منفردصحافی اور لکھاری

سخاوت خان سدوزئی،جموں کشمیر

مجھے ایک قلمکار نے چونکا دیا، اس نے بتایا کہ میں برسوں سے اسپتال میں آنے والے مختلف امراض کے مریضوں کا علاج لکھتا ہوں۔

استفسارکیاجناب لکھاری اور ڈاکٹر میں تفاوت ضرور ہے۔اگرچہ ہر لکھاری ڈاکٹر نہیں ہوسکتا اور ہر ڈاکٹر لکھاری نہیں ہوسکتا۔وضاحت فرما دیں۔

وہ بولے،میں مریضوں کے لیے روزانہ کالم لکھتا ہوں،ان سے ان کا احوال پوچھتا ہوں،ان کا فن جانتا ہوں، ان کی کونسلنگ کرتا ہوں بہت جلد آپ کو گھر بھیج دیا جائے گا۔،اخبار میں شائع کرواتا ہوں صبح اٹھ کر خود قریبی اسپتال میں جاکر انھیں تقسیم کر آتا ہوں۔میں کچھ ایسے موضوعات بنا کر لکھتا ہوں۔

آپ بالکل ٹھیک ہیں،آپ بہت کچھ کرسکتے ہیں،آپ کو یہ فن خدا نے عطا کیاہے،آپ اس کو گھر جاتے ہی دوبارہ شروع کریں گے،آپ دوسروں کی مدد کرنے میں کردار ادا کریں گے،آپ خدا کے حضور دعا بھی کریں گے،اس سے رجوع کرکے مدد بھی مانگیں گے۔میں مریضوں کو خوشنما کائنات دکھاتا ہوں،قدرت کے کرشمے دکھاتا ہوں جو اس نے بنی نوع انسان کو عطا کیے،میں اخبار،ٹی وی اور سوشل میڈیا پر امدادی سرگرمیوں کی خبریں دیکر اپنی ٹیم بڑھانے کی کوشش کرتا ہوں۔

میں اموات اورجان لیوا بیماریوں کے مریضوں کی تعداد بتا کر دوسروں کے سامنے سب سے باخبر بننے کی کوشش نہیں کرتا۔اس سے مجھے الجھن ہے کہ لوگ یہ کہیں اس کو سب پتہ ہے جیسا کہ آجکل کمپنی کی  مشہوری کے لیے منفی خبریں چلا چلا کر جواز یہ فراہم کرتے ہیں کہ صحافتی اصول ہیں۔دنیا بھر میں اموات ہوتی ہیں لوگوں کو ذہنی مریض نہیں بنایا جاتا۔میں مریضوں سے کہتا ہوں پہلے قرآن حکیم کو بہترین معالج سمجھ لیں آپ کی تمام پریشانیاں دور کرے گا۔ساتھ  دوا بھی کھائیں۔ذکر خدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اس دوا کو پر اثر بنا دیں گے۔آپ کوکوئی تکلیف اس کے بعد نہیں ہوگی۔شفاء خدا عطا کرتا ہے۔بوسیلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم درود شریف کی کثرت کرنے کی تلقین بھی کرتا ہوں۔میں انھیں رضاکارانہ تسبیح کائونٹر بھی دیتا ہوں کہ "دلوں کی راحت اور سکون" ذکر الہی اور درود وسلام نبی کریم صلی اللہ علیہ کے ذریعے ملتی ہے۔ تمام توجہ کائونٹر پر رکھ کر درود شریف کی کثرت کریں۔

میں مریضوں سے یہ نہیں کہتا آپ ٹھیک ہوجائیں گے۔یہ جملہ مریض کو مزید پریشان کردیتا ہے۔میں یہ کہتا ہوں ماشاء اللہ آپ ٹھیک ہیں۔جلد آپ کام کاج کی طرف نکلیں گے۔پلیز پلیز میری آپ سے بھی گزارش ہے مریض کی کونسلنگ کرنے کی پوری کوشش کریں ۔بیماری سے توجہ ہٹائیں قدرت کے کرشموں،قرآن حکیم اور درود شریف کی طرف لائیں۔ان میں مخلوق خدا کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا کریں۔یقینا ان کی تکلیف کم ہوگی اور آپ کا بھی خدا بھلا کرے گا۔میں ان کی سبق آموز باتیں اختصار کے ساتھ بیان کرپایا۔پوری توجہ سے سنیں اور انکا شکریہ ادا کیا۔

ایسے قلمکار بھی تو معاشرے میں پائے جاتے ہیں۔ جو معاشرے میں مثبت سوچتے،لکھتے اور بولتے ہیں۔

 

 


افکار و نظریات: منفردصحافی اور لکھاری