مولانا طارق جمیل

مولانا طارق جمیل ایک مایہ ناز مبلغ ہیں۔ وہ تبلیغی جماعت کے رکن ہیں، تبلیغی جماعت کے چھ اصول ہیں:۔ ایمان ،نماز،علم و ذکر،اکرام مسلم ، اخلاص نیت (تصحیح نیت)،دعوت وتبلیغ (دعوت الی اللہ)۔ مولانا طارق جمیل ،صوبہ پنجاب  میں میاں چنوں کے قریبی علاقے اور ضلع خانیوال  کے شہر تلمبہ  سے تعلق رکھتے ہیں، اس کے علاوہ فیصل آباد میں ایک مدرسہ بھی  چلاتے ہیں۔

اُنھوں نے ابتدائی تعلیم کے حصول کے بعد لاہور کی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں ایم بی بی ایس کے لیے داخلہ لیا۔دورانِ تعلیم وہ تبلیغی جماعت سے متعارف ہوئے اور پھر اُس سے متاثر ہوکر مذہبی تعلیم کے حصول کے لیے جامعہ عربیہ رائے ونڈ میں داخلہ لیا۔

 انہوں نے تبلیغی جماعت کے ساتھ 6 براعظموں کا سفر کیا ہے۔ لوگ بڑی تعداد میں اُن کی باتیں سنتے ہیں، ان کے اخلاق سے متاثر ہوکر کئی بہت سے گلوکار، اداکار اور کھلاڑی دینِ اسلام کی طرف راغب ہوئے۔ وہ فرقہ واریت کے سخت مخالف ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ لوگوں میں اختلافات ہوتے ہیں اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ایک دوسرے کو قتل کریں، اسلام ایسی باتوں کی اجازت نہیں دیتا۔

گزشتہ روز سننے میں آیا کہ مفتی زر ولی صاحب نے مولانا طارق جمیل کے بارے میں بہت کچھ کہا ہے، اس بہت کچھ میں تلمبہ کے محلہ طوائفاں کا ذکر بھی تھا۔ ہم نے حیرت کے مارے تلمبہ کے ایک دوست سے رابطہ کیا۔ اتفاق سے ہمارا وہ دوست شیعہ تھا، یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ مسلمانوں میں سب سے زیادہ فرقہ وارانہ لہر اہل تشیع اور سلفی و اہل حدیث و دیوبندی۔۔۔ حضرات کے درمیان ہی ہے۔ میں نے اپنے دوست سے جب محلہ طوائفاں اور مولانا طارق جمیل صاحب کا ذکر کیا تو اس نے کہا کہ جناب! ہمارے تبلیغی جماعت اور سلفی و  دیوبندی  برادران سے لاکھ مسلکی اختلاف سہی مگرمولانا طارق جمیل ایک عظیم انسان ہیں، اس کا کہنا تھا کہ محلہ طوائفاں  ایک ایسا  محلہ ہے جہاں تبلیغ کیلئے سارے مکاتب زور لگاتے رہے، حتیٰ کہ  نجف اور قم سے بھی مبلغین آتے رہے لیکن کوئی بھی کامیاب نہیں ہوا۔ مولانا طارق جمیل صاحب  کی تبلیغی کاوشوں سے اب وہ  محلہ جومحلہ طوائفاں تھا، اس محلے میں صرف چند طوائفیں باقی رہ گئی ہیں، وہ بھی تائب ہوجاتیں لیکن چونکہ وہ بڑی سطح پر اس دھندےمیں ملوث ہیں اور دبئی وغیرہ کے عرب شیوخ کیلئے کام کرتی ہیں، اس لئے وہ ڈٹی ہوئی ہیں لیکن ان کے علاوہ باقی سارا محلہ تائب ہو گیاہے۔ یاد رہے کہ مولانا طارق جمیل صاحب کے بارے میں یہ تاثرات کسی سلفی یا تبلیغی دوست کےنہیں بلکہ ایک شیعہ بھائی کے ہیں۔اس کے بعد مولانا طارق جمیل صاحب کی عظیم شخصیت کے بارے میں مزید  کچھ کہنے کو  رہ ہی کیا جاتا ہے۔

 


افکار و نظریات: ​ ​