کیا تبلیغی جماعت ہی ذمہ دار ہے!؟

دین دشمن نئے نئے انداز سے زہر اگلتے نظر آتے ہیں۔ مذہب سے بیزار، گھر باہر سے فارغ تجزیہ کار اور بے دین صحافی و اینکر پرسنز کو مذہب کی مخالفت کا اچھا موقع مل گیا ہے۔ پرنٹ میڈیا پھر کیسے پیچھے رہتا،حکومتی غیر ذمہ داران کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے اجتماع میں شرکت کی تھی ان سب کا ٹیسٹ کرایا جائے گا۔

یاد رہے کہ یہ جوڑ  10 مارچ کو شروع ہوا تھا اور بارش کی وجہ سے 12 تاریخ کو ختم ہوگیا تھا۔  اس سے دو  روز پہلے ملک میں عورت مارچ کے نام پر بھی لوگ جمع ہوئے تھے کیا ان کا بھی ٹیسٹ کرایا جائے گا؟ عورت مارچ کو کامیاب بنانے کےلئے تو شاہ زیب خانزادہ اور معین پیر زادہ جیسے لوگ میڈیا پر بیٹھ کر ان کے حق میں دلائل دے رہے تھے۔
انہیں دنوں PSL کے میچز بھی چل رہے تھے کیا ان کے شرکا (کھلاڑیوں اور تماشائیوں) کا بھی ٹیسٹ کرایا جائے گا؟(یاد رہے کہ میچز کو خالی سٹیڈیم میں کرانے کا فیصلہ 13 تاریخ کو کیا گیا تھا اور کینسل ہونے کا فیصلہ 17 مارچ کو)۔ لہذا یہ پیمانہ صرف اہل مذہب کیلئے کیوں ہے؟ کسی مغربی میڈیا نے یہ کیوں نہ کہا کہ جو لوگ امریکہ کے Gay Festival میں شریک ہوئے تھے ان سب کا ٹیسٹ کیا جائے گا۔
ڈاکٹروں کے مطابق یہ وائرس 14 دنوں کے اندر اندر اپنے اثرات دکھاتا ہے، لیکن اس جوڑ کو ختم ہوئے آج تقریباً 19 واں دن ہے ،پھر کتنے لوگوں میں اس کے اثرات ظاہر ہوئے ہیں؟
10 تاریخ تک تو ہماری حکومت نے بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی تھی۔ 
ایران کے بارڈر پر زائرین کیلئے مناسب انتظامات نہ کر کے اپنی مجرمانہ غفلت پر پردہ ڈالنے کی خاطر اہل مذہب کو بدنام کرنا ہرگز ہرگز مناسب نہیں، بلکہ اللہ جل جلالہ کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

چاہے تفتان میں وائرس پھیلے یا کہیں اور حفاظتی انتظامات تو حکومت نے ہی کرنے تھے۔ ہم حکومت کی نااہلی اور سست روی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