ہمیشہ پاکستانی بن کر سوچئے
محمد امین  نیازی

 برطانوی جاسوس مسٹر ہمفرے کی ایک کتاب مسٹر ہمفرے کے اعترافات ضرور پڑھیے، تب آپ کو پتہ چلے گا کہ صرف تقریبا 150 سال پہلے ایجاد ہونے والا فرقہ کیسے ایک پریشر گروپ اور مسلح لشکر بن کر  ساری دنیا ئے اسلام  اور خصوصاً سعودی عرب اور پاکستان پر مسلط ہو گیا۔

پھر آپ کو سمجھ آئے گی کہ اس فرقے کے لوگ جہاں بھی ہوتے ہیں صرف برطانیہ،امریکہ اور سعودی عرب کے ہی وفادار کیوں ہوتے ہیں!؟
یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ  وہ اہل سنت کے مذاہبِ اربعہ (حنفی،مالکی، شافعی ، حنبلی) یا پھر اہل تشیع (فقہ جعفری) ہو، ان سب کو کسی ملک نے وجود نہیں بخشا، یہ سارے مسالک دنیا میں موجود  ممالک کے علاوہ اپنا ایک مستقل وجود رکھتے ہیں جبکہ ہمفرے اور لارنس آف عریبیہ کے بنائے ہوئے اس برطانوی نژاد فرقےکو برطانیہ، امریکہ اور سعودی عرب کے ملاپ نے جنم دیا ہے۔ لہذایہ جہاں بھی ہوں ان تینوں ممالک کے وفادار رہتے ہیں، ان کے  عقائد  بھی نہ تو اہل سنت سے ملتے ہیں اور نہ ہی شیعہ مذہب سے ۔

یہ  نیا  استعماری و سعودی فرقہ اسلام پر ایسا قابض ہوا کہ اس نے اسلام کے دونوں اصلی  اور قدیمی فرقوں یعنی  شیعہ  و سنی کو کافر اور مشرک کہنا شروع کر دیا۔ اس نے اپنی ابتدا ہی  شیعہ کو کافر  اور اہل سنت کو بدعتی و مشرک  کہنے سے کی۔ 
اس فرقے کے بانی نے سب سے پہلے انگریزوں سے مل کر ترکی میں قائم مسلمانوں کی خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کر کے سرزمین مقدس حجاز پرقبضہ کر لیا ۔ پھر آل سعود کے ملک عبدالعزیز نے فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کی یہودی ریاست قائم کرنے پر دستخط کئے جو اب بھی گوگل سرچ سے مل سکتے ہیں۔
اس فرقے کا سارا ہم وغم ہمیشہ سے مسلمانوں کے درمیان دوریاں اور اختلافات ایجاد کرنا ہے چونکہ استعمار کا ایجنڈا ہی یہی ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں لڑاو اور کمزور کرو۔

 چند سال پہلے ہی امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے امریکی کانگرس میں تقریر کرتے ہوئے اعتراف کیا  تھاکہ وہابیت کی فنڈنگ ہم نے کی اور اسے ہم نے پھیلایا. اور گزشتہ سال محمد بن سلمان نے  بھی یہ بیان دیاتھا کہ ہم نے امریکہ و یورپ کے کہنے پر  وہابیت کے مدارس  اور اداروں کی پوری دنیا میں فنڈنگ کی.

یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ جسے ہم سب خود بھی محسوس کر سکتے ہیں کہ  اس وقت وہابی مراکز اور مدارس و مساجد جو امریکی و مغربی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے دنیا بھر میں بنائے گئے ہیں وہ پوری دنیا میں سعودی، اسرائیلی، مغربی اور امریکی مفادات کی تکمیل کر رہے ہیں۔ دیوبندی و وہابی حضرات، ان کی مساجد اور مدارس پوری دنیا میں ایک

سعودی پریشر فورس  

کی حیثیت رکھتے ہیں۔ 

سعودیہ جس ملک میں بدامنی اور دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کرانا چاہتا ہے وہ انہیں کے ذریعے کرواتا ہے. کسی نے خوب کہا تھا کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی کسی قسم کی دہشتگردی ہو گی تو اس کے پیچھے یا سعودی خود ہونگے یا سعودی فنڈڈ لوگ ہونگے۔
مختلف ممالک میں دیوبندی و وہابی حضرات کو  امریکی و سعودی اور اسرائیلی رضاکاروں کی حیثیت حاصل ہے۔ امریکہ اورسعودی عرب ان حضرات کی مدد سے  بغیر کسی ملکی و بین الاقوامی قانون اور قوموں کی آزادی و خود مختاری کا احترام کئے  دیگرممالک کے  داخلی امور میں  کھلی مداخلت کرتے ہیں، حتی کہ  یمن اور لبنان کے وزیراعظم کو سعودی عرب نے قید کرلیا تھا اور جمال خاشقچی جیسے  صحافی کو ترکی میں سفارت خانے کے اندر ہی قتل کروا دیاتھا۔
اسی  طرح شام کے آئینی طور پر منتخب صدر کی حکومت  کو گرانے  کے لئے  نو سال سے امریکہ و سعودی عرب  شام میں  جنگ مسلط کئے ہوئے ہیں۔اسی طرح مصر  میں عوام کی منتخب  شدہ محمد مرسی کی حکومت کو  انہوں نے جنرل سیسی کے ساتھ ملکر گرایا.
ملایشیا میں 680 ملین ڈالرز لگا کر نجیب عبدالرزاق کو زبردستی وزیراعظم بنوایا جسے وہاں کی عوام نے اگلے انتخابات میں مسترد کر دیا اور پھر مقبول لیڈر مہاتیر محمد برسرِ اقتدار آئے اور اِن دنوں وہاں پر سعودی  عرب کا ایجنٹ وزیراعظم کرپشن کے کیسز میں جیل میں ہے.

