امریکہ نے کہا ہے کہ ایران لیونسن کو رہا کرے ورنہ اسے سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ اظہار امریکی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیک پومپیو نے یہ بھی کہا ہے کہ  ایرانی حکومتی نظام کو تبدیل کرکے رہیں گے اور صدر  ٹرمپ نےاس مقصد کے لئے  مختلف ممالک  کا اتحاد بنا لیا ہے۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے  ایسپن سکیورٹی فورم کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ  ایرانی نظام کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی  امریکی پالیسی پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے اور ابتدائی اقدامات کے طور پر صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف اس کے  خطے کے ممالک کا اتحاد قائم کرنا شروع کردیاہے۔

نیوز ایجنسیز کے مطابق  مسٹر ٹرمپ نےبھی  ایران سے کہا ہے کہ وہ اس کے شہری اور سابق افسر رابرٹ لیونسن  کو جلد سے جلد رہا کرے ورنہ اسے سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔ کہا جاتا ہے  کہ لیونسن 10 سال قبل ایران میں لاپتہ ہو گئے تھے۔ صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے ۔ چونکہ ایران پاکستان نہیں ہے کہ  ریمنڈ ڈیوس کی طرح  لیونسن کو امریکہ کے حوالے کردیا جائے گا اور دوسری طرف ایران کا حکومتی نظام بھی عوام کی پشت پناہی کے باعث غیر متزلزل ہے۔

اسی طرح پاکستان میں بھی اس وقت جن حالات سے دوچار ہے وہ امریکہ کی کسی بھی طرح سے مزید مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

تاہم یہ بات ابھی مبہم ہے کہ   امریکی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیک پومپیو نے جس امریکی اتحاد کی بات کی ہے وہ یہی سعودی اتحاد ہے یا اس کے علاوہ بھی کوئی اور اتحاد بنایا جارہاہے۔  البتہ یہ بات واضح ہے کہ ایک اتحاد موجود ہونے کی صورت میں امریکہ اپنی تونائیاں کسی دوسرے اتحاد پر صرف نہیں کرے گا۔

 البتہ اس میں یہ بھی دیکھا جانا ہے کہ اس اتحاد کے کمانڈر راحیل شریف کی اب تک سعودی عرب میں کیا مصروفیات رہی ہیں اور کیا وہ مستقبل میں امریکی ایجنڈے پر عمل کرنے کے لئے راضی ہو جائیں گے۔

سیاسی ماہرین کےمطابق مسٹر ٹرمپ اپنے سخت بیانات کے باوجود فی الحال  ایران کے خلاف کسی بھی جارحانہ قدم سے گریز کریں گے۔

  خصوصا شام اور عراق میں امریکی دہشت گردوں کی پسپائی اور ناکامی  نیز عرب اتحاد میں قطر کے اختلافات اور ترکی کے تحفظات کے بعد امریکہ براہ راست ایران سے ٹکر لینے کا خطرہ مول نہیں لے گا۔

دوسری طرف ایرانی نمائندوں نے امریکی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دھمکیاں صرف اس لئے دی جارہی ہیں تاکہ غیرملکی سرمایہ کار ڈر کر ایران میں سرمایہ کاری نہ کریں۔


افکار و نظریات: امریکہ کی ایران کو سخت نتائج کی دھمکی کے بعد کیا ہ