اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات کرونا اور اوریا کا رونا تحریر: ناصر رینگچن اوریا مقبول جان کا ایک ویڈیو کلپ سننے کو ملا ، وہ کرونا وائرس کی آڑ میں بھنے جا رہے تھے۔ وہ کرونا وائرس کے بارے میں اپنا ایک من گھڑت فلسفہ پیش کر رہے تھے، ان کہنا تھا کہ اسلامی ممالک میں ایران واحد ملک ہے جو اس قدر متاثر ہوا ہے، ایران کیوں متاثر ہوا ہے اس کے لئے بھی اپنی من پسند وجوہات بیان کر رہے ہیں، پھر انہوں نے اپنا اصلی دکھ بیان کرنا شروع کر دیا، وہ پھٹ پڑے کہ ایران نے افغانستان میں طالبان کی حکومت ختم کروائی اور عراق، شام اور لبنان میں اپنا کردار ادا کیا وغیرہ وغيره۔۔ امریکہ جو اپنے آپ کو دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا چئمپین تصور کرتا تھا داعش کے خلاف فیک جنگ کا ڈھنڈورا پیٹ نے لگا اور ساری دنیا اس بات کی گواہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کے باوجود داعش نے آدھے عراق پر اپنا تسلت قائم کیا تھا اور بڑی تیزی کے ساتھ دوسرے علاقوں پر قابض ہو رہے تھے۔ انہوں نے اسلام کے نام پر جو دہشت گردی پھیلائی شاید اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، انہوں نے حلال محمدی کو حرام اور حرام محمدی کو حلال کر دیا، ان کے ستم سے بچوں سے لیکر بزرگ، خواتین کوئی بچ نہیں پایا اور سادی دنیا میں اسلام کو مسخ کر کے رکھ دیا۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو

پہلی بات تو یہ ہے کہ کوئی صاحب اوریا مقبول جان صاحب کو یہ سمجھا دیں کہ یہ جو کورونا وائرس ہے یہ اوریا صاحب کے اندر موجود فرقہ پرستی والے وائرس سے بہت مختلف ہے۔ کورونا وائرس آپ کی طرح تعصب اور بغض کا لبادہ اوڑھ کر کسی خاص فرقے، نسل یا قوم کو ٹارگٹ نہیں کرتا۔ یہ ایک بیماری ہے جو کسی کو بھی لائق ہوسکتی ہے۔ اگر کوئی احتیاطی تدابیر پرعمل نہیں کرے گا تو اس وائرس نے اثر کرنا ہے۔ آپ کی انفارمیشن کے لئے عرض کرتا چلوں کہ اس وقت ایران آٹھویں نمبر پہ ہے اور ایران میں تیزی سے وائرس پر قابو پایا جا رہا ہے اور احتمال ہے کہ آئندہ ایک دو ہفتوں میں حالات معمول پر آجاَئے۔
دوسری بات انہوں نے افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف امریکہ کا ساتھ دینے کا کہا ہے یہ بھی سراسر جھوٹ ہے اور تاریخی حقائق کو توڑ موڑ کے پیش کیا گیا ہے۔ مختصرا یہ کہ انقلاب اسلامی کے بعد سے اب تک امریکہ، برطانیہ سے ایران کے تعلقات خراب ہے جس کی تاریخ گواہ ہے، کیونکہ انقلاب سے پہلے ایران میں رضا شاہ کی حکومت تھی جو ایک طرح سے امریکہ کا چوکیدار تھا بلا چون چراں امریکہ کی ہر بات کو تسلیم کرتا تھا مگر انقلاب اسلامی نے عالمی طاقتوں کے ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھائی اور دنیا کے مظلوموں اور مستضعفین کا ساتھ دیا جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو کسی طرح قبول نہیں تھا۔
