میرے عزیز ہم وطنو!

محمد جمال
مردانہ کمزوری کا علاج تو ہمارے ہاں بکثرت کیا جاتا ہے،  کسی بھی حکیم کے تھیلے میں کچھ اور ہو یا نہ ہو مردانہ طاقت کے کشتے ضرور ہوتے ہیں، لیکن عوام کی سیاسی کمزوری کا علاج کسی کو نہیں سوجھتا۔ کہا جاتا ہے کہ 1999  میں  برطانیہ سے  چند ارکان پارلیمنٹ نے  پاکستان کا دورہ کیا۔۔ ایک ہوٹل میں دیئے گئے عشائیے میں کھانے کی میز پر ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ  اس خطے پر آپ لوگوں کی بہت عرصہ حکومت رہی ۔ ہمارا فوجی نظام بھی خالصتاً  برطانوی ہے۔لیکن برطانیہ میں فوج صرف   جنگ اور  بارڈر تک  محدود ہے جب کے پاکستان  میں سیاست کے ایوانوں میں  پوری طرح  شریک ہے۔ ۔ تو آپ کے پاس ایسا کیا جادو ہے کہ فوج اپنے آئینی حدود میں ہے؟  
ان سب نے سوال  بہت غور سے سنا اور پھر ایک رکن مسکرا کر بولے: برطانیہ میں سیاسی جماعتیں اورعوام بہت مضبوط ہیں اس لیئے ہم نے کبھی خطرہ ہی محسوس نہیں کیا کہ فوج سیاست میں آ گھسے۔۔
سیاسی جماعتوں کی بات کر لی جائے تو برطانیہ میں سیاست اشخاص کی بجائے پارٹیوں کے ہاتھ میں ہے یعنی کہ اگر صف اول کے چند رہنما  غائب ہو جائیں تب بھی وہاں  نظام تباہ نہیں ہوتا۔۔ اگر وطن ِ عزیز کی بات کر لی جائے تو یہاں الٹی گنگا بہتی ہے ۔۔ یہاں سیاست  پارٹیوں کی بجائے اشخاص کے ہا تھوں میں ہے ۔۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی پارٹی کا ایک رہنما پکڑا جائے تو خبریں آنے لگ جاتی ہیں کہ جمہوریت کو خطرہ ہے۔۔یوں جمہوریت کو خطرہ ہے یہ نعرہ لگا کر وہ سیاسی پارٹی ریاستی اداروں کو پیغام دے رہی ہوتی ہے کہ تیار رہیے گا کہ آپ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔۔
پاکستان میں آپ نے کسی بھی حکومت کی مضبوطی کا جو فارمولا سنا ہو گا وہ یہ  ہے کہ حکومت فوج کو ساتھ لے کر چلے۔۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ پاکستان میں اکثر لیڈران نے  اپنے ادوار  حکومت میں فوج کو صرف اس لیے شامل اقتدار  کر لیا  تا کہ ان کی حکومت مضبوط رہے۔۔اس کی ابتداء اسکندر مرزا نے رکھی جب انہوں نے اپنے قریبی دوست جنرل ایوب خان کو شامل اقتدار کر لیا  اور  لمبے عرصے تک حکومت کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔۔ جب ایوب خان کو پتا چلا کہ ان کے بل بوتے پہ ہی اسکندر مرزا اقتدار میں ہیں تو ایوب خان نے اسکندر مرزا کو نکال باہر کیا اور اقتدار کو جا  چپکے۔۔ یوں جمہوریت کی جگہ میرے عزیز ہم وطنو! نے لی۔۔
سیاست میں  بار بار  فوجی مداخلت کے پیچھے بھی سیاسی پارٹیوں کاہاتھ ہے۔۔ آپ پاکستان کی سیاسی تاریخ اٹھا کر دیکھ جب بھی کسی فوجی آمر نے مارشل لاء لگایا تو اس کو نا صرف اس وقت کی اپوزیشن پارٹیوں نے سپورٹ کیا بلکہ  ڈکٹیٹزز نے سیاستدانوں کو ساتھ  ملا کر لمبا عرصہ حکومت کی ۔تاریخ کا یہ ریکارڈ بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ پاکستان کی صف اول کی سیاسی پارٹیوں جن میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی شامل ہیں ،  انہوں نے بھی فوجی ڈکٹیٹر کی کوکھ سے جنم لیا۔۔ پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کی کابنیہ میں رہے اور ساتھ ہی انہیں ڈیڈی بھی کہتے تھے۔۔ اسی طرح ن لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف نے کو بھی ضیاءالحق نے پروموٹ کیا۔۔
اگر عوام کی بات کر لی جائے تو ہماری عوام سیاست   میں دلچسپی ہی نہیں لیتی ۔۔ عوام کو کبھی اس بات سے غرض نہیں رہی کہ کون ان پر حکومت کرتا ہے۔۔ ہاں یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ عوام کو نئے نئے  چہرے  دیکھنے کا شوق ہے۔ لہذا لوٹے پارٹیاں بدلتے ہی رہتے ہیں،  ہمیشہ کچھ ہی عرصے بعد عوام کو خیال آ جاتا ہے کہ پہلی والی حکومت اس سے اچھی تھی ۔۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کو خالص جمہوریت پسند نہیں آتی اس لیئے تھوڑے تھوڑے عرصہ بعد  عوام  فوجی حکومت  کا تڑکا مانگتی رہتی ہے ۔۔ اس لیئے فوج جب  بھی اور جیسے بھی حکومت میں آتی ہے تو عوام اسے خوش آمدید کہتی ہے۔۔ آپ ابھی کسی بازار میں چلے جائیں ،عوام سے پو چھ لیں لوگ آپ کو     آج تک کی حکومتوں میں فوجی حکومتوں سےخوش نظر آئیں گے۔۔
جب بھی فوج اقتدار میں آئی  اسے اگر کچھ تھوڑا بہت ڈر تھا تو وہ  عدلیہ سے تھا ۔۔ لیکن جمہوریت بچانے کی یہ آخری  خواہش ہمیشہ دم توڑ جاتی۔۔ کبھی  نظریہ  ضرورت نے  تو کبھی پی ۔سی۔او کے تحت  حلف نے  فوجی حکومت کو راستہ دیے رکھا۔۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ  فوج اپنے آئینی حدود میں رہے تو سیاسی پارٹیوں کو اس بات پر متفق ہو نا پڑے گا کہ جو بھی جمہوری حکومت  برسراقتدار آئےتمام پارٹیاں اسے  آئینی مدت پوری کرنے دیں اور کوئی بھی پارٹی غیر جمہوری عناصر کا آلہ کارنہ بنے۔۔ 
ساتھ ہی عوام کی بھی اس بات کا شعور دینا ہو گا کہ ان کے اپنے منتخب نمائندے ہی ان پر حکومت کریں اور وہ کسی کو بھی اجازت نہ دیں کہ وہ سب کچھ پھلانگ کر حکومت میں جا بیٹھے ۔۔ اگر ایسا نہ کیا گیا  تو ہم ہمیشہ  سیاست کے ایوانوں میں میرے عزیز ہم وطنو کا نعرہ سنتے رہیں گے۔۔

 

 


افکار و نظریات: میرے عزیز ہم وطنو