علامہ شاہ احمد نورانی رحمۃ اللہ علیہ

علامہ شاہ احمد نورانی رحمۃ اللہ علیہ کو قائدملت اسلامیہ حضرت علامہ امام شاہ احمدنورانی صدیقی میرٹھیؒ کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔آپ کی ساری زندگی  جہد مسلسل، اور حرکت و  تحریک  پر مشتمل ہے۔ آپ  ۱۷ رمضان المبارک ۱۳۴۴ 31 مارچ 1926 کو میرٹھ ہندوستان میں مبلغ اسلام علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی رحمۃ اللہ علیہ کے گھر میں پیدا ہوئے۔والدگرامی حضرت مولاناشاہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی ؒ اپنے عہد کے ممتاز عالم دین ،مفکر دین وملت اوراسلام کے زبردست شیدائی تھے جنہیں قائد اعظم محمدعلی جناح نے قیام پاکستان کے لئے دنیابھرمیں رائے عامہ ہموارکرنے پر سفیراسلام کاخطاب دیاتھا۔

 آپ  نے اپنے والد گرامی مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی سے چار سال دس دن کی عمر میں تعلیم کا آغاز کیا،  قرآن مجید فرقان حمیدآٹھ سال کی عمرمیں حفظ کیا ،آپ نے ابتدائی تعلیم ایسے اسکول میں حاصل کی جہاں ذریعہ تعلیم عربی زبان تھی ،نیشنل عربک کالج میرٹھ سے ڈگریاں حاصل کیں درسِ نظامی کی کتب متداولہ مدرسہ اسلامیہ قومیہ میرٹھ میں استاذ العلماء حضرت مولانا غلام جیلانی میرٹھی سے پڑھیں ۔آپ کو دنیا کی تیرہ زبانوں پر عبور حاصل تھا،آپ بیک وقت مستند عالم دین،حافظ قرآن ،خوش الحان قاری عالمی شہرت یافتہ مبلغ ،بلند پائیہ مقرر عظیم اسلامی مفکر  اورسیاسی لیڈر کے طور پر جانے گئے۔

مولاناشاہ احمد نورانی کو اپنے والد بزرگوار سے بیعت و خلافت کا شرف حاصل ہے اور آپ نے پاکستان و بیرون پاکستان اپنی وسیع تبلیغی مساعی و مسلسل دینی جدوجہد اور شریعت و طریقت کی خدمات سرانجام دے کر اپنے والد ماجد کی نیابت و جانشینی کا حق ادا کیاہے، لاکھوں کافر آپ کے ہاتھوں مسلمان ہوئے اور آپ نے چودہ مرتبہ حج کعبہ و زیارات  مقامات مقدسہ کا شرف حاصل کیا۔

علامہ شاہ احمد نورانی نے تحریک ختم نبوت میں فعال کردار ادا کرنے کے علاوہ اپنی تحریر وں اور تقریروں کے ذریعہ بھی دین کی خدمت انجام دیں۔آپ نے دو ضخیم کتابیں عیسائیت اورآمریت کے رد میں تحریر فرمائیں ۔(۱) دی سیل آف دی پرافٹ(مہر نبوت)(۲) جیس کرائسٹ ان دی لائٹ آف قرآن (یسوع مسیح قرآن کی روشنی میں)۔

آپ کی جدوجہد اور خدمات پراگر لکھا جائے تو کئی کتابیں تصنیف کی جاسکتی ہیں مگر  ہم اختصار کے ساتھ چند انتہائی اہم واقعات پیش کر رہے ہیں۔

1953 سے1964 تک گیارہ سال مولانانورانی ورلڈ مسلم علماء آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل رہے جس کے صدر مفتی اعظم فلسطین تھے ،مکہ مکرمہ دارارقم میں ورلڈ اسلامک مشن کی داغ بیل ڈالی12 اپریل 1974 کومولانا شاہ احمد نورانی کی زیر صدارت بریڈ فورڈ (برطانیہ)کے سینٹ جارجزہال میں ایک عظیم الشان عالمی کانفرنس ہوئی جس میں مختلف ممالک کے پچاس علماء شریک ہوئے اس کانفرنس میں مولانا شاہ احمد نورانی کو ورلڈ اسلامک مشن کا چیئرمین منتخب کیا گیا۔آپ نے چیئرمین ورلڈ اسلامک مشن کی حیثیت سے تمام براعظموں کے دورے کئے اور ورلڈ اسلامک مشن کی تنظیمیں قائم کیں ۔

