اورسیز پاکستانیوں کی فریاد
جہانزیب خان  ہانگ کانگ


دوسروں سے مانگنا آسان ہے، خود اپنی جیب سے دینا مشکل ہے، پہلے اپنی جیب سے ایثار کی  ابتدا کی جانی چاہیے۔ عوام کو پتہ چلنا چاہیے کہ محترم عمران خان صاحب اور ان کے اسمبلی  ممبران نے اس کرونا وائرس کے دوران جمع کیئے جانے والے فنڈ میں خود کتنا حصّہ ڈالا ہے۔
عوام جاننا چاہتے ہیں کہ  پاکستان کے بڑے بڑے امیروں، جاگیرداروں ،پراپرٹی ٹائیکونز ،صنعتی داروں اور ہر حال میں حکومت وقت سے فائدہ اُٹھانے والوں نے وزیراعظم کی آواز پہ لبیک کہتے ہوئے غریب عوام کے لئے کچھ دیا بھی ہے یا نہیں؟
وزیراعظم  کے نئے مشیر جناب بابر اعوان صاحب نے سب پیسے والوں کے نام گنوائے، آل شریف اور آل زرداری کی دولت اور لوٹ کھسوٹ کا ذکر کیا کہ اس مشکل وقت میں عوام کے لئے کچھ نہیں کررہے لیکن اپنی جیب سے کچھ بھی اعلان نہیں کیا !
کیا تمام اسمبلیوں اور سینٹ کے ممبران اور مشیروں اور وزیروں کی تنخواہیں اور خرچے جو قومی خزانے سے اربوں روپے ماہانہ بنتے ہیں روک دئیے گئے ہیں؟
کیا وزیراعظم اور صدر پاکستان کے جو لاکھوں روپے ہر ماہ کچن کے اخراجات ہیں وہ ختم ہوگئے ہیں ؟
پاکستان پہ ہر آفت کے وقت بیرون ملک پاکستانی ہر حکومت کو یاد آجاتے ہیں ،وہ قرض اُتارو ملک سنوارو ہو ،وہ زلزلہ فنڈ ہو ،وہ سیلاب فنڈ ہو ،وہ ڈیم فنڈ ہو ،وہ کرونا وائرس فنڈ ہو ،ہر دفعہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے ہی قربانی مانگی جاتی ہے لیکن اس کے بدلے ہر سال اربوں ڈالر زرمبادلہ کماکر بھیجنے والے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو حکومت پاکستان سے کوئ فائدہ نہیں دیا جاتا، حتی کہ پی ٹی آئی حکومت نے تو ایک موبائل فون جو ذاتی استعمال کے لئے ہو لانے پر بھی ٹیکس لاگو کردیا ہے ،پاکستانی ائیرپورٹس پہ امیگریشن حکام ، کسٹم حکام کا رویہ ملک واپس آنے والے پاکستانیوں سے انتہائی گھٹیا اور سلوک مجرموں جیسا ہوتا ہے ۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جائیدادوں پہ قبضے ہورہے ہیں اور کسی عدالت میں یا کسی محکمے میں فوری انصاف نہیں بلکہ اُلٹا کیسوں کو لٹکایا جاتا ہے تاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی بغیر فیصلے کے واپس چلے جائیں یا مجبور ہوکر آدھی قیمت پہ جائیداد بیچ کر چلے جائیں۔
اس وقت ملک کے اکثر پسماندہ علاقوں میں بینکوں کی برانچیں بند ہیں اور باہر سے امداد کے لئےآنے والی رقوم کی وصولی میں بھی غریبوں کو مشکلات پیش آرہی ہیں ،دوسرے ملکوں کے بیرون  ملک مقیم لوگوں کو تھوڑی اماؤنٹ بھیجنے پہ ٹیکس معاف ہوتا ہے لیکن پاکستان کو 200 یوایس سے کم بھیجنے پہ ڈبل ٹیکس دینا پڑتا ہے، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت پاکستان کم تنخواہ والے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا بے دردی سے لہو چوستی  ہے  اور امیروں کو زیادہ رقم بھیجنے پر ٹیکس میں چھوٹ دیتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے خاندان کے لئے قربانی دیں،حکومت کے لئے قربانی دیں،محکموں سے انصاف حاصل کرنے کے لئے قربانی دیں،پراپرٹی مافیا کے لئے قربانی دیں،ملک واپس آئیں تو مجبوری ،واپس نہ آئیں تو مرضی لیکن قربانیاں ضروری ۔

 

 


افکار و نظریات: اورسیز پاکستانیوں کی فریاد