دوسروں کی قدر کیجئے!

عارف حسین عارف
انسانی اقدار کو  اہمیت دیجئے،  منزل مقصود تک اقدار ہی پہنچاتی ہیں۔ قدر کیجئے ان اقدار کی ،  ان اقدار کیلئے ہمیں ایک دوسرے کا معاون و مددگار  بننا ہوگا ۔ ارشاد پروردگار ہے کہ تم بہترین امت ہو جو لوگوں (کی اصلاح) کے لیے پیدا کیے گئے ہو تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو."۱
بہترین امت بننے کیلئے ہمت کی ضرورت ہے۔ امام علی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ  انسان کی جتنی ہمت ہو اتنی ہی اس کی قدر و قیمت ہے اور جتنی مروت اور جوانمردی ہو گی اتنی ہی راست گوئی ہو گی ،اور جتنی حمیت و خود داری ہو گی اتنی ہی شجاعت ہو گی اور جتنی غیرت ہو گی اتنی ہی پاک دامنی ہو گی۔" ۲
 خداوند کریم  کا ارشاد ہے: 
یاد رکھو!نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور زیادتی (کے کاموں) میں ایک دوسرے سے تعاون نہ کیا کرو اور اللہ سے ڈرو، اللہ کا عذاب یقینا بہت سخت ہے۔"۳
امیر کائنات انسان کی قدرو قیمت کے بارے میں فرماتے ہیں: *"قِیمَةُ کُلِّ امْرِئٍ مَا یُحْسِنُهُ  ہر شخص کی قیمت وہ ہنر ہے جو اس شخص میں موجود ہے۔"۴
انسان کی حقیقی قیمت اس کا جوہرِ علم و کمال ہے۔وہ علم و کمال کی جس بلندی پر فائز ہو گا ،اسی کے مطابق اس کی قدر و منزلت ہو گی چنانچہ جوہر شناس نگاہیں شکل و صورت ، قدو قامت اور ظاہری جاہ و حشم  کو نہیں دیکھتیں بلکہ انسان کے ہنر کو دیکھتی ہیں اور اسی ہنر کے لحاظ سے اس کی قیمت و ارزش کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ انسان کو کسبِ فضائل اور تحصیل علم و دانش میں جدوجہد کرنی چاہیے۔
لیکن اکثر لوگ جب پرانے دوستوں سے ملتے ہیں۔ جو بڑے عہدوں پر پہنچ چکے ہوتے ہیں تو اُن کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ہماری یہ عادت ہے۔ دوسروں کے کاموں کو نظر انداز کرنا اور اچھے کام کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرناوغیرہ۔۔۔ 
اسکی بنیادی وجوہات میں سے خود پسندی سرفہرست ہے۔ چنانچہ ایسے لوگوں کے بارے میں امام علیہ السلام فرماتے ہیں۔ *"وَ مَنْ رَضِیَ عَنْ نَفْسِهِ کَثُرَ السَّاخِطُ عَلَیْهِ*  جو شخص اپنے نفس کو بہت پسند کرتا ہے وہ دوسروں کو ناپسند ہو جاتا ہے۔"۵ 
امام علی علیہ السلام نے اس حدیث میں خود پسندی سے پیدا ہونے والے نتائج و اثرات کا ذکر کیا ہے کہ اس سے دوسروں کے دلوں میں نفرت و حقارت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔چنانچہ جو شخص اپنی ذات کو نمایاں کرنے کے لئے بات بات میں اپنی برتری کا مظاہر ہ کرتا ہے انکو کبھی عزت و احترام کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ۔ اور لو گ اس کی تفوق پسندانہ ذہنیت کو دیکھتے ہوئے اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں ۔ 

اس طرح کے لوگوں کی سرزنش کے لیے امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں : *ازْجُرِ الْمُسِی‏ءَ بِثَوَابِ الْمُحْسِنِ* بد کار کی سر زنش نیک کو اس کا بدلہ دے کر کرو۔۶
مطلب یہ ہے کہ اچھوں کو ان کی حسن کارکردگی کا پورا پورا صلہ دینا چاہئیے اور ان کے اچھے کارناموں کی بنا پر ان کی قدر افزائی بھی۔ تاکہ برے لوگ برائ کو چھوڑ اچھائی کی راہ پر آسکے۔ اور یہ چیز اخلاقی مواعظ اور تنبیہ و سرزنش سے زیادہ موثر ثابت ہوتی ہے کیونکہ انسان طبعتاً ان چیزوں کی جانب رغبت رکھتا ہے۔  جس کے نتیجے میں اسے بےشمار ثمرات حاصل ہوتے ہیں۔  اور اس کے کانوں میں مدح و تحسین کے ترانے گونجتے ہیں۔ 
پس خلاصہ یہ ہے کہ دوسروں کی قدر کرنا سیکھئے۔ دوسروں کی قدر کرنے کیلئے ہمت چاہیے۔ جو آدمی اپنی چیزوں، پیسوں،  اپنے خاندان، اولاد، اپنے گھر ، استاد ،دوستوں اور اللہ کی طرف سےملنے ولی دیگر نعمات کی قدر نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کو چھین لیتا ہے۔ جو آدمی چھوٹی چھوٹی چیزوں کو اہمیت دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس میں بر کت ڈال دیتا ہے۔ ہم اس بات کی بہت کوشش کرتے ہیں کہ جو ہمارے پاس نہیں ہے، وہ ہمیں مل جائے۔ لیکن، ہمارے پاس اللہ کا دیا پہلے سے جو کچھ ہے، نہ تو ہم اس پر  شکر گزار ہوتے ہیں اور نہ اس کی قدر کرتے ہیں۔

1۔ آل عمران 110
2۔ کلمات قصار 47
3۔ المائدہ 2 
4۔ کلمات قصار 81
5۔  کلمات قصار 6
6۔ کلمات قصار 177

 


افکار و نظریات: دوسروں کی قدر کیجئے