انہوں نے دنیا بھر میں متعدد اداروں کی سربراہی کی جن میں سے چند ایک کے نام ہم لکھ رہے ہیں۔ (۱) حلقہ قادریہ علیمیہ اشاعت اسلام (ماریشس) (۲) علیمیہ اسلامک مشن کالج(ماریشس) (۳)علیمیہ دارلعلوم(ماریشس) (۴)ورلڈ اسلامک مشن (ماریشس (۵)حلقہ قادریہ علیمیہ اشاعت اسلام سیلون (سری لنکا) (۶)ینگ مین مسلم ایسوسی ایشن (گیانا) (۷)مسلم ایجوکیشن ٹرسٹ ،جارج ٹاؤن(امریکہ) (۸)اسلامک مشنریز گلڈ (ساوتھ امریکہ) (۹)آل ملایا مسلم مشنری سوسائٹی (ملائشیا) (۱۰)حنفی مسلم سرکل ،پریسٹن(برطانیہ) (۱۱)دارالعلوم جامعہ مدینہ الاسلام ،ڈین ہاگ(ہالینڈ) (۱۲)دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی،ضلع بستی یوپی (انڈیا) (۱۳) ورلڈ اسلامک مشن (پاکستان) (۱۴) بابا فرید الدین گنج شکر ویلفیئرایجوکیشن سوسائٹی(پاکستان) (۱۵)ورلڈ تبلیغی کالج گلشن اقبال کراچی(پاکستان)۔

 آپ نے 1953  میں تحریک ختم نبوت اور 1956 میں تدوین دستور کیلئے جدوجہد کرتے ہوئے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔1970 میں غزالی زماں علامہ سیداحمدسعید شاہ کاظمی اورمفتی اعظم پاکستان ابوالبرکات محمد احمد قادری کے ساتھ مل کر جے یو پی کے تمام دھڑوں کوخواجہ قمرالدین سیالوی کی قیادت میں منظم کیااورآپ جمعیت علماء پاکستان کے نائب صدر اول منتخب ہوئے۔ 1970 میں کراچی سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا اور بھاری اکثریت سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔جے یو پی کے پارلیمانی لیڈر اور قائد حزب اختلاف منتخب ہوئے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے مقابلہ میں وزیر اعظم کا الیکشن لڑا 15اپریل 1972 کو پہلی مرتبہ قومی اسمبلی میں فتنہ مرزائیت کے خلاف کھل کر اور تفصیلی تقریر فرمائی اور مسلمان کی تعریف دستور میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔19 دسمبر 1972 کو صدر جمعیت علماء پاکستان خواجہ قمر الدین سیالوی کے استعفیٰ کے بعد قائم مقام صدر جے یو پی مقرر ہوئے 1973 میں سینٹ کے رکن منتخب ہوئے27 مئی 1973 کو خانیوال کنونشن میں JUP کے صدر منتخب ہوئے۔ اس دوران دو دفعہ استعفیٰ دیا لیکن جے یو پی کی شوریٰ و عاملہ نے استعفیٰ منظور نہیں کیا اس طرح آپ 11 ستمبر 2003 تک منصب صدارت پر فائز رہے۔

جولائی 2001 میں چھ دینی جماعتوں کا سیاسی اتحادمتحدہ مجلس عمل کا قیام عمل میں آیا اور آپ کو چھ ماہ کیلئے صدر منتخب کیا گیاچھ ماہ بعد بھی متحدہ مجلس عمل کے قائدین نے آپ ہی کی صدارت پر اعتماد کا اظہار کیا۔دینی جماعتوں نے 19 مارچ 2002 کومتحد مجلس عمل کے نام سے قائم کئے گئے اتحاد کو باقاعدہ سیاسی اتحاد میں تبدیل کردیا 2ا پریل 2002 کو متحدہ مجلس عمل کے منشور کی منظوری دے دی گئی جس میں کہا گیا کہ مجلس عمل برسر اقتدار آکر ملک میں نظام مصطفی ﷺ نافذ کرے گی ۔ MMA نے 23 جولائی 2002 سے انتخابی مہم چلانے کا اعلان کیا 10 اکتوبر 2002 کے عام انتخابات میں مولانا شاہ احمد نورانی کی ولولہ انگیز قیادت میں MMA نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ۔4 فروری 2003 کوسینٹ کے انتخابات ہوئے اور مولانا شاہ احمد نورانی سندھ سے سینٹ کے رکن منتخب ہوئے اور سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے ڈٹ کر باوردی صدرمشرف کا مقابلہ کیا۔

آپ نے  17 شوال 1434 بمطابق11 دسمبر 2003 کووصال فرمایا۔آپ کی تدفین کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار کے احاطے میں 12 دسمبر 2003 بروز جمعۃ المبارک کو ان کی والدہ کے قدموں میں ہوئی۔اناللہ واناا لیہ راجعون