یوں ایران پر عراق جنگ مسلط کر دی گئی۔ اس کے بعد پابندیوں کا نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا حتی اس وقت کورونا کے اس وبائی مرض سے لڑنے کے لئے ایران کو جو میڈیکل ایکوپمنٹس کی ضرورت ہیں اس پر بھی پابندیاں لگا دی گئی ہیں جو سراسر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ پھر بھی ایران، عراق جنگ سے لیکر کورونا جنگ تک اپنے بل بوتے پر لڑ رہا ہے اور دشمنان اسلام سے ڈٹ کر مقابلہ بھی جاری ہے۔
اب بھلا ایران اپنے سب سے بڑے دشمن کے ساتھ مل کر افغانستان میں مسلمانوں کا قتل عام کیوں کرے گا؟؟ آپ ایک دفعہ تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں طالبان حکومت سے لیکر آج تک افغان ایران باڈر پر زرہ برابر بھی کوئی نوک جھونک نہیں ہوئی اس کے برعکس پاک افغان پاڈر پر نگاہ ڈالیں جہاں آئے روز کشیدگی کی اطلاعات ہیں۔ یہ انہوں نے امریکہ کا ساتھ دیکر نہیں کیا بلکہ ان کی بہترین حکمت عملی تھی کہ اپنے سرحدوں کو محفوظ رکھا۔ جس کی وجہ سے طالبان حکومت کو ایران کے ساتھ اپنے نظریاتی اختلافات کے باوجود کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ ایران نے طالبانی حکومت کو تسلیم کیا ہو، ایران طالبانی فکر کے مخالف تھے اور اب بھی ہیں بلکہ دنیا کا ہر باشعور فرد طالبانی طرز حکومت کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ طالبان امریکہ کا ہی پرجکٹس تھا جس کو اس نے اپنے مقاصد کی خاطر پروان چڑھایا اور افغانستان پر مسلط کیا تھا۔
اس کے علاوہ طالبان نے اسلام کے نام پر اپنی من پسند کے قوانین نافظ کئے تھے جن کا اسلام محمدی سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا، بلکہ طالبانی حکومت نے اسلام کے حقیقی چہرہ کو مسخ کر کے پیش کیا جس سے اسلام اور مسلمانوں کو کاری ضرب لگی۔ پھر بھی وقتا فوقتا طالبان ایران سے مدد بھی طلب کرتے رہے ہیں اور حال ہی میں طالبان کے وفد نے ایران کا دورہ بھی کیا۔ اب طالبان کا دورہ ایران سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایران نے امریکہ کی افغان جنگ میں کوئی مدد نہیں کی تھی بلکہ دوسرے اسلامی ممالک جنہوں نے طالبان کو پروان چڑھانے میں مدد کی تھی انہوں نے امریکہ کا کھول کر ساتھ دیا تھا۔
تیسری بات اوریا مقبول جان صاحب نے عراق، شام اور لبنان میں مسلمانوں کے قتل و عام کا الزام بھی ایران پر لگایا ہے جو صد در صد حقیقت کے منافی ہیں۔ پہلے ہم عراق کی بات کرتے ہیں، انقلاب اسلامی کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے صدام کے زریعے ایران پر جنگ مسلت کی جو تقریبا آٹھ سال جاری رہا اور دونوں طرف لاکھوں لوگ اس جنگ کے نظر ہوئے یہاں تک کہ جس طرح امریکہ نے طالبان کو استعمال کرنےکے بعد افغان وار شروع کیا تھا بلکل اسی طرح عراقی صدر صدام حسین کو بھی ٹیشو پیپر کی طرح استعمال کرنے کے بعد ۲۰۰۳ میں کیمائیائی ہتھیاروں کے بہانے عراق پر حملہ آور ہوئے۔