علاوہ ازیں سعودی عرب نے اس وقت  دو ممالک یمن اور بحرین میں باقاعدہ  فوجیں داخل کر رکھی ہیں اور ان کی پریشر فورس وہاں لوگوں پر شب خون مارنے  میں مصروف ہے۔
پاکستان میں تو اس مسلح پریشر فورس  نے حد کر دی، انہوں نے پاکستانی  فوج کے خلاف جہاد کے فتوے دئیے، 15000 فوجی اور 70000 عام شہری  اسی دیوبندی و وہابی فورس کے ہاتھوں شہید ہوئے، انہوں نے اے پی ایس سکول کے ننھے منے بچوں کو بھی معاف نہیں کیا۔  

گزشتہ چالیس سالوں میں  یہ امریکی و سعودی   رضاکار بھیس بدل بدل کر  پاکستان کے مختلف اداروں اور تھنک ٹینکس کے اندر گھس چکے  ہیں۔
یہ بات آن دی ریکارڈ ہے کہ پاکستان کی شہید وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے 1993 میں کہا تھا کہ سعودی عرب چاہتا ہے کہ وہ پاکستان کا وزیراعظم، آرمی چیف اور چیف جسٹس اپنی مرضی سے لگائے۔ پاکستان میں اس  سعودی پریشر فورس کا اتنا زور ہے کہ ایک  ایٹمی طاقت کا وزیراعظم ہونے کے باوجود ہمارا وزیراعظم سعودی عرب کو ناراض کر کے  ملائیشیا کانفرنس میں  شرکت کرنے کا رسک نہیں لے سکا۔ 
یہ سعودی پریشر گروپ والے جب چاہتے ہیں تو کسی کو بھی کافر کہہ کراسےمروا دیتے ہیں، پولیس ، فوج ، بچے بوڑھے، مسافر، سیاستدان کوئی بھی ان کے پریشر اور شر سے محفوظ نہیں، وزرا کو یرغمال بنانا، بیوروکریٹس کو  نیچے لگانا، افواج پاکستان کے جوانوں کے گلے کاٹنا، حکومتوں کو جام کرنا اورسیاستدانوں کو بلیک میل کرنا تو ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔
اب کرونا وائرس کا مسئلہ پاکستان کا تاریخی مسئلہ بن گیا ہے،  اس مسئلے کوہی لیجئے، اس  پریشر فورس نے پاکستانی عوام اور حکومت کودیوار کے ساتھ لگاکر سعودی عرب اور امریکہ کے بل بوتے پر پاکستان کے سب سے زیادہ گنجان آبادصوبے میں اڑھائی لاکھ کا اجتماع کر کے اُن لوگوں کے ذریعے کورونا کو پورے پاکستان میں پھیلادیا، فوج، پولیس اور آئین پاکستان کو تو یہ ویسے ہی خاطر میں نہیں لاتے، اس وبا اور بیماری کے دوران بھی یہ لوگ ملک  اورحکومت کی مدد کرنے کے بجائے پولیس اور فوج پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جیساکہ  متعدد قرنطینہ مراکز میں ان کی طرف سے پولیس آفیسر کو مارنے حتیٰ کہ چھرے مارنے جیسا افسوسناک واقعہ بھی پیش آ چکا ہے۔

یہاں تک پڑھنےکے بعد اب ہر قاری کو یہ بات تو سمجھ میں آہی چکی ہوگی کہ یہ پریشر جماعت کے لوگ جہاں بھی ہوتے ہیں صرف برطانیہ،امریکہ اور سعودی عرب کے ہی وفادار کیوں ہوتے ہیں!؟

اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ انہیں بنایا ہی استعمار اور سعودی عرب نے ہے۔  ان کے وجود کی بقا ہی استعمار اور سعودی عرب کی اطاعت پر منحصر ہے۔لہذا ہماری ہر پاکستانی سے گزارش ہےکہ ہر مشکل وقت میں اپنی قوم اور فوج کی پشت پر کھڑے ہو جائیں اور ملک دشمن امریکی و سعودی ایجنٹوں کے مقابلے میں پاکستانی بن کر سوچیں اور پاکستانی جھنڈا اٹھائیں۔