہاں موجود ہزاروں شہری چین سے پاکستان منتقل ہوئے جن کی نہ اسکریننگ کی گئی اور نہ ہی کوئی ٹیسٹ کیا گیا بلکہ وہ تمام افراد ایئرپورٹ سے سیدھے اپنے گھر چلے گئے سوائے چند افراد کے جن کا معمولی سا چیک اپ اور ٹیسٹ کیا گیا اور ایسے لوگوں کی تعداد شاید دس یا پندرہ سے زیادہ نہ ہو، چین کے بعد یہ وائرس دیگر ممالک میں پھیلنے لگا لیکن ہماری حکومت تب بھی خواب خرگوش میں سوئی رہی اور تمام متاثرہ ممالک سے جہازوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا اور روزانہ ہزاروں شہری یورپی اور عرب ممالک سے پاکستان آتے رہے اور ایئرپورٹس سے اپنے اپنے گھر جاتے رہے، اسی دوران ایران میں بھی کورونا کے کیسز سامنے آگئے اور وہاں پر تین سے چار ہزار زائرین موجود تھے، ایران میں موجود زائرین نے کورونا کی خبر سنتے ہی اپنے سفر کو مختصر کرکے ملک واپس لوٹنے کی کوشش کی اور زیادہ تر زائرین پہلی فرصت میں ہی تفتان پہنچ چکے تھے لیکن وہاں پر موجود انتظامیہ نے انہیں کانوائی کا بہانہ بناکر پندرہ دن تک روکے رکھا اور اسی دوران پیچھے سے مزید زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری رہا، مشہد اور قم میں موجود زائرین نے تہران اور مشہد میں موجود قونصل خانوں کے دروازے کھٹکھٹائے اور واپسی کے لئے مدد مانگی تو کسی نے کسی قسم کی کوئی مدد نہ کی جس کی وجہ سے بائی ایئر ٹکٹس کینسل ہونے کی وجہ سے تمام زائرین نے تفتان کا رخ کیا۔

 تفتان کے صحرا میں جہاں نہ پانی کا انتظام ہے نہ کوئی اور سہولت، وہاں ہزاروں زائرین کو مال مویشی کی طرح پندرہ پندرہ دن رکھا گیا۔ نہ سونے کا انتظام تھا اور نہ ہی کھانے پینے کا کوئی معقول انتظام تھا، اس کے باوجود تفتان میں موجود کسی زائر میں کورونا ثابت نہ ہوا جبکہ اس دوران سعودی عرب، چین، امریکہ، اٹلی اور اسپین سمیت دیگر ممالک سے لاکھوں افراد پاکستان میں داخل ہوکر اپنے گھروں کو روانہ ہوچکے تھے۔ تفتان میں موجود تمام زائرین اس وقت اپنے اپنے متعلقہ صوبوں میں مقامی انتظامیہ کی زیر نگرانی قرنطینہ سینٹرز میں موجود ہیں جن میں سے اب تک صرف چند زائرین کے علاوہ کسی میں کورونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تمام زائرین اس وقت انتظامیہ کی زیر نگرانی سینٹرز میں موجود ہیں تو وائرس کون پھیلا رہا ہے؟ ملک بھر میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز حکومتی نااہلی اور بدانتظامی کی نشاندہی کررہے ہیں۔ اگر حکومت ایران سے آنے والے چند ہزار زائرین کی طرح دیگر ممالک سے آنے لاکھوں شہریوں کو بھی اپنی کنٹرول میں لیتی اور متعلقہ صوبوں میں قرنطینہ کرتی تو آج یہ صورت حال نہ ہوتی۔

اس وقت وہ لاکھوں افراد جو پاکستان میں داخل ہونے کے بعد ایئرپورٹ سے گھروں کو روانہ ہوگئے ہیں وہ خاموشی سے لمحہ بہ لمحہ اپنے علاقوں میں وائرس کو پھیلا رہے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ پچھلے ایک ماہ کے دوران سعودی عرب، چائنہ، امریکہ، اٹلی، اسپین، فرانس اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک سے آنے والے تمام افراد کو قرنطینہ سینٹرز منتقل کرے تاکہ کورونا وائرس کے مزید پھیلاو کو روکا جاسکے۔