کرونا وائرس، جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
اجمل قاسمی

کورونا وائرس نے دہشت پھیلا رکھی ہے۔ مشرق ومغرب میں کوئی بھی اس سے محفوظ نہیں۔ یہ نہ دین دیکھتا ہے، نہ رنگ و نسل اور نہ ہی قوم و زبان۔ اپنی سائنسی و علمی ترقی پر ناز کرنے والوں نے بھی اس کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں۔ امریکہ جیسے چوہدریوں کو کورونا نے زمین پر ناک رگڑنے پہ مجبور کردیا ہے۔دنیا بھر کے سائنس دان اس کی ویکسین بنانے میں  ناکام ہیں۔
کورونا وائرس کے متعلق مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ کوئی کہہ رہا کہ یہ قدرتی وبا ہے۔ کسی کا کہنا ہے کہ یہ بائیولوجیکل ہتھیار ہے، جسے لیبارٹری میں تیار کیا گیا ہے۔گیلپ انٹرنیشنل سروے کے مطابق 72 فیصد پاکستانی کورونا وائرس کو قدرتی وبا جبکہ 30 فیصد اسے بائیولوجیکل ہتھیار قرار دے رہے ہیں۔ دنیا بھر کے 28 ممالک کے شہریوں میں 32 فیصد اسے بائیولوجیکل ہتھیار اور 45 فیصد وبا قرار دے رہے۔ 
بائیولوجیکل ہتھیاروں کے خلاف سرگرم امریکی پروفیسر ڈاکٹر فرانسس بوئل نے انکشاف کیا ہے کہ کورونا وائرس شمالی کیرولائنا کی یونیورسٹی میں تیار ہوا، جہاں ایک بایو سیفٹی کی ایک حساس لیول کی لیبارٹری موجود ہے۔ وہاں ان کی تحقیق کاروں کی ٹیم میں ایک چینی بھی تھا۔ انہوں نے یونیورسٹی آف کیرولائنا کی مدد بھی کی تاکہ ان کا ایک سائنس دان وہاں گھس سکے جہاں نازی طرز کا ایک ایسا کام ہورہا تھا جو حیاتیاتی طور پر بہت خطرناک ہے۔ جس کے تحت سارس وائرس کو گین آف فنکشن ایکٹیوٹی کے ذریعے مہلک بنایا جارہا تھا۔ شمالی کیرولائنا کی موت کی اس فیکٹری سے چینی ٹیکنالوجی لے اڑے، اور اسے وہاں لائے تاکہ یہاں اسے جینیاتی طور پر انجینئر کیا جاسکے۔ یہاں حیاتیاتی جنگ کا ایک ہتھیار بنایا جاسکے جس میں سارس کے جراثیم شامل ہوں۔ جو پہلے ہی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا سکنے والا کورونا وائرس ہے۔ اور اس میں ایڈز کے جرثومے کی خصوصیات بھی ہوں۔
پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عطاءالرحمن کا کہنا ہے کہ یہ ممکنات میں سے ہے کہ ایک ایکزسٹنگ وائرس کو لے کر اس کو سینتھیٹکلی موڈی فائی کیا گیا ہو، اور ایک بائیو ہتھیار کے طور پہ یہ بنایا جارہا ہو۔ اس میں کچھ شواہد ہیں کہ امریکہ میں اس پہ کام ہورہا تھا۔ بائیولوجیکل ہتھیاروں کی لیبارٹری میں، وہاں سے لیکیج ہوئی جس کے بعد وہ لیبارٹری بند کردی گئی  ۔ ابھی تک یہ ثابت شدہ بات نہیں ہے البتہ کچھ شواہد موجود ہیں۔ 
اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر عبداللہ حسین ہارون کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس قدرتی نہیں ہے بلکہ اسے لیبارٹری میں بنایا گیا ہے۔ یہ وائرس 2006 میں کیرون نامی امریکی کمپنی نے اس کی پیٹنٹ حاصل کی۔ اس کے علاوہ چین نے بھی امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ کورونا وائرس امریکہ نے بائیولوجیکل ہتھیار کے طور پر چین کے خلاف استعمال کیا۔ 

دوسری جانب سائنسی میگزین نیچر میڈیسن میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا گیا ہے کہ سائنس دان کورونا وائرس کی سات اقسام کی جینیاتی ساخت کا موازنہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ سارس کو وی ٹو کی ساخت، تبدیلی کا عمل اس حد تک منفرد ہے جو ایک فطری عمل ہی ہوسکتا ہے۔ اس کی مصنوعی طور پر تخلیق ممکن نہیں۔ مشاہدے کے مطابق سارس کو وی ٹو اپنی سطح پر نکلی ہوئی سپائک کی بدولت انسانی خلیے کو جکڑ کر اس میں داخل ہوجاتا ہے۔ لیکن جب سائنسدانوں نے اس کو کمپیوٹر میں بنانے کی کوشش کی تو وہ ناکام رہے۔ اگر سائنسدانوں نے یہ وائرس بنایا ہوتا تو ایسی میوٹیشنز کا انتخاب کیا جاتا جو کمپیوٹر ماڈلز پر کام کرتیں۔ چنانچہ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اسے جینیٹک انجینئرنگ سے بنانا ممکن نہیں۔
ماہر امراض انفیکشن ڈاکٹر فہیم یونس کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کو لیبارٹری میں تیار کرنے کا کوئی امکان نہیں۔ کورونا وائرس کی چھ اقسام پہلے سے موجود تھیں۔ یہ ساتواں کورونا وائرس ہے جس پر کوئی نشان موجود نہیں کہ یہ لیبارٹی میں بنایا گیا ہو۔ لیبارٹری میں بنائے گئے وائرس پر انسان کے فنگر پرنٹس آجاتے ہیں۔ کورونا وائرس میں اب تک ایسے کوئی شواہد نہیں ملے۔
 اس بات کا خدشہ اور امکان موجود ہے کہ کورونا وائرس کو عالمی طاقتوں نے مخالف ممالک کے لئے بائیولوجیکل ہتھیار کے طور پر تیار کیا ہو۔ لیکن کورونا وائرس اس وقت بائیولوجیکل ہتھیار سے نکل کر انسانی المیے کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ دنیا بھر میں ہر رنگ و نسل، مذہب و قوم اور علاقے کے انسانوں کو تیزی سے نشانہ بنارہا ہے۔ اس وقت ہر انسان چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب و قوم سے ہے، کسی بھی خطے اور علاقے سے ہے، کسی بھی رنگ، نسل و زبان سے ہے۔ کورونا وائرس کو قدرتی وبا کے طور پر دیکھے اور اس کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کرے۔ تمام انسانوں کو چاہئے کہ وہ ماہرین صحت کی طرف سے بتائی گئی احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔ 

 


افکار و نظریات: کرونا وائرس