برصغیر پاک و ہند کے پہلے مجتہد 
تحقیق و تحریر:توقیر کھرل


یہ ذکر  اٹھارہویں صدی کا ہے جب برصغیر میں مسلک تشیع کو عروج حاصل ہوا ۔اسوقت شمالی ہندوستان کے ،مرشد آباد ،عظیم آباد کے ساتھ ساتھ لکھنو  بھی اہم علمی و ادبی مرکز بنا، لکھنومیں ایرانی سادات اور دیگرکئی شریف خاندان رہائش  پذیر ہوئے، اس کی ایک دوسری بڑی وجہ فارسی زبان کا برصغیر میں سرکاری زبان کا ہونا بھی تھا ۔لکھنو سمیت تمام علاقوں میں سب سے پہلے شیعہ مسلک کے اثرات  مولانا دلدار علی نقوی غفران مآب کے مرہون منت ہیں۔ان کے اولین کارناموں میں برصغیر میں علیحدہ نماز جمعہ اور باجماعت نماز کا اہتمام بھی شامل ہے۔ لکھنو کے شیعہ اکابر اور مجتہد، اکثرغفران مآب مولانا سید دلدار علی نقوی کے علمی و مذہبی زندگی اور کارناموں کا ذکر کرتے ہیں ۔
آپ ہندوستان کے علاقہ نصیر آباد میں 1753میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد عراق تشریف لے گئے اور فقہ و حدیث و اصول کی تعلیم کربلا اور نجف سے حاصل کی بعد ازاں ایران کے شہر مشہد میں بزرگوں سے فیض حاصل کیا اور پھر لکھنو میں واپس خود کو تصنیف و تالیف اشاعت و تنظیمِ شیعیت کے لیے وقف کرلیا۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ برصغیر کے علماء کا مشہد نجف اور کربلا سے فیض  حاصل کرنا قدیمی عمل ہے جو تاحال جاری و ساری ہے ۔
نواب آصف الدولہ کو ملا محمد علی کشمیری نے مشورہ دیا کہ مولانا سید دلدار علی  نقوی،کربلا و مشہد کے مجتہدین کا مانا ہوا ہے  وہ نماز پنجگانہ کے لیے لائق ہے اگر نواب اس کے پیچھے نماز پڑھیں تو یہ رواج ہوجائے گا ۔مشورہ پر عمل ہوا اور فیض آباد جو لکھنو اودھ کا درالحکومت رہا ہے میں نماز باجماعت سے نئی مزہبی زندگی کا آغاز ہوا۔دلدار علی رح کے علمی و تحقیقی کاموں کی اہمیت ان کی تصانیف اور ذاتی تنظیمی کوششوں کے علاوہ ان کے شاگرد اور فرزندوں نے ان کے کام کو جاری رکھا۔
سلطان العلماء سید محمد مجتہد ان کے سب سے بڑے فرزند اور جانشین قرار پائے اور وہی مرتبہ حاصل کیا جو سنی ممالک میں شیخ السلام کا ہوتا ہے مرزا غالب کے اس خاندان سے گہرے مراسم تھے  یہی وجہ ہے کہ مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے جب  مرزا غالب سے  شیعہ نہ ہونا ثابت کرنے کے لیے  فارسی مثنوی لکھوائی تو اسی خاندان کو جواب دہ ہونا پڑا تھا اس واقعہ کی تفصیل آئندہ قسط میں ہوگی۔
مولانا دلدار علی کی علمی خدمات (کتابیں)مراة العقول پانچ جلدیں ،اساس الاصول،چھ مزید کتابیں،کئی فقہی رسالے،شاہ عبد العزیز دہلوی کی تحفة اثناء عشریہ کے مختلف  جواب لکھے،مولوی محمد سمیع صوفی کے جواب میں رسالہ لکھا،1820میں وفات ہوئی
آپ کا مزار لکھنو میں ہے۔
ماخد:۔رُود کوثر ،شیخ محمد اکرام تیسری جلد،نجوم السماء،وکی شیعہ پیڈیا