کرونا وائرس،ابھی بھی دیر نہیں ہوئی

نذر حافی

مذہبی طبقات کا کوئی ایک مسئلہ نہیں، یہ ہمیشہ خود ہی  بے دین لوگوں کو دین کی مخالفت کا موقع دیتے ہیں۔کیا الیکٹرانک میڈیا اور کیا  پرنٹ میڈیا ، ایک تو مذہب دشمن عناصر بہت مکار ہیں اور دوسرے دیندار لوگ بہت شریف واقع ہوئے ہیں، سونے پر سہاگہ یہ کہ دین  کے لبادے میں بعض مکار لوگ بھی چھپے ہوئے ہیں، جو کمالِ مہارت کے ساتھ ہر  اہم مسئلے کو  اس طرح اٹھاتے ہیں کہ جیسے دنیا میں ہر مسئلہ شیعہ و وہابی  مسئلہ ہی ہےاور دنیا کا ہر تنازعہ سعودی عرب اور ایران کا ہی ایجاد کردہ ہے۔اس سے بھی زیادہ سادگی یہ ہے کہ چند شر پسند لوگوں کی من گھڑت پوسٹوں کو  اچھے خاصے دیندار، مہذب  اور پڑھےلکھے لوگ  بھی بغیر کسی تحقیق کے سوشل میڈیا پروائرل کرتے رہتے ہیں، اس کے بعد  وہی  مسئلہ بگڑ کر انہی دیندار طبقات کے خلاف ہی ہتھیار بن جاتا ہے۔دینی جماعتوں اور تنظیموں کو اس سلسلے میں سمجھداری سے کام لینا چاہیے۔

اس وقت ہر طرف لبرل اور سوشلسٹ و سیکولر حضرات دینی طبقوں کے خلاف طوفان بدتمیزی برپا کئے ہوئے ہیں، علمائے کرام کی ایسی تقاریر، پیغامات اور بیانات کو بار بار وائرل کیا جا رہا ہے جن میں کرونا کے بارے میں خلاف حکمت کچھ کہا گیا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ خود دینی طبقات کی طرف سے ہی ایسے خطبات و بیانات کی فوراً تردید آجانی چاہیے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ہر دینی تنظیم، جماعت اور سربراہ کی اوّلین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم اور منبر و محراب سے اٹھنے والی ہر غلط بات کا فوراً نوٹس لے۔

ابھی زائرین تفتان میں ہی تھے کہ کرونا وائرس اور اہل تشیع کو لازم و  ملزوم بنا دیا گیا۔ آگے چل کر تبلیغی جماعت کے افرادمیں کرونا کے مریضوں کا انکشاف ہوا تو یہ وائرس  تبلیغی بھی ہو گیا۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان ایک مہذب زندگی گزارنے پر راضی ہی نہیں  ہیں۔ دینِ اسلام کی تعلیمات کےمطابق اگرہم واقعی مسلمان ہوتے تو تفتان میں جب زائرین مشکل میں تھے تو دیگر ہماری ذمہ داری بنتی تھی کہ ہم آگے بڑھ کر انہیں مسافر اوربے وطن انسان ہی سمجھ کر ان کی مدد کرتےاور حکومت کو مجبور کرتے کہ حکومت ان مسافروں کو   قرنطینہ کے طبی معیارات کے مطابق  اپنی  تحویل میں لے۔

دوسری طرف اگر تبلیغی جماعت کےافراد میں کرونا پایا گیا ہے تویہ خدانخواستہ خوشی یا اچھالنے کی بات نہیں، اہلِ تشیع سمیت تمام مسالک کو بھی چاہیےکہ وہ آگےبڑھ کر اس مشکل وقت میں تبلیغی جماعت کی  ہر ممکنہ مددکریں۔جہاں تک ہمارے ہاں کے سوشلسٹس ، لبرلز اور سیکولرحضرات کی بات ہے تو وہ کسی طور بھی دینی طبقات کے ہمدردنہیں ہیں۔ یہ غیر دیندار لوگ ہمیشہ سے پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں اورمذہبی طبقات ان کی چالوں کو  سمجھنے سے قاصر ہیں۔

اب  اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی نے یہ بیان دیا ہے کہ تبلیغی جماعت لاوارث نہیں اس کے خلاف ظلم و زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ جماعت پرامن ضرور ہے لیکن لاواث نہیں ہے، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ تبلیغی جماعت  لاوارث ہے تو  یہ اس کی بھول ہے۔

