وہابیت دراصل ہمارے دوستوں کی ضرورت تھی

سعودی ولی عہد کا تہلکہ خیز بیان

سعودی عرب کے ساتھ اسرائیل،امریکہ اور یورپ وفا کریں یا نہ کریں لیکن سعودی عرب نے اپنی طرف سے دوستی کا حق ادا کرنے میں کوئی کمی نہیں کی۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ وہابیت دراصل ہمارے دوستوں کی ضرورت تھی، انہوں نے کہا کہ وہابیت پھیلانے کیلئے ہمیں امریکہ اور یورپ نے کہا تھا۔ ہم نے ان کے کہنے پر مختلف ملکوں میں وہابیت کی تبلیغ کیلئے مساجد اور مدارس کی تعمیر پر سرمایہ لگایا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئےسعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے یہ تہلکہ خیزانکشاف کیا ہے۔

سعودی شہزادے کے امریکہ و یورپ اور اسرائیل کے ساتھ اس محبت بھرے اعتراف کو دنیا بھر کے میڈیا کے ساتھ ساتھ پاکستانی میڈیا میں بھی بھرپور کوریج ملی ہے۔
شہزادہ محمد بن سلمان کے اس بیان کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ دوستی ایک ایسا رشتہ ہے کہ جس پر سعودی عرب نے دین و مذہب ہر چیز کو قربان کیا ہے لیکن دوستی کو کسی چیز پر قربان نہیں کیا۔ سعودی شہزادے کا یہ بیان دوستی کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔

“The Saudi-funded spread of Wahhabism began as a result of Western countries asking Riyadh to help counter the Soviet Union during the Cold War, Crown Prince Mohammed bin Salman told the Washington Post.

Speaking to the paper, bin Salman said that Saudi Arabia’s Western allies urged the country to invest in mosques and madrassas overseas during the Cold War, in an effort to prevent encroachment in Muslim countries by the Soviet Union…

When the Saudi Crown Prince gave an interview to the Washington Post, declaring that it was actually the West that encouraged his country to spread Wahhabism to all corners of the world, there was a long silence in almost all the mass media outlets in the West, but also in countries such as Egypt and Indonesia.

اس تاریخی اور انمول بیان کو نیچے دئیے گئے قومی اخبارات کے لنکس پر بھی دیکھا جا سکتاہے۔:

1https://urdu.geo.tv/latest/182109-

2 https://www.nawaiwaqt.com.pk/30-Mar-2018/795328

3 https://dailypakistan.com.pk/31-Mar-2018/756884


افکار و نظریات: google, daily, Voice, tv