امریکی حملے کا مقصد عراقی قدرتی وسائل تیل و گیس وغیرہ پر قبضہ کرنا اور ایران کا گیرا تنگ کرنا تھا۔ ساری دنیا نے ایک دفعہ پھر عراق جنگ میں بھی امریکہ کا ساتھ دیا سوائے ایران کے جس نے نہ صرف اس جنگ کی مخالفت کی بلکہ عراقی عوام کی بھر پور مدد بھی کی۔ صدام حکومت کو ختم کرنے کے بعد امریکہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ عراق میں کوئی جمہوری اور عوامی مظبوط حکومت بنے کیونکہ اگر عراق میں کوئی مظبوط حکومت بنتی تھی تو یہ امریکہ کے لئے خطرے کی گھنٹی تھی اور امریکہ کے پاس کوئی جواز نہیں بچتا تھا کہ وہ عراق میں مزید قیام کریں۔
لہذا امریکہ نے طالبانی تجربہ کو دھراتے ہوئے اُسی طالبانی زہنیت کے ایک نئے گروہ کو ترتیب دیا تاکہ یہ عراق میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کرے اور عراق کو مختلف حصوں میں تقسیم کریں اور امریکہ کو یہاں رہنے کا جواز پیدا کریں، یہ نئے گروہ اس قدر شددت پسند تھے کہ دنیا طالبان اور القاعدہ کو بھول گئی اور یہ گروہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی پشت پناہی میں داعش یا آئی ایس آئی ایس کے نام سے عراق اور پھر شام کے سر زمین پر ابھرے ان کی وحشت گری نے ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔
داعش بڑی تیزی کے ساتھ ابھر رہے تھے اور انہوں نے عراق کے ساتھ ساتھ شام میں بھی اپنے قدم جمانے شروع کر دئے تھے، داعش کے اس قدر طاقتور ہونے کے پیچھے امریکہ و اسرائیل کے اتحادیوں کا ہاتھ تھا جنہوں نے ظاہری طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کا جھنڈا تھاما تھا اور پشت پردہ دہشت گردوں کی ھر طرح سے سپورٹ کر رہے تھے۔
ان حالات میں عراق و شام کی حکومت اور عوام کو کسی ایسے طاقت کی ضرورت تھی جو بیک وقت امریکہ اور داعش جیسے لعنت سے مقابلہ کر سکے۔ لہذا عراق و شام کو انقلاب اسلامی ایران کے علاوہ کوئی اور ملک نظر نہیں آیا جو اس مشکل کی گھڑی میں مسلمانوں کی مدد کر سکے، انہوں نے باقاعدہ رسمی طور پر ایران کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد کی اپیل کی [عراق اور شام کے صدور نے ایران کو رسمی طور دعوت دینے کا کئی دفعہ اعتراف کر چکے ہے] کی یوں ایران نے اپنے بہترین جنگی مشاورین کو شام اور عراق کی طرف بھیجا جنہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے چار سے پانچ سال کے قلیل عرصے میں نہ صرف داعش کا خاتمہ کیا بلکہ غاصب امریکہ کا مشرق وسطی اور عرب ممالک میں جینا حرام کر دیا اور امریکی مقاصد کو خاق میں ملا دیا۔
تیسری بات لبنان کی جہاں حزب اللہ نے اسرائیل کو جنوبی لبنان سے نکال باہر پھینکا ہے اور غاصب صہونیوں کے مقابلے میں ایران نے حزب اللہ کی مدد کی ہے جو جناب اوریا مقبول جان کو پسند نہیں ہے کیونکہ حزب اللہ نے ان کے آقا اسرائیل کی نیندیں حرام کردی ہیں، اب اسرائیلوں کو نکال باہر کرنے کو جناب اوریا مقبول جان مسلمانوں کا لبنان میں قتل عام کہتے ہیں اور داعش کی شر سے عراقی اور شامی عوام کو نجات دینے اور اسلام کی حفاظت کرنے کو عراق، شام میں قتل عام کہتے ہیں۔