 قارئین محترم ! اس میں خوش ہونے کی بات نہیں، ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ سیاسی لوگ دینی طبقوں کو ذلیل کروانے کے بعداس طرح کے بیانات دے کر  اپنا حقیقی چہرہ چھپا لیتے ہیں۔یہ لوگ  نہ سلفی و اہلحدیث ہیں، نہ شیعہ ہیں اور نہ ہی  بریلوی بلکہ انہیں یہ فن آتا ہے کہ کس  وقت کس طرح کی بات کر کےکس کو خوش کرنا ہے۔

  عقلمند افراد کیلئے حقیقت کو جاننے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اس نکتے کو سمجھیں کہ ایک طرف تو اسپیکر پنجاب اسمبلی نے یہ بیان دیا ہے اور دوسری طرف  جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کیساتھ‘ میں  گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا  ہے کہ سندھ میں  سب سے زیادہ کیسز  ان لوگوں کےہیں جو تبلیغی اجتماع سے واپس سندھ میں آئے۔

اب قارئین کومعلوم ہونا چاہیےکہ حقیقت حال یہ ہے کہ 11 مارچ کو ایک اندازے کے مطابق تقریباً اڑھائی لاکھ افراد اس تبلیغی اجتماع میں جمع ہوئے تھے۔ یہ پانچ روزہ اجتماع تھا جسے بارش کے باعث دوسرے دن ہی ختم کردیا گیا تھا۔

وزیر اعلی سندھ نے تو ایسے بیان دیا ہے جیسےیہ اڑھائی لاکھ لوگ صرف سندھ سے ہی آئے  تھے،البتہ تشویشناک بات یہ ہے کہ  اس اجتماع میں آنے والے لوگوں کی اکثریت  صرف دیندار ہی نہیں ہوتی بلکہ تبلیغ کے سلسلے میں بہت زیادہ فعال ہوتی ہے، بعض امام جماعت ہوتے ہیں، بعض قاری قرآن اورحفاظ ہوتے ہیں جو مختلف شہروں اور دیہاتوں میں چھوٹے بڑے مدارس سے لےکر چھوٹے چھوٹے دیہی تبلیغی مراکزمیں بھی کوچے و گلی کی سطح پر تبلیغی خدمات انجام دیتےہیں۔معاشرے میں ان کی ایک عزت اورآبرو ہے، حکومتی مسئولین کو لوگوں کو بیوقوف بنانےکیلئے جوشیلے بیانات دینےکے بجائےتبلیغی جماعت کے اکابرین سے بات کرنی چاہیے۔ انہیں اعتماد میں لے کر  جگہ جگہ تمام  طبی سہولیات اور شرائط کے ساتھ قرنطینہ مراکزقائم کرنے چاہیے ۔  تاکہ یہ معززو محترم  لوگ خوف وہراس کے بجائے خوشی سے آئیں اور اپنا علاج کروائیں۔

اگر صورتحال اسی طرح بگڑتی گئی جیساکہ تبلیغی جماعت کے کچھ غیرملکی باشندوں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ اور اسی طرح بارہ کہو اسلام آباد اور دیگر کچھ مقامات کے بارے میں بھی اس طرح کی اطلاعات موجود ہیں۔ اس وقت اگر اس مسئلے کا فوری حل نہیں نکالا گیا توکوئی بڑا انسانی المیہ پیش آسکتا ہے۔ بالاخر یہ ایک موذی وائرس ہے، اگر یہ وائرس یونہی پھیلتا گیا تو یہی جوشیلے بیان دینے والےسیاستدان پھر کہیں گے کہ یہ سب تبلیغی جماعت والوں نے پھیلایا ہے، ویسے بھی دیندار لوگوں کے بارے میں ان کے نظریات کو جو ابھی تک نہ  جانتاہو وہ  اس سلسلے میں فواد چودھری  کے بیانات  پر ہی غور و فکر کرلے۔

آخر میں راقم الحروف کی  ملک کے سیاستدانوں سے دست بستہ گزارش ہے کہ ابھی  بھی دیر نہیں ہوئی،  خدا  را گرم اور جوشیلے بیانات دے کر  لاشوں پر سیاست نہ چمکائیں، آپ کو مذہبی طبقات کو استعمال کرنے کے اور بہت سارے مواقع ملیں گے، یہ قیمتی انسانی جانوں کا مسئلہ ہے، اسے  حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق حل ہونے دیں، اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