یاد رہیں فلسطین جہاں پر مسلمانوں کا قبلہ اول ہے وہاں کے مزاحمتی تحریکیں جن میں سرفہرست حماس ہے جو مسلکی طور پر سنی مسلمان ہیں ان کو سب سے ذیادہ مدد کرنے والا حزب اللہ اور ایران ہے۔ اگر آپ کو یقین نہ آتا تو حماس اور دوسرے فلسطینی تحریکوں کے بیانات کو دیکھیں جو ایران اور حزب اللہ کے حوالے سے دی گئی ہیں۔ فلسطین کے حوالے سے سعودی عرب کے مدد کا طریقہ کار بھی نرالا ہے جس طرح اوریا مقبول جان غاصب صہونیوں اور عالمی ظالموں کے خلاف قیام کرنے والے مظلومین کے خلاف قلم اور زبان سے جہاد کرتے ہیں اسی طرح سعودی عرب بھی عملی میدان میں مصروف عمل ہے، جس کی چھوٹی مثال سعودی عرب میں قید حماس کے رہنماء اور مالی مدد کرنے والے لوگ ہیں جن کو اسرائیل کے اشارہ پر قید کر دیا گیا ہے لیکن مجال ہے اس حوالے سے اوریا مقبول جان صاحب کے قلم اٹھے۔
آج اگر ساری دنیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی کو ہیرو مانتے ہیں تو وہ ایران کے القدس کے کمانڈر شہید قاسم سلیمانی ہیں، جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا خون کا آخری قطرہ بھی عراقی سرزمین پر گرادیا اور اگر انہوں نے واقعا عراق، شام اور لبنان میں مسلمانوں کا قتل عام کیا ہوتا تو ان کی شہادت کے موقع پر لبنان سے لیکر عراق تک لوگ ان کی تصاویر اٹھا کر سڑکوں پر نہیں نکلتے اور ساری دنیا میں ہلچل نہیں مچتی۔ دہشت گردی کے خلاف قاسم سلیمانی اور ایران کے کردار کو اس وقت ساری دنیا خراج تحسین پیش کرتے ہیں سوائے چند تکفیریوں کے جو اپنے مفادات کی خاطر نہ صرف اسلام کو بدنام کرتے ہیں بلکہ جو لوگ اسلام کی دفاع میں میدان میں حاضر ہیں ان کے خلاف بھی پروپگینڈا کرتے ہیں اور عام عوام کے ذہنوں کو خراب کرتے ہیں۔
جناب اوریا مقبول جان کے اکثر کالم اور ٹاک شوز کو دیکھیں یہ ہمیشہ تکفیری نظریات کی پرچار اور حمایت کرتے نظر آتے ہیں، انہوں نے کبھی بھی حماس اور دوسرے مجاہدین جو اسرائیل اور امریکہ کے خلاف بر سرپیکار ہیں کا کبھی ذکر نہیں کرتے۔ ان کو ہمیشہ طالبان، القاعدہ یا داعش ہی اسلام کے محافظ نظر آتے ہیں جنہوں نے صرف اور صرف اسلام کو بدنام کیا ہے اور اسلام کی حرمت کو پامال کیا ہے، مسجدوں اور اصحاب رسول ص کے مزاروں کو دھماکوں سے اڑایا ہے اور مسلمانوں کا قتل و عام کیا ہے، خواتین کی عصمت دری کی ہے اور بچوں کو زبح کیا ہے اور ہمیشہ امریکہ اور اسرائیل کے وفادار رہے ہیں۔ اوریا مقبول جان صاحب نے ہمیشہ تاریخی حقائق سے لیکر عصر حاضر کے حالات سب کو ایک ہی سوچ اور عینک سے دیکھا ہے اور کبھی سچائی کو سجھنے اور قبول کرنے کی کوشش نہیں کی۔
مختصر یہ کہ اس ایک چھوٹے سے مقالے میں اوریا مقبول جان کی تکفیری نظریات کو بیان نہیں کرسکتا، ناہی ان کے رول ماڈل طالبان، القاعدہ اور داعش وغیرہ کی حقیقت کو بیان کرسکتا ہوں، اور ناہی امریکہ، اسرائیل کے خلاف اور عالم اسلام کی دفاع کے لئے ایران اور مقاومتی بلاک کے کردار کو بیان کرسکتا ہوں۔ میں نے بس مختصرا کچھ حقائق کی جانب اشارہ کیا ہے۔ ہمیں چاہئے ہمیشہ چار انگلیوں کے فرق کو سمجھیں اور اس فارمولے کو اپنائیں ہمارے کانوں اور آنکھوں کے درمیان چار انگلیوں کا فرق ہے جو آنکھوں سے دیکھیں وہ حقیقت ہے اور جو کانوں سے سنیں اُس پر تحقیق لازم ہے لہذا اس میڈیا وار میں ہمیشہ حقیقت کو جاننے کی کوشش کریں۔
